dushwari

عبدالعزیز 

بابری مسجد کے مقدمہ کے فیصلہ کے بارے میں مسلمانوں کا کہنا ہے کہ عدالت کا جو بھی فیصلہ ہوگا اسے وہ قبول کریں گے۔ میرے خیال سے مسلمانوں کو یہ کہنے کے بجائے یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ اگر ان مجرموں کے حق میں فیصلہ ہوتا ہے جو تاریخی مسجد گراکر یہ کہہ رہے ہیں کہ رام مندر وہیں بنے گا جہاں بابری مسجد تھی تو مسلمان مجبوراً برداشت کریں گے یا صبر و تحمل سے کام لیں گے۔

محمد اکرم ظفیر 

ہر سال 06 دسمبر کی تاریخ جب آتی ہے تو 1992 کی وہ کالی رات و سیاہ دن مسلمانوں کے سامنے اپنی روداد و بے بسی پہ آنسو بہاتے ہوئے اپنی شہادت کی المناک واقعہ کو پیش کرکے آواز دیتی ہیکہ کہاں ہیں صلاح الدین ایوبی جیسے مسلمان اور کہاں ہیں کی ملک آئین کی حلف لینے والے حضرات؟؟ جس دن ملک کی آئین و سیکولر ڈھانچے کو کمزور کرتے ہوئے تاریخی بابری مسجد کو فرقہ پرستوں نے شہید کردیا۔یہ کوئی اتفاق نہیں تھااور نہ ہی جلد بازی میں لیا گیا فیصلہ تھا بلکہ اس کے لیے بھگوا بریگیڈ نے آزادی کے قبل سے ہی منصوبہ بنا رکھاتھا۔

نازش ہما قاسمی

یہ ہمارے ملک ہندوستان ہی میں ممکن ہے کہ یہاں مسلم خواتین کی نام نہاد ہمدردی کے لیے وزیر اعظم تک میدان میں کود پڑتے ہیں لیکن وہیں ایک نومسلم دوشیزہ جو دل و زبان سے ایمان قبول کرچکی ہے اسے بہکانے پھسلانے اور ڈرانے کے لیے پوری ہندوتنظیمیں اور مشنریاں متحد ہوکر اسے اسلام سے برگشتہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔۔۔ان فرقہ پرست تنظیموں کے نزدیک مختار عباس نقوی، شاہنواز حسین، ظہیر خان شاہ رخ خان کی شادیاں داستان محبت (لو میریج) قرار دی جاتی ہیں لیکن وہیں دوسری طرف اسلام کی حقانیت اور اس کے آفاقی پیغام سے متاثر ہوکر کوئی اکھیلا نامی بچی مذہب اسلام قبول کرکے ہادیہ بنتی ہے تو اسے لو جہاد قرار دیا جاتا ہے۔۔۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES