dushwari

عارف عزیز(بھوپال)

* دنیا میں انسانی وجود کے بظاہر دو اجزاء ہیں جن میں سے پہلا جزو خود اس کی ذات ہے جبکہ دوسرا اس کا مال واسباب ہے، پہلے جزو کی اصلاح اور تزکیہ کا کام نماز وروزہ کی صورت میں جسمانی عبادت کے وسیلہ سے انجام پاتا ہے اور دوسرے جزو کی تطہیر وتزکیہ کے لئے ان لوگوں کو زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم دیاگیا ہے۔ جو شرعی نصاب کے مطابق اس کے مکلف قرار پاتے ہیں اور جس کی انجام دہی میں کوتاہی مالک دوجہاں کے نزدیک ایک سنگین جرم ہے۔موجودہ دور کے مسلمانوں کی زندگی کا یہ ایک المناک پہلو ہے کہ ان کی ایک بڑی تعداد دین کے اہم ارکان اور اس کی ادائیگی کی مصلحت سے غافل ہے۔لہذا بعض تو محض اپنی کم علمی یا جہالت کی بناء پر ان سے روگردانی کرتے ہیں اور بعض کچھ زیادہ ہی جسارت سے کام لیکر دانستہ ان ارکان کی ادائیگی کو غیرضروری قرار دے لیتے ہیں۔

تحریر: غوث سیوانی، نئی دہلی

تین طلاق پر پابندی لگنی چاہئے یا نہیں؟ کیا اس کے سبب مسلم خواتین کی زندگی اجیرن رہتی ہے اور ان کے سرپرہمیشہ طلاق کی تلوار لٹکتی رہتی ہے؟ کیا مسلمان جوڑوں میں زیادہ طلاق ہوتی ہے؟ کیا ہندو میاں بیوی کے بیچ کم طلاقیں ہوتی ہیں؟ کیا تین طلاق کو جائز ٹھہرانے کے سبب مسلمان جوڑے اکثر پریشان رہتے ہیں؟ اس قسم کے سوال اکثر اٹھتے رہتے ہیں جن کے جواب بھی ڈھونڈے جاتے رہے ہیں مگر ایک رپورٹ نے اس سے متعلق کچھ جواب دیئے ہیں۔ اس رپورٹ سے ایسا باالکل نہیں لگتا کہ مسلمانوں کے اندر طلاق کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں اور تین طلاق کے مسئلے پر جو واویلا مچایا جاتا ہے، وہ درست ہے۔ پروفیسر پریم چند ڈوماراجو نے طلاق اور علاحدگی پر ایک تحقیق کی ہے جس سے ظاہرہے کہ ہندوستان میں گزشتہ بیس برسوں کے بیچ ہوئی شادیوں میں سے دو فیصد ٹوٹ گئی ہیں۔

حفیظ نعمانی

اُترپردیش کے نئے وزیر اعلیٰ نے ایوان میں مخالف ممبروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں ایوان کو یقین دلاتا ہوں کہ یوپی میں قانون کا راج ہوگا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پہلے کے مقابلہ میں جرائم میں بہت کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجرموں کو اب سیاسی تحفظ نہیں دیا جائے گا۔ اور ان کے ساتھ مجرموں جیسا ہی سلوک کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق اب ریاست میں لوگ خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ اور آپ چاہیں تو 19 مارچ سے 19 مئی تک دو مہینے کا ریکارڈ آپ کو بھیج دوں؟کسی وزیر اعلیٰ کا ایسا بیان کوئی نیا نہیں ہے۔ آدتیہ ناتھ یوگی کو شاید خیال نہیں تھا کہ وہ کہاں بول رہے ہیں؟ یہ مجمع ان کے ماننے اور چاہنے والے عوام کا نہیں تھا بلکہ یہ سب وہ تھے جو لاکھوں ووٹروں کے نمائندے ہیں اور جن کے پاس معلومات کا ذریعہ اس سے بھی زیادہ ہے جتنا وزیروں کے پاس ہوتا ہے۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES