dushwari

تازہ ترین خبر:

حفیظ نعمانی

شاید دنیا کا یہ اکیلا ایسا مسئلہ ہے جس پر ہر دن ایک نیا بیان آجاتا ہے اور ہر دن ایک نیا لیڈر اپنی تجویز بغل میں دبائے سامنے آجاتا ہے۔ یہ بات پہلی بار کب کہی گئی اور کس نے کہی اس کا ذکر تو کوئی کرتا نہیں لیکن آزادی کے بعد سب سے پہلے بابری مسجد میں ہی مورتیاں رکھ کر یہ کہا گیا کہ بابر کے زمانہ میں ان کے صوبیدار میرباقی نے رام مندر کو توڑکر یہ مسجد بنائی تھی۔ مورتیاں رکھنے اور انہیں وہاں سے ہٹانے، اس مسجد میں سرکاری تالا ڈالنے اور تالا کھولنے کا جو ڈرامہ بھی ہوا ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسجد میں اذان اور نماز اس دن سے بند ہوگئیں جس دن اس میں سرکاری تالا ڈالا گیا۔ اور 06 دسمبر 1992 ء میں مسجد ہی باقی نہیں رہی۔

راحت علی صدیقی قاسمی 

خانوادہ قاسمی مختلف حیثیتوں سے عظمت کا حامل ہے، مدارس کا قیام، دین کا تحفظ، تصوف و سلوک میں بلند پایہ خدمات،تصنیف و تالیف کی دنیا میں لا زوال کارنامے ، صفحات پر علوم و معارف کے چراغ روشن کرنا ، تدریس میں ادق ترین مسائل کو سہل تر بنا کر پیش کرنا، طلبہ کی سہولتوں پر حد درجہ توجہ دینا ، وقت کی پکار پر لبیک کہنا، علوم و معارف کے میٹھے چشمے جاری کرنا، سادہ مزاجی، سنجیدگی اور متانت اس خانوادہ سے وابستہ ہر شخص کی سرشت میں داخل ہے، اس خانوادہ کی نرالی شان ہے، یہ فیصلہ سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ دس سال تک اس خانوادہ کی عظیم شخصیات کو دیکھ کر ان کے شب و روز سے متاثر ہو کر کیا جارہا ہے۔

عارف عزیز (بھوپال)

ہندوستان کے الیکشن میں ووٹروں کی تعداد دنیا کے ہر جمہوری ملک سے زیادہ ہے اور ہر بالغ شخص کو اپنا ووٹ استعمال کرنے کا موقع فراہم کرنے کے لئے قانونی طور پر حکومت نہ صرف پابند ہے بلکہ بہت بڑی رقم بھی صرف کرتی ہے، دشوار گزار مقامات پر ووٹروں کی تعداد بہت کم ہونے کے باوجود پولنگ اسٹیشن کا پورا عملہ وہاں پہونچایا جاتا ہے پھر بھی بعض علاقوں اور شہروں کے لوگ ووٹروں کی فہرستوں میں اپنا نام نہ ہونے کے باعث ووٹ ڈالنے سے محروم رہ جائیں تو یہ انتہائی بدبختی بات ہوگی جس کے لئے صرف انتظامیہ ہی نہیں رائے دہندگان بھی ذمہ دار ہیں کیونکہ ہر الیکشن سے پہلے انہیں یہ موقع دیاجاتا ہے کہ وہ ووٹر لسٹوں میں اپنا نام نہ ہو تو درج کرالیں۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES