dushwari

ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز‘

اترپردیش کے رامپورکے ایک علاقہ میں دو خواتین کے ساتھ 14نوجوانوں کی جانب سے بدسلوکی کے واقعہ نے ایک بار پھر ساری انسانیت کو شرمسار کردیا ہے۔ اس واقعہ کا سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ تمام 14نوجوان مسلمان ہیں۔ ایک ایسے وقت یہ بدترین واقعہ پیش آیا جب اترپردیش میں آدتیہ ناتھ کی حکومت ہے اور ہندوتوا طاقتیں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی اور ان کے خلاف کاروائی کے بہانے تلاش کررہی ہے۔ دو خواتین کے ساتھ دن دہاڑے نہ صرف بدسلوکی کی گئی بلکہ اس وحشیانہ واقعہ کی فلم بندی کی گئی اور اسے سوشیل میڈیا پر پوسٹ بھی کیا گیا۔ ان بے وقوف نوجوانوں نے جن کا حسب و نسب یقینی طور پر سوالیہ ہوگا‘ ایک طرح سے اپنے ہاتھوں سے اپنی قبر کھودی۔ دیکھتے ہی دیکھتے بیشتر حرامی صفت نوجوان گرفتار کرلئے گئے اور ظاہر ہے کہ انہیں سخت ترین سزائیں دی جائیں گی جس کے وہ یقینی طور سے مستحق ہیں۔ کیوں کہ جب ہم نربھئے واقعہ پر آواز اٹھاتے ہیں بلقیس بانو کے ساتھ انصاف کی بات کرتے ہیں تو رامپور کے واقعہ پر کی بھی مذمت کو اپنا فریضہ سمجتھے ہیں۔

از : سہیل ذکی الدین اسسٹنٹ پروفیسر مراٹھواڑہ کالج آف ایجوکیشن ،  ، اورنگ آباد۔ 

عظمیٰ تم وطن عزیز میں لوٹ آئی ہو ۔ خوش آمدید۔ بے شک اس ملک سے بہتر ملک پوری دنیا میں نہیں ہے۔ گذشتہ چار دنوں سے تم اخبارات کی سرخیوں میں ہو۔ تمام نیشنل میڈیا نے تمہیں کوریج دیا ہے۔ مختلف نیوز چینلز تم پر اسٹوریز بنا رہے ہیں۔ ٹاک شوز میں تمہارے ماضی کی زندگی پر ڈیبییٹس (Debates)ہورہے ہیں۔ عنقریب تم پر بالی ووڈ کا کوئی فلم ڈائریکٹر فلم بھی بنا لے گا۔ بہت کم وقت میں تم نے اچھی خاصی شہرت حاصل کر لی ہے۔ واہ۔۔۔! واگھا بارڈر سے ہوتے ہوئے تم نے جب اس سرزمین پر اپنا پہلا قدم رکھاتو شاید تم نے محبتاً اس سرزمین کو چھوا۔ میں نہیں جانتاکہ یہ تمہاری اس سرزمین کو لے کر محبت تھی یا عقیدت؟پرستش تھی یا عبادت؟ اس بات کا جواب تم ہی بہتر جانتی ہو۔ تمہارا استقبال کرنے تمہاری والدہ، تمہارے والد، تمہارے بھائی اور تمہاری بیٹی کھڑی تھی۔ لیکن تم نے اُن سے گلے لگنا مناسب نہیں سمجھا۔ تم سب سے پہلے وزیر خارجہ کے پیروں میں جا گری۔ تم جب سشما سوراج کے قدموں میں جھکی میں نہیں جانتا تمہارا جھکنا احتراماً تھا یا عقیدتاً۔ اس بات کا بھی جواب تم سے بہتر کوئی نہیں جانتا ہوگا۔

حفیظ نعمانی

گؤ پوجا اور گؤ رکشا ہوتے ہوتے ملک میں اس کی قربانی پر آخرکار پابندی کا مودی سرکار نے اعلان کر ہی دیا اور سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ گائے بچھڑا بیل بھینس اور اونٹ پر یہ پابندی لگائی ہے کہ اس کو خریدتے وقت یہ لکھ کر دینا پڑے گا کہ ان کو ذبح نہیں کیا جائے گا۔ اب سوال ہے ان گایوں اور بھینسوں کا جو بوڑھی ہوگئی ہیں اور اس بیل اور اونٹ کا جو کھیتی اور باربرداری کے لائق نہیں رہ گئے ہیں ان کا کیا ہوگا؟ایسے جانوروں کو گھروں میں کوئی رکھ نہیں سکتا یہ ہندوستان ہے یہاں جانور کی تو بات ہی کیا 70 سال پہلے جب ملک تقسیم ہوا تھا تو نہ جانے کتنے بوڑھے اور ناکارہ باپ اور ماں کو انسان چھوڑکر پاکستان چلے گئے اور جب ان سے کہا کہ ان کو کیوں نہیں ساتھ لے جاتے تو جواب دیا کہ ہم روزی روٹی تلاش کریں گے یا ان کو لادے لادے پھریں گے؟

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES