dushwari

حفیظ نعمانی

گؤ پوجا اور گؤ رکشا ہوتے ہوتے ملک میں اس کی قربانی پر آخرکار پابندی کا مودی سرکار نے اعلان کر ہی دیا اور سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ گائے بچھڑا بیل بھینس اور اونٹ پر یہ پابندی لگائی ہے کہ اس کو خریدتے وقت یہ لکھ کر دینا پڑے گا کہ ان کو ذبح نہیں کیا جائے گا۔ اب سوال ہے ان گایوں اور بھینسوں کا جو بوڑھی ہوگئی ہیں اور اس بیل اور اونٹ کا جو کھیتی اور باربرداری کے لائق نہیں رہ گئے ہیں ان کا کیا ہوگا؟ایسے جانوروں کو گھروں میں کوئی رکھ نہیں سکتا یہ ہندوستان ہے یہاں جانور کی تو بات ہی کیا 70 سال پہلے جب ملک تقسیم ہوا تھا تو نہ جانے کتنے بوڑھے اور ناکارہ باپ اور ماں کو انسان چھوڑکر پاکستان چلے گئے اور جب ان سے کہا کہ ان کو کیوں نہیں ساتھ لے جاتے تو جواب دیا کہ ہم روزی روٹی تلاش کریں گے یا ان کو لادے لادے پھریں گے؟

حفیظ نعمانی

کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ ہمیں نہیں جانتے لیکن ہم انہیں جانتے ہیں اور کروڑوں آدمی انہیں جانتے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی بہت کوشش کی لیکن مرحوم مفتی صاحب کامیاب ہوگئے۔ اب ان کی دختر محبوبہ مفتی وزیر اعلیٰ ہیں اور عمر عبداللہ انہیں اس پر مجبور کررہے ہیں کہ وہ چھوڑچھاڑ کر بھاگ جائیں۔ہم نہیں جانتے کہ وہ کیوں ان کی حمایت کررہے ہیں جو خودکشی کو دعوت دے رہے ہیں اور انہیں پوری دنیامیں پتھر باز کہا جارہا ہے۔ کشمیر میں حکومتِ ہند کے ایک بڑے عہدہ پر میرے بھتیجے برسوں رہ کر اب دہلی آئے ہیں وہ جب جب لکھنؤ آتے تھے تو گھنٹوں کشمیر کی سیاست اور مستقبل پر گفتگو ہوتی تھی اور ان کے ذریعہ معلوم ہوتا تھا کہ آزادی آزادی آزادی نوجوانوں کا وہ نعرہ ہے جس کا جنون ہوگیا ہے۔ کل کے مضمون سے عمرعبداللہ نے یہ اشارے دے دیئے ہیں کہ وہ ان جنونیوں کے پیچھے کھڑے ہیں اور اب اپنے گھر کی عصمت و عزت کو بھی انہوں نے سڑک پر لاکر کھڑا کردیا ہے۔

حفیظ نعمانی

یہ خبر تو بار بار آپ نے پڑھی ہوگی کہ 5 سال سے 20 سال تک جیل میں بند رکھ کر عدالت نے اس لئے باعزت بری کردیا کہ پولیس کوئی ثبوت اور کوئی ایسا گواہ پیش نہیں کرسکی جس سے یہ ثابت ہوجاتا کہ ملزم نے واقعی وہ جرم کیا ہے یا وہ جرائم کئے ہیں جن کی بناء پر اسے جیل میں رکھا گیا۔ لیکن یہ پہلی بار پڑھ رہے ہوں گے کہ ’’عدالت نے صوبائی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ ملزمین کی تعلیمی لیاقت کے اعتبار سے جتنے دن انہوں نے جیل کی صعوبت برداشت کی ہے، انہیں اس کا معاوضہ دیا جائے‘‘۔اس موضوع پر لکھنے کا سبب یہی ہدایت بنی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جج کوئی بھی ہو وہ ماتحت عدالت کی کرسی پر ہو یا سیشن جج ہو یا ہائی کورٹ کی کرسی پر، ان کو بتایا گیا ہے کہ جیل میں جب تک مقدمہ کا فیصلہ نہ ہوجائے ملزم کو صبح ناشتہ دوپہر کا کھانا اور رات کا کھانا دیا جاتا ہے۔ اور اتنا دیا جاتا ہے جو اچھی سے اچھی خوراک کھانے والے کے لئے بھی کافی ہوتا ہے۔

حفیظ نعمانی

اُترپردیش کے نئے وزیر اعلیٰ نے ایوان میں مخالف ممبروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں ایوان کو یقین دلاتا ہوں کہ یوپی میں قانون کا راج ہوگا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پہلے کے مقابلہ میں جرائم میں بہت کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجرموں کو اب سیاسی تحفظ نہیں دیا جائے گا۔ اور ان کے ساتھ مجرموں جیسا ہی سلوک کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق اب ریاست میں لوگ خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ اور آپ چاہیں تو 19 مارچ سے 19 مئی تک دو مہینے کا ریکارڈ آپ کو بھیج دوں؟کسی وزیر اعلیٰ کا ایسا بیان کوئی نیا نہیں ہے۔ آدتیہ ناتھ یوگی کو شاید خیال نہیں تھا کہ وہ کہاں بول رہے ہیں؟ یہ مجمع ان کے ماننے اور چاہنے والے عوام کا نہیں تھا بلکہ یہ سب وہ تھے جو لاکھوں ووٹروں کے نمائندے ہیں اور جن کے پاس معلومات کا ذریعہ اس سے بھی زیادہ ہے جتنا وزیروں کے پاس ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جتنے خراب دو مہینے یہ گذرے ہیں اتنے دوسرے مشکل سے ملیں گے۔

حفیظ نعمانی

اُترپردیش کے نئے وزیر اعلیٰ نے ایوان میں مخالف ممبروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں ایوان کو یقین دلاتا ہوں کہ یوپی میں قانون کا راج ہوگا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پہلے کے مقابلہ میں جرائم میں بہت کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجرموں کو اب سیاسی تحفظ نہیں دیا جائے گا۔ اور ان کے ساتھ مجرموں جیسا ہی سلوک کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق اب ریاست میں لوگ خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ اور آپ چاہیں تو 19 مارچ سے 19 مئی تک دو مہینے کا ریکارڈ آپ کو بھیج دوں؟کسی وزیر اعلیٰ کا ایسا بیان کوئی نیا نہیں ہے۔ آدتیہ ناتھ یوگی کو شاید خیال نہیں تھا کہ وہ کہاں بول رہے ہیں؟ یہ مجمع ان کے ماننے اور چاہنے والے عوام کا نہیں تھا بلکہ یہ سب وہ تھے جو لاکھوں ووٹروں کے نمائندے ہیں اور جن کے پاس معلومات کا ذریعہ اس سے بھی زیادہ ہے جتنا وزیروں کے پاس ہوتا ہے۔

حفیظ نعمانی

بہار کے سابق وزیر اعلیٰ اور ریلوے کے انتہائی مقبول سابق وزیر لالو یادو نہ جانے کتنے ہندوستانیوں کے آئیڈیل تھے اور کتنے تھے جو اُن سے حسنِ ظن رکھتے تھے۔ جن میں خود ہم بھی ہیں۔ سب سے پہلی بار جب چارہ گھوٹالے میں ان کا نام آیا اور انہوں نے کہا کہ اس گھوٹالے کا تو ہم نے ہی بھانڈا پھوڑا تھا اور اس کا الزام ہمارے اوپر ہی لگایا جارہا ہے؟ تو ہمیں بھی یقین آگیا تھا کہ لالو یادو سے انتقام لیا جارہا ہے۔ اور یقین تھا کہ لالو یادو جیسا کسان جانوروں کے چارہ میں ہیرپھیر کر ہی نہیں سکتا۔وقت گذرتا گیا اور لالو نہ ریلوے کے وزیر رہے اور نہ بہار کے وزیر اعلیٰ۔ اور انہوں نے اپنی تعلیم کے نام سے صفر پتنی رابڑی دیوی کو وزیر اعلیٰ بنایا تو ہمیں بہت برا لگا اور خیال ہوا کہ یہ تو وہی ہوا کہ پارٹی اپنی ذاتی جائیداد ہے اگر شوہر نہ ہو تو بیوی، یا بیٹے یا بیٹی؟ اور جو دل و جان سے ساتھ ہیں وہ کیوں نہیں؟

بدھ, 10 مئی 2017 12:28

کیجریوال اور رشوت؟

حفیظ نعمانی

آزادی کے بعد کئی برس تک سیاست اور حکومت کے میدان میں صرف وہ حضرات آتے رہے جنہوں نے آزادی کی جدوجہد میں کسی نہ کسی شکل میں حصہ لیا تھا۔ پھر وہ آنے لگے جو کالجوں، یونیورسٹیوں میں پولیٹیکل سائنس کی تعلیم حاصل کرنے لگے اور یونین کے ذریعہ لیڈری اور نیتا گیری کے داؤپیچ سیکھنے لگے اور اب زیادہ تر وہ حضرات ہیں جو کسی سیاسی لیڈر کے یا وزیر کے یا گورنر کے بیٹے بیٹی بھتیجے یا پوتے ہیں۔ یہ فخر صرف اروند کجریوال اور کرن بیدی کو حاصل ہے جو بدعنوانی، بے ایمانی، بھرشٹاچار، لوک پال اور رشوت سے جنگ کرتے ہوئے سیاست میں آئے ہیں۔کرن بیدی خود بدعنوان سسٹم کی زخمی تھیں اور کجریوال شری اننا ہزارے سے اتنا متاثر ہوئے کہ انہوں نے ایک ایسی نوکری پر لات ماردی جس کے ذریعہ وہ چاہتے تو کوٹھی نہیں کالونی بنا سکتے تھے۔

حفیظ نعمانی

وزیر اعظم نریندر مودی نے حکومت میں بہت سی اصلاحات کی ہیں فضول خرچی کے بارے میں بھی ہدایات دی ہیں کہ ان میں پیسہ برباد نہ کیا جائے۔ وزیروں اور بڑے عہدیداروں کی گاڑیوں میں لگی لال بتی پر بھی یکم مئی سے پابندی لگادی ہے اور من کی بات میں بہت اہم بات کہی ہے کہ دماغوں سے بھی لال بتی نکال دی جائے اس لئے کہ وی آئی پی کلچر اسی طرح ختم ہوگا۔کئی سال پہلے کی بات ہے۔ ہم نے کانگریس کے لئے لکھا تھا کہ اگر اسے زندہ رکھنا ہے تو سونیا گاندھی اور راہل کی کوٹھی کے آگے بیریئر لگا ہوا ہے اسے فوراً ہٹایا جائے اور ہر ورکر کو وہ چاہے دھول بھری جوتیاں پاؤں میں پہنے اور پسینہ میں شرابور کرتہ دھوتی پہنے دن کے کسی بھی وقت آئے اسے اندر بلایا جائے پانی پلاکر خیریت معلوم کی جائے اور پھر یہ سوال کیا جائے کہ ٹھاکر صاحب کیسے آنا ہوگیا؟ اور جب تک سونیا گاندھی سے ان کے حلقہ رائے بریلی میں بھی عام آدمی سفارش کے بغیر نہیں مل سکتا تو یہ عوامی پارٹی کہاں رہ گئی؟ وی آئی پی کلچر اور لال بتی کا اثر صرف اسی شخصیت تک نہیں رہتا جسے وہ ملی تھی۔ بلکہ اس کوٹھی میں رہنے والا اور ان گاڑیوں میں سفر کرنے والا ہر بڑا چھوٹا مرد عورت اور بچہ برباد ہورہا تھا۔

حفیظ نعمانی

بہوجن سماج پارٹی میں طرہ کہ اور مایاوتی کی غلامی میں ہاؤس کے اندر نیلی ٹوپی پہن کر پانچ برس تک غنڈہ گردی کرنے والے موریہ نے جب مایاوتی کو چھوڑا تھا تو الزام لگایا تھا کہ ٹکٹ دینے کے لئے وہ مجھ سے بھی پیسے مانگ رہی تھیں۔ جس کے جواب میں مایاوتی نے کہا تھا کہ صرف اپنے لئے نہیں بیٹے اور بیٹی کے لئے بھی ٹکٹ مانگ رہے تھے اور انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ میں انہیں نکالنے والی ہوں اس لئے وہ بھاگ گئے۔ انہوں نے جب پارٹی چھوڑی تو سماج وادی پارٹی کو اُمید تھی کہ وہ اُن کے ساتھ آجائیں گے۔ لیکن 70 سال سے دلت کی صرف ایک حسرت ہے کہ اسے ہندو مانا جائے۔ اور اپر کلاس سب کچھ دینے پر تیار ہے انہیں ہندو بنانے پر تیار نہیں۔ یہی جذبہ تھا جو انہیں کانگریس سے توڑکر لایا اور یہی حسرت ہے جو انہیں بی جے پی میں لائی ہے۔

یہ وہ نمبر ہے جس کی 15ہزار کاپیاں چھپی تھیں جن میں سے صرف 1550ہم اپنی مرضی سے باہر بھیج سکے باقی 13450حکومت نے ضبط کرلیں

حفیظ نعمانی

یہ بات ۲۹؍ اپریل کی ہے کہ میرے بھانجے میاں اویس سنبھلی کا فون آیا کہ مسلم یونیورسٹی نمبر جو آپ کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ ہے وہ کب سے نہیں دیکھا؟ میں نے بتایا کہ ۳۱؍ جولائی 1965کی رات کو اسے آخری بار ۴؍ بجے دیکھا تھا اس کے کے بعد ۹ مہینے جیل میں گذر گئے پھر الٰہ آباد ہائی کورٹ میں اس کی واپسی کی کے چکر میں بار بار الہ آباد ہائی کورٹ جانا ہوا۔ اور وہاں ناکامی کے بعد سپریم کورٹ جانے کی بات تھی۔ لیکن حالات بدل گئے تھے اور اخبار مقروض ہوگیا تھا، اس لیے صبر کرلیا گیا۔اویس میاں دوپہر میں تین بجے آئے اور ا نھوں نے مجلد اخبار میری طرف بڑھایا۔ میں معمول کے مطابق لیٹا ہوا تھا۔ میں نے یہ کہہ کر کہ یہ ایسی چیز نہیں ہے جسے میں لیٹے لیٹے لے لوں۔ میں اٹھا اور اسے ہاتھوں میں لے لیا۔ آج میری دنیا میں بھی کوئی نہیں ہے جو یہ سمجھتا ہو کہ میرے لیے یہ اخبار کیا ہے؟

صفحہ 1 کا 50

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES