dushwari

عارف عزیز(بھوپال)

کلکتہ سے۲۷ برس بعد اور حیدرآباد سے کوئی ۱۲۶ برس بعد نواب دوست محمد خاں نے ۱۷۲۲ء میں بھوپال شہر کی بنیاد رکھی تھی اس لحاظ سے وسط ہند کا یہ خوبصورت شہرتین سو برس سے پرانا ہورہا ہے۔ کلکتہ اور حیدرآباد بسنے کی تین سو اور چار سو سالہ اور اس سلسلے کی تقاریب تو کئی سال پہلے منائی جاچکی ہیں مگر بھوپال کی تاریخ اور عمر کے بارے میں شاید ہی کسی کو احساس ہوکہ یہ شہر اب۲۹۵ برس پرانا ہوگیا ہے جس کے دوران شہر نے نہ جانے کتنے انقلابات کو دیکھا اور بھگتا مگر اس شہر کی رونق میں کمی نہ آئی بلکہ ۲۷ مربع کلومیٹر سے بڑھ کر آج اس کا پھیلاؤ دوسو کلومیٹر کو پار کر گیا ہے۔

از:(مولانا) محمد عارف عمری

ماہ اگست میں جمعیۃ علماء ہند کا ایک نیر تاباں یعنی مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی ؒ نے وفات پائی۔

اس مناسبت سے آپ کی زندگی کا ایک مختصر سا خاکہ پیش کیا جارہا ہے۔

آپ ۱۹۰۰ء ؁ میں سیو ہارہ ضلع بجنور کے ایک تعلیم یافتہ معزز خاندان میں پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم مدرسہ فیض عام سیوہارہ میں حاصل کی اور دورۂ حدیث کے لئے دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوئے ۔ ۱۹۲۲ء ؁ میں سندِ فراغت حاصل کی پھر دار العلوم دیوبند، ڈابھیل اورکلکتہ وغیرہ کے مدرسوں میں تدریس کے فرائض انجام دیئے ۔نو عمری ہی سے آپ کے اندرخدمت خلق کا جذبہ موجزن تھا ،چنانچہ جلد ہی سیاست کی خاردار وادی میں کود پڑے ۔

عارف عزیز(بھوپال)

عالمی بینک کی ایک رپورٹ میں اس کے عالمی کمیشن برائے آبی وسائل کے سابق سربراہ ڈاکٹر اسماعیل سراج الدین نے کئی سال قبل جو کہا تھا وہ اب حقیقت میں تبدیل ہورہا ہے ان کا خیال تھا کہ ’’۲۰ویں صدی میں کئی جنگیں تیل کے لئے لڑی گئیں لیکن ۲۱ ویں صدی میں یہ جنگیں پانی کو لیکر لڑی جائیں گی‘‘ اور اس کے لئے حالات بھی پیدا ہورہے ہیں، فی الحال یہ جنگیں انفرادی اور علاقائی نوعیت کی ہیں لیکن جلد ہی ان کا دائرہ وسعت اختیار کرسکتا ہے۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES