dushwari

محمد الیاس ندوی بھٹکلی 

۱۹۸۷ء کازمانہ، جامعہ اسلامیہ بھٹکل سے میری عا لمیت کاآخری سال، جامعہ میں شہر سے طلباء کولانے لے جانے کے لیے پہلی دفعہ نئی بس خریدی گئی تھی، ہمارے مربی ومحسن مرحوم منیری صاحب کی نظامت کاسنہرادورتھا، وہ طلباء سے اپنی غیرمعمولی محبت وشفقت کی وجہ سے اکثران کے نازنخرے بھی برداشت کرتے تھے، ان کی اس پرکشش طبیعت ومزاج کودیکھتے ہوئے ہم لوگوں نے ان سے ایک دن اس کامطالبہ کردیاکہ ہمیں جامعہ کی گاڑی پکنک جانے کے لیے فراہم کردیں، ان کے دوسرے رفقاء نے ان کوسختی سے منع بھی کیاکہ مدرسہ کی گاڑی کی پرمٹ صرف شہرکے لیے ہے ، باہرجانے نہ دیں لیکن ہم طلباء کے مسلسل محبت بھرے اصرارپرانہوں نے اپنی ذمہ داری پرایک دن کے لیے ہمیں گاڑی دے دی ،

مولانااسرارالحق قاسمی

چنددنوں کے بعد اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم اور لطف و عنایت سے ہمارے اوپر ایک ایسا مہینہ سایہ فگن ہونے والاہے،جوسراپاخیرہے۔جس کا ایک ایک لمحہ اللہ کی رحمتوں کے نزول کا لمحہ ہے اورجس کے دن رات میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے خصوصی انعام و اکرام کے بادل برسائے جاتے ہیں۔وہ رمضان المبارک کا مہینہ ہے اوریہ مہینہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس لئے دیاہے کہ ہم اس میں اپنے نفس کی تربیت کریں ،اپنے اعمال کو درست کریں ،اللہ کی عبادت و طاعت میں لو لگائیں اور روزہ،نماز،تراویح اور تلاوت قرآن کریم جیسے مقدس اعمال کے ذریعہ تقربِ خداوندی کے حصول کے لئے جدوجہد کریں۔اسلام نے اپنے ماننے والوں کو پورے سال اور پوری زندگی ایک مخصوص نظم و ضبط اور احکام خداوندی کی اطاعت کے ساتھ گزارنے کی ہدایت دی ہے اورایسا ہی شخص کامیاب ہے جو اپنی شعوری زندگی میں ہر قدم شریعت کی تعلیم و ہدایت کے مطابق اٹھائے اور جان بوجھ کر کسی قسم کی نافرمانی کا ارتکاب نہ کرے،

راحت علی صدیقی قاسمی 

گجرات انتخاب قریب ہے اور اسمبلی انتخابات کی تیاریاں بھی شروع ہوچکی ہیں ،بی جے پی نے اترپردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کو وزیر اعلی بنا کراپنی حکمت عملی عالم آشکارا کر دی ہے ،انہوں نے واضح کردیا کہ وہ مذہب کی بنیاد پر عقیدت کی بنیاد پر اپنا سفینہ دریا کی غرقاب لہروں کے درمیان سے پار لگائیں گے اور غیر مسلم رائے دہندگان کو پوری طرح اپنی طرف متوجہ کریں گے ،اس حکمت عملی کو بروئے کار لانے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی جائے گی ،گوشت بندی ،گؤ رکشا ،تین طلاق ،منظرنامہ دیکھ کر نوشتۂ دیوار پڑھ کر ہر شخص اس حقیقت کو سمجھ سکتا ہے ،اب ظاہر بات ہے ،بی جے پی کی اس حکمت عملی کو سماجوادی سے نقصان پہنچنے والا نہیں ہے ،اس میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ بی جے پی کے ووٹ بینک میں انتشار پیدا کرسکے ،چونکہ یہ واضح ہوگیا ہے ،اورسب دیکھ چکے ہیں کہ اکھلیش کا بھولا پن مسلمانوں کے سوا کسی کو متاثر نہیں کرپایا اور بی جے پی کے افراد نے کھلی آنکھوں مشاہدہ کرلیا ہے ،

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES