dushwari

تازہ ترین خبر:

محمد صابر حسین ندوی

’’لاتھنوا ولا تحزنوا وأنتم الأعلون ان کنتم مؤمنین‘‘(آل عمران:۱۳۹)

عالم اسلامی کی چودہ سوسالہ تاریخ طاغوتی طاقتوں اور ربانی مظاہروں ،فرعونیت اور وحدانیت اور حق و باطل کی کشمکش کا مظہر رہی ہے ،اس نے کبھی عالمی برادری میں اخوت و ہمدردی اور پر چم للہی کا پھریرا ؛دنیا کے عظیم بر اعظوں میں اس شان سے لہرا کہ مد مقابل کے سامنے سر تسلیم خم کر نے اور اس کی حاکمیت و اطاعت تسلیم کر نے کے سوا کوئی چارہ نہ ہو تاچنانچہ علامہ اقبال کو کہنا پڑا:’’تھمتا نہ تھا کسی سے سیل رواں ہمارا‘‘؛تو وہیں اس پر وہ دور بھی آیا جہاں ہنگامہ تاتارکے زمانے میں ایک خاتون کسی مسلم کی گردن پر پورے اعتماد واطمینا ن کے ساتھ تلوار پھیر دیتی ،

تحریر: غوث سیوانی، نئی دہلی
تین طلاق پر پابندی کے بہانے مرکزی سرکار نے یکساں سول کوڈ کی طرف قدم بڑھانے کی کوشش کی ہے؟ سپریم کورٹ نے تو محض ’’طلاق بدعت‘‘ پر پابندی کا قانون بنانے کو کہا تھا مگر کیا سبب ہے کہ اس میں مطلقہ کے نان ونفقہ کا معاملہ بھی شامل کردیا گیا ہے؟بچے کی کفالت کے معاملے کو اس قانون کے دائرے میں لانے کی کوشش کیوں کی گئی ہے؟ آخر کیا سبب ہے کہ اس قانون کا مسودہ تیار کرتے وقت مسلم علماء اور اسلامی قانون کے ماہرین سے مشورہ نہیں کیا گیا اور نہ کسی مسلم ملک کے قانون طلاق کو سامنے رکھا گیا؟

راحت علی صدیقی قاسمی

انسانوں کی عزت و ناموس, جان و مال کی حفاظت جمہوریت کا نمایاں وصف ہے، حکمراں منتخب کرنے کا عوام کو مکمل اختیار ہوتا ہے، حکمراں خوف زدہ رہتے ہیں، عوام بے خوف, خوش پُر سکون رہتی ہے، اس کے برخلاف بادشاہت میں انسان کچلا جاتا تھا، اس کی عزت نیلام کی جاتی تھی، اس کی آبرو سے کھیلا جاتا تھا، اس کے عقائد پر چوٹ پہنچائی جاتی تھی، اس کے حقوق تلف ہوتے ہیں، بسا اوقات اس کی جان تک لینے سے دریغ نہیں کیا جاتا تھا، بادشاہ جس کو چاہتا اذیت دے سکتا تھا، اس کے حقوق تلف کرسکتا تھا،

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES