dushwari

عارف عزیز(بھوپال)

* مغرب کی منطق یہ ہے کہ آزاد ملکوں میں حکومت بھی اُس کے پیمانے کے مطابق کی جائے۔موجودہ دور جو جمہوریت، انصاف، مساوات، بھائی چارگی، حقوق انسانی اور آزادی کا دور ہے۔ یہاں ہر انسان کو اپنی مرضی کی زندگی جینے، اپنی مرضی کی حکومت چننے، اپنی منصوبہ بندی کے مطابق چلنے اور اپنے آرزوؤں اور امنگوں کی تکمیل کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ لیکن اُس کے لئے ایک چھوٹی سی شرط ہے۔ انسان کا مطلب دو ہاتھ اور دو پیر اور قوتِ گویائی رکھنے والی مخلوق نہیں بلکہ انسان کا مطلب مغربی شہری ہوتا ہے۔ اگر وہ دو پیر والی مخلوق مشرقی وسطیٰ میں بستی ہے تو وہ انسان ہی نہیں پھر اُس کے حقوق کیسے، اُس کی آرزوئیں کیسی، اس کی امیدیں کون سی؟ وہ تو بس ایک بھیڑ بکری یا اُس سے بھی گئی گزری مخلوق ہے جسے دراصل دور جدید میں جینے کا حق حاصل نہیں۔ اگر اُسے جینا ہے تو مغرب کے پیمانوں کے مطابق جینا ہوگا ورنہ بصورت دیگر اُسے اجتماعی طور پر پھانسی کی سزا بھگتنی ہوگی۔

عارف عزیز(بھوپال)

* ہندوستان میں خاموش فلموں کا آغاز ۱۸۹۶ء میں ہوا، پہلی با آواز فلم ’’عالم آرا‘‘ کی نمائش ۱۹۳۱ء میں ہوئی، جس سے فلموں کی مقبولیت بڑھنے لگی، اس کے ساتھ اداکاروں اور فلمی دنیا کے حالات وواقعات سے آگاہی حاصل کرنے کے ذوق میں بھی اضافہ ہوا، تو فلمی صحافت کی ضرورت محسوس کی گئی لہذا پہلا فلمی رسالہ انگریزی میں ’’فلم انڈیا‘‘ کے نام سے بمبئی سے جاری ہوا، بعد میں انگریزی کے علاوہ اردو، ہندی، بنگالی، مراٹھی اور دوسری علاقائی زبانوں میں بھی رسالے نکلنے شروع ہوئے، اردو میں ’’شبستان‘‘ پہلا فلمی رسالہ تھا، اس کے بعد ’’اداکار‘‘، ’’پارس‘‘، اور ’’گروگھنٹال‘‘ کے نام سے فلمی رسالے منظر عام پر آئے لیکن جس رسالہ نے آزادی سے پہلے سب سے زیادہ شہرت پائی وہ ہفت روزہ ’’چترا‘‘ تھا، اس کا اجراء ۱۹۳۴ء میں ہوا، اس کے منیجنگ ایڈیٹر دھرم ویر تھے، وہ اپنے رسالے کے بارے میں خود بتاتے ہیں۔

عارف عزیز(بھوپال)

تاریخ عالم میں بیسویں صدی کو جن غیرمعمولی اور اہم ترقیات کے لئے یاد کیاجاتا ہے ان میں صحافت سرفہرست ہے جس نے مذکورہ صدی کے دوران ایک زبردست طاقت اور ناقابل تسخیر مقام حاصل کرلیا۔ دنیا میں صحافت کا باقاعدہ آغاز کوئی ڈھائی سو برس قبل ہوا ہے لیکن حقیقت میں اس کی ترقی اور پورے کرۂ ارض میں اس کا پھیلاؤ بیسویں صدی کی دین ہے اور آج صحافت نے جو طاقت اور برتری حاصل کرلی ہے دنیا کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔صحافت کی اس تیز رفتار ترقی سے متاثر ہوکر اس کو حکمرانی کے چوتھے ستون کا درجہ دیاگیا ہے بالخصوص جمہوری نظام میں مقننہ یعنی قانون سازی، عدلیہ یعنی انصاف اور انتظامیہ یعنی نوکر شاہی کے بعد چوتھی طاقت کی حیثیت سے اگر کسی کو تسلیم کیاجاتا ہے تو وہ صحافت ہے اور اسی لئے ہر جمہوری نظام میں اخبارات کی اہمیت اور جمہوریت کی بقاء واستحکام میں اس کے رول کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔

عارف عزیز(بھوپال)

* سیکولرازم ایک قومی ضرورت ہے جس کے بغیر یہ ملک متحد نہیں رہ سکتا نہ اس کی سا لمیت کو برقرار رکھا جاسکتا ہے سنگھ پریوار کے جو رہنما یہ سمجھتے ہیں کہ ہندوستان کو اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں کی وجہ سے سیکولرا سٹیٹ کا درجہ دیا گیا ہے اور اس کا سب سے زیادہ فائد ان ہی کو پہونچا ہے وہ قطعی غلطی پر ہیں کیونکہ مسلمانوں کا وجود اس ملک کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں اگر ملک کی تقسیم کے وقت سارے کے سارے مسلمان یہاں سے پاکستان منتقل ہوجاتے تو یہ ملک کب کا ایک ہندو راشٹر بن کر ٹکڑے ٹکڑے ہوچکا ہوتا۔ جس معاشرہ میں ذات پات جیسی برائی حاوی ہو اور نسل وعقیدہ کی بنیاد پر بھید بھاؤ کیا جاتا ہو وہ اس وقت تک متحد نہیں رہ سکتا جب تک اس کے سامنے کچھ تصوراتی حریف یا خیالی خطرے موجود نہ ہوں۔

عارف عزیز(بھوپال)

تعلیم کو ترقی وخوشحالی کی بنیاد اسی لئے کہاجاتا ہے کہ دنیا کی تمام تر ترقیات تعلیم کی ہی مرہون منت ہیں ، بدقسمتی سے ہندوستان کی آزادی کے بعد یہاں کے تعلیمی نظام سے مجرمانہ غفلت برتی گئی، جس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ ملک میں تعلیم کا شعبہ بدنظمی اور بے سمتی کا شکار ہوگیا ، اقتصادیات کی گلوبلائزیشن نے اسے مزید مہمل بنادیا لہذا آج یہ ضروری ہوگیا ہے ملک کے تعلیمی نظام پر ازسرنو غوروخوض کرکے اس کی شکل وحقیقت کو بدلا جائے، خاص طور پر ترقی یافتہ اقوام کے تجربات سے فائدہ اٹھاکر تعلیم کی نئی صورت گری کی جائے۔آج امریکہ میں ہائی اسکول (بارہویں) تک کی تعلیم مفت ہے اور اس کا انتظام حکومت کرتی ہے، وہاں کے ہر ایک کاؤنٹری یعنی ضلع کا ایک خود مختار ضلع تعلیمی بورڈ ہوتا ہے، جو ضلع کے اسکولوں کو چلاتا ہے، ان اسکولوں کے اخراجات وہاں کی پنچایت سے لے کر میونسپل کارپوریشن (سٹی گورنمنٹ) کو حاصل پراپرٹی ٹیکس کے تقریباً نصف حصے سے پورے ہوتے ہیں،

عارف عزیز(بھوپال)

اس تلخ حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہمارے ملک میں اکثریتی فرقہ کے دل میں مسلمانوں کے خلاف متعد د وبدگمانیاں پائی جاتی ہیں اس کے کیا اسباب ہیں یہاں ان کی تفصیلات کا تو موقع نہیں مگر یہ واضح کردینا ضروری ہے کہ یہی وہ عوامل ہیں جو قومی یک جہتی اور باہمی اتحاد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہورہے ہیں اور اکثر وبیشتر بڑھ کر فرقہ وارانہ فسادات کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔آج کے ہندوستان میں مسلمانوں کی بحالی اور استحکام کا سب سے بڑا مسئلہ ان ہی غلط فہمیوں اور بدگمانیوں کو دو رکرنا ہے جب تک ہندوؤں اور مسلمانوں کے دل ودماغ میں اس طرح کی خلیج قائم رہتی ہے۔ اس وقت تک فرقہ وارانہ اتحاد کی کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوسکتی اور نہ مسلمانوں کو عزت وعافیت کا وہ ماحول میسر آسکتا ہے جس کے بغیر چین وسکون ناممکن ہے۔

عارف عزیز(بھوپال)

* مرد عورتوں کے بگڑتے تناسب کے پیچھے ماں کے پیٹ میں پل رہی بچی کو قتل کرنا اہم سبب ہے۔ اس بگڑتے تناسب کو روکنے کے لئے مالی امداد دینے سے زیادہ ضروری سماج کو بیدار کرنا اور سوچ میں تبدیلی لانا ہے۔ کوکھ میں پل رہی بچی کی پہچان کرانے والے بہت پڑھے لکھے لوگ ہوتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ معاشرے میں بیداری لائیں لیکن افسوس ایسے لوگ خود اخلاقی زوال کا شکار ہوکر لڑکیوں کے قتل کے راستے کھولتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ اس کے لئے حکومت ہی سخت قدم اٹھائے بلکہ ہمیں بچیوں کو کوکھ میں قتل کرنے والوں کے ساتھ اپنے رشتے ختم کرنے ہوں گے۔ ایسے ڈاکٹروں سے دوری بنانی ہوگی جو اس طرح کے کام کرتے ہیں۔تبھی ان خدشات کا سدباب ہوگا جو لڑکیوں کی دن دن بڑھتی کمی سے پیدا ہورہے ہیں۔ ہمارے وزیر اعظم نریندرمودی نے ’’بیٹی بچاؤ.. بیٹی پڑھا‘‘ مہم کی شروعات کچھ عرصہ پہلے کی تھی۔

عارف عزیز(بھوپال)

* انصاف کرنا یا کرانا عدالتوں کی ذمہ داری نہیں پورے سماج اور اس کا نظام چلانے والی انتظامیہ کا کام ہے، کہتے ہیں کہ قانون اندھا ہوتا ہے یعنی وہ انصاف کرنے میں تفریق نہیں برتتا، اسی لئے وہ اندھا نہیں ہوسکتا، اس کی نگاہیں تیز ہوتی ہیں یا تیز ہونی چاہئے لیکن اس کیلئے روشنی کا کام انتظامیہ انجام دیتی ہے۔ اگر وہ نہ چاہے تو عدالتیں عام معاملات میں انصاف کرنے سے معذور رہتی ہیں لہذا سب سے زیادہ ضرور ت اس کی ہے کہ انتظامیہ خود ایماندار ہو یعنی انصاف دلانے کا جذبہ اس کے اندر موجود ہو۔ موجودہ صورت حال میں ہمارے یہاں اس کی کافی کمی نظر آتی ہے کیونکہ انصاف کے مقابلہ میں ناانصافی کا دن بدن بول بالا ہورہا ہے، مثال کے طور پر گجرات کے فسادات کی سچائی کو دبانے اور کمزور کرنے میں جس طرح وہاں کی انتظامیہ کی پوری مشنری نے اپنا کردار ادا کیا، اس سے گجرات انتظام وانصرام کے ہر پرزے کا زنگ نمایاں ہوگیا۔

عارف عزیز(بھوپال)

تشدد، انتہا پسندی اور قتل و غارت گری کی کسی بھی مذہب میں اجازت نہیں دی گئی۔ ہر مذہب انسانیت کی تعلیم دیتا ہے، لیکن بعض شرپسند عناصر مذہب کی آڑ میں ہی بدامنی اور قتل و خون کا بازار گرم کرتے ہیں۔ کبھی گائے جیسے معصوم جانور کے ذریعہ تو کبھی کسی ایسے ہی عام مسئلہ پر یہ شرپسند طاقتیں ملک کے مختلف طبقات کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کر دیتی ہیں اور جب انسان کے سر پر جنون سوار ہوجاتا ہے تو اُسے دکھائی نہیں دیتا کہ وہ جس کا گلا کاٹ رہا ہے کبھی اُس کے ہی گھر دعوت بھی کھائی تھی۔ وہ جس خاتون کی گود اُجاڑ رہا ہے کبھی اُس نے ہی اسے راکھی باندھی تھی۔ تمام رشتے اور انسانی اقدار دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور انسان ایک وحشی بن جاتا ہے،

عارف عزیز(بھوپال)

شہر اورنگ آباد دکن کا ایک قدیم اور مشہور شہر ہے، جو عرصہ سے ریاست مہاراشٹرمیں شامل ہے، اس کے نام سے اندازہ ہوتا ہے کہ اورنگ زیبؒ نے اسے آباد کیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اورنگ زیب کے عہد سے کافی پہلے اسے بسایا گیا، شہر کا پرانا نام ’’کھڑکی‘‘ ہے۔ ملک عنبر نے ۱۶۱۰ء میں اسے اپنا صدر مقام بنایا اور ’’فتح نگر‘‘ نام رکھا، مغل دور حکومت میں اورنگ زیب کو دکن کی صوبیداری پر فائز کیا گیا تو انہوں نے ۱۶۵۲ء میں اس شہر کا نام ’’اورنگ آباد‘‘ رکھا اور اسی نام سے آج تک یہ شہر مشہور ہے۔ اورنگ آباد اپنی علمی، ملی اور سماجی سرگرمیوں کی وجہ سے پورے ملک میں جانا جاتا ہے، بزرگان دین نے اس سرزمین کو کلمہ حق بلند کرنے کیلئے کیا، سینکڑوں مساجد درجنوں مدارس اور بے شمار تاریخی عمارات نے اس شہر کی شان اور ملی حمیت میں اضافہ کیا ، پرانا شہر دن بدن وسیع ہورہا ہے قدیم محلوں میں آبادی بڑھنے سے نئی بستیاں بھی بسائی جارہی ہیں۔

صفحہ 1 کا 9

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES