dushwari

سیدہ تبسم منظور ناڈکر

ہمارے یہاں بہت کچھ بدل رہا ہے۔ اب اہم باتیں غیر اہم ہوگئی ہیں اور جن باتوں کی طرف کبھی دھیان بھی نہیں دیا گیا یا جو باتیں موضوعِ بحث نہیں بن سکتیں، اب ان کو بھی گرما گرم بحث کا حصہ بناکر ایک عجب فضا تیار کی جارہی ہے۔اس ضمن میں ہم ایک موضوع کا ذکر کرنا چاہتے ہیں۔ آج تو جہاں دیکھو بس اسی کے چرچے ہورہے ہیں۔ہر کسی کی زبان پر بس یہی بات ہے۔ ہر طرف شور مچا ہوا ہے۔ طلاق !طلاق! طلاق! ہاہاکار مچی ہے۔ طلاق کے نام پر اسلام کو بد نام کیا جارہا ہے۔

پیر, 15 جنوری 2018 16:13

نفرت کی درس گاہیں!

تحریر:نازیہ ارم
ترجمانی:نایاب حسن

ہندوستان میں سیاسی تبدیلیوں کے ساتھ سماجی سطح پر جو منفی تبدیلیاں رونماہوئی ہیں یاہورہی ہیں،ان کے مظاہر ہرشعبے میں دیکھنے کو مل رہے ہیں ،حتی کہ تعلیم گاہوں اور سکولوں کے خالص تعلیمی و تربیتی ماحول میں بھی مذہبی تنفر اور مذہبی تفریق کی زہرناکیوں نے گھر کرلیاہے،جنھیں سیاست دانوں اورنیوز چینلوں کے ذریعے روز بہ روز بڑھاوا مل رہاہے۔حیرت کی بات ہے کہ کسی انٹرنیشنل سکول میں پڑھنے والا چھ سات سال کا بچہ بھی جب اپنے ایک مسلمان ساتھی سے جھگڑتا ہے،تواس پر ’’دہشت گرد‘‘یا اسی طرح کے چبھنے والے الفاظ سے حملہ کرتا ہے

حفیظ نعمانی

گجرات اسمبلی کے انتخابات نے ملک کی سیاست کا رُخ موڑ دیا ہے۔ بی جے پی نے 99 سیٹیں جیت کر حکومت سازی کی تقریب اتنی ہی دھوم دھام سے منائی جیسے پندرہ سال کے بعد اترپردیش میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد منائی تھی کہ جہاں جہاں بی جے پی کی حکومت تھی وہاں کے وزیر اعلیٰ کو تالی بجانے کے لئے بلایا تھا۔ اور یہ سب بی جے پی کے دل برداشتہ کارکنوں کے دلوں سے اس دہشت کے مٹانے کے لئے تھا جو اس الیکشن میں ان کے دلوں میں بیٹھ گئی تھی۔

جمعرات, 11 جنوری 2018 09:31

پس منظر

مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی 

اس وقت مسلمانوں کے متعلق سے دنیا کے مختلف خطوں بشمول ہندوستان میں جو حالات و حوادث پیش آرہے ہیں ، انکو ہمیں صحیح پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے ، انکے تاریخی و سیاسی اسباب و عوامل کی روشنی میں دیکھنا چاہئیے ، دراصل ہمارا یہ دور اقتصادی اور سیاسی کاوشوں اور سازشوں کا دور ہے اقتصادی اور سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے مختلف پسندیدہ اور اثر انگیز عنوانات سے کام لیا جاتا ہے ، جسکے تحت کمزوروں کا استحصال ہوتا ہے اور مقصد ، اپنے اقتصادی مفاد کا حصول ہوتا ہے ،

بدھ, 10 جنوری 2018 08:23

بچوں کےحقوق

مولانا محمد نادر قاسمی

بچے انمول امانت ہیں بلکہ وہ دین و ملت کے مستقبل کے امین ہیں ۔ اولاد خواہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں ، دونوں کے حقوق مساوی ہیں ۔ زندگی کی تمام ضروریات میں دونوں کو شریعت نے یکساں رکھا ہے ، سوائے میراث کے ۔ اس میں لڑکیوں کی ذمہ داری والدین کے ساتھ ساتھ شادی کے بعد چونکہ ان کے خاوند سے وابستہ ہو جاتی ہے اس لئے لڑکے اور لڑکی کے درمیان عدل و انصاف کو برقرار رکھتے ہو ئے شریعت اسلامی نے معمولی فرق ملحوظ رکھا ہے ،

عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ 

ایک مرتبہ پھر میڈیا نے دارالعلوم دیوبند کے بعض فتاوی کو لے کر اختلاف و انتشار کا بازار گرم کردیا۔دو تین ماہ قبل نوجوان مسلم لڑکیوں کی یونیورسٹیز میں عصری تعلیم اور بے وجہ سوشل میڈیا پر تصویر اپلوڈ کرنے کے تعلق سے دارالعلوم کے فتاوی کو ایشو بنا گیاتھا اور اب چند دنوں سے برقعہ ،حجاب اور بینک کی ملازمت کے حوالے سے صادر شدہ فتاوی پر انگشت نمائی کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس سلسلہ میں دریدہ دہنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بی جے پی کے ریاستی ترجمان راکیش ترپاٹھی نے دارالعلوم دیوبند کو دقیانوسی سوچ رکھنے والا ادارہ قرار دیا اورکہاکہ دارالعلوم دیوبند ملک کا ایک اہم تعلیمی ادارہ ہے

اتوار, 07 جنوری 2018 10:52

پیام انسانیت

حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ

اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے، باہر سے کوئی شعلہ نہیں آیا ، باہر سے کوئی چنگاری تک نہیں آئی، ہاں جو کچھ ہوتا ہے وہ یہاں کے رہنے والو ں کے ذریعہ سے ہوتا ہے ، یہ Communal Riots، یہ دھوکہ اور یہ بے رحمی کی باتیں ، سنگدلی کی باتیں اور یہ فرقہ وارانہ فساد، یہ سب یہاں کے لوگوں کے کرتوت ہیں ، انکی کمزوریاں ہیں، باہر سے کسی نے آکر یہ سبق نہیں پڑھایا ، نہیں سکھا یا اور اگر کسی نے سکھایا تو اسکے سکھانے کی کوئی حیثیت نہیں تھی ، یہاں کے جو ، رشی اور منیوں نے زندگی گذارنے کا طریقہ سکھایا

دیوبند کی سرزمین پر، حکیم الاسلام قاری طیب ؒ کی شخصیت پر تاریخ ساز سیمنار کے موقع سے خصوصی مضمون 
یو سف رامپوری 

بیسویں صدی میں ہندوستان کے افق پر جو مسلم شخصیتیں نمودار ہوئیں ،ان میں حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری طیب ؒ کا نام سرفہرست ہے ۔ بیسویں صدی کے پہلے نصف حصہ میں تو عظیم شخصیات کی تعداد خاصی تھی ، لیکن آخری نصف صدی میں عظیم مسلم شخصیتوں کو انگلیوں پر ہی گنا جاسکتا ہے ۔ قاری طیب صاحب ؒ کی خاص بات یہ تھی کہ آپ بیک وقت کئی صلاحیتوں کے مالک تھے ، مثلا آ پ ایک طرف زبردست عالم دین تھے ، تو دوسری طرف محقق بھی تھے ، ساتھ ہی ایک اہم خطیب بھی اور ایک بلند پایہ مصنف بھی ، یہی نہیں بلکہ آپ کے اندر انتظام و انصرام کی بھی بڑی صلاحیت تھی ۔

منگل, 02 جنوری 2018 09:46

ديانت

جناب حکیم محمد سعید 

ہر انسان ایک ایسے معاشرے کی تمنا کرتا ہے جس میں امن ہو ، محبت و آشتی ہو ہمدردی اور یگانگت کی فضا ہو ، ہر انسان چاہتا ہے کے تمام انسان امن و سکون کی زندگی بسر کریں، کسی کو کسی سے شکایت نہ ہو ، انسانی معاشرے کا جو بہترین تصور قائم کیا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ ہر شخص کے دل میں ابنائے جنس کی سچی محبت ہو ، وہ آپس میں شیر وشکر ہو کر رہیں ،ایک دوسرے کے بھائی بن کر رہیں ،سوال یہ ہے کہ اس نیک تمنا کو حاصل کر نے کے لئے کونسی چیز ضروری ہے اور وہ کونسا عنصر ہے جس کے فقدان کی وجہ سے یہ مطلوبہ ماحول پیدا نہیں ہو رہا ہے اس سلسلے میں کئی اہم عناصر کی نشاندہی کی جا سکتی ہے

(علی میاں رحمۃ اللہ علیہکیوفات( ۳۱؍ دسمبر ۱۹۹۹ء) کاصدمہ،شریعت کی پکار،حق کی آواز، صدیوں میں پیدا ہو نے والی مایہ ناز ہستی کا صدمہ تھا ۔ 

مولانامحمدشمیم ندوی

مدرسہ ریاض الجنۃ، برولیا، ڈالی گنج لکھنؤ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا ایسی بنائی ہے کہ یہاں خوشی خالص ہے، نہ غم خالص، اس میں راحت وتکلیف دونوں چیز یں ساتھ ساتھ چلتی ہیں، اور انسان فنا کی منزل کا مسافر ہے، لوگ وقت معینہ کیلئے سرائے فانی میں آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، باقی رہنے والا نام اللہ کا ہے، یہی خالق کائنات و رب ذوالجلال کا تکوینی وحتمی فیصلہ ہے۔لیکن یہ بھی ایک حقیت ہے کہ اگر انسان کا دماغ روشن ہو، اور انسانیت ، قوم وملت کی بقا، اور اسکی خوشحالی و ترقی کے لئے بیدار ہو، تو ایسا انسا ن فنا کی منزل پر پہونچ کر بھی فنا نہیں ہوتا، ایسا انسان فرد نہیں ،بلکہ اپنے آپ میں ایک ادارہ و انجمن کہلاتا ہے، اور ان کا صدمہ پورے معاشرے کو جھنجھوڑ دینے کے ساتھ اداسی چھاجاتی ہے، اور عرصہ دراز تک فراق کا یہ کرب ، وصال کا یہ غم محسوس ہوتا رہتاہے۔

صفحہ 1 کا 10

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES