dushwari

محمد اویس سنبھلی

زیر تبصرہ کتاب مدارس اور مسلم تنظیموں سے شائع ہونے والے اردو کے مذہبی رسائل و جرائد کا ایک تحقیقی مطالعہ ہے، اور اس کے مصنف معروف صحافی و ادیب جناب سہیل انجم صاحب ہیں۔ عرضِ مصنف کے زیر عنوان اپنی اس تحریر میں جس سے کتاب کا آغاز ہوتاہے مصنف نے باعث تصنیف واضح کرتے ہوئے تحریر کیا ہے :سال ۲۰۰۸ ء میں میری ایک کتاب ’’میڈیا اردو اور جدید رجحانات‘‘ منظر عام پر آئی۔ اس میں ایک مضمون دینی مدارس کی صحافت پر تھا۔ اس مضمون کے لکھنے کی تحریک اچانک ملی تھی۔ بس دل میں یہ خیال آیا کہ ملک بھر سے اردو میں جو دینی رسائل و جرائد شائع ہوتے ہیں ان کی صحافت کا بھی جائزہ لیا جانا چاہئے۔ اس طرح جب میں نے اس مضمون کو لکھنا شروع کیا تو وہ خاصا طویل ہوگیا۔ ۴۲؍صفحات پر مشتمل اس مضمون میں اختصار کے ساتھ ہندوستان میں مذہبی صحافت کے اسباب و آغاز اور موجودہ مذہبی رسائل و جرائد کا تحقیقی انداز میں جائزہ لیا گیا تھا۔

ریاض عظیم آبادی

میں دو ہفتہ سے میرے ذہن ایک ہی سوال گونج رہا ہے۔۔۔بے شک کشمیر ہندستان کا اٹوٹ حصہ ہے تو کشمیر کے نوجوان اور عوام ہندستان کے دشمن ہیں ؟بولٹ اور پیلٹ گولیوں کا مقابلہ کچھ گمراہ نوجوان پتھر بازی سے کر رہے ہیں! ہندستان کی ایک چھوٹی ریاست میں امن و امان قائم کرنے اور بھائی چارہ کا ماحول بنانے میں ریاستی و مرکزی حکومتیں بری طرح ناکام ہیں۔ملک کی عدالت کو جواب دیا گیا کہ حکومت صرف رجسٹرڈ پارٹیوں سے بات کرے گی علحدگی پسندوں کو گھانس نہیں ڈالے گی اور پیلٹ گولیوں کا استعمال جاری رکھے گی۔کیا کشمیر میں کشت و خون کا سلسلہ جاری رہے گا؟ایک آرٹی آئی کے جواب میں حکومت تسلیم کیا ہے کہ27سال میں یعنی1990 سے2017 تک 41900افراد مارے جا چکے ہیں جن میں13ہزارفوجی یا پولس کے اہلکار ہیں۔کشمیری عوام کو ایک طویل عرصے تک کرفیو کے عذاب کو جھیلنا پڑا ہے۔تعلیمی نظام درہم برہم ہے۔یہ المناک حقیقت ہے کہ کشمیر کا شاہدہی ایسا گھر بچا ہے جس گھر کا کوئی نوجوان گولیوں کا شکار نہیں ہوا ہو۔

ڈاکٹر محمد منظور عالم

سپریم کورٹ، مرکزی حکومت اور سول سوسائٹی کے درمیان آدھار کارڈ کو لیکر چھڑی بحث ادھر لگاتار نئے ایشوز کو جنم دے رہی ہے۔ حالانکہ یہ بحث 2010 سے جاری ہے لیکن انصاف، شفافیت، قومی تحفظ، شہریوں کی خود کی اور ذاتی تحفظ کی فکر جس میں ذاتی ڈیٹا کی حفاظت جیسے مسائل کا ازالہ نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی ان ایشوز پر حکومت کا موقف تسلی بخش رہا ہے۔ حکومت ہند کا سپریم کورٹ میں یہ اعلان کہ ہندوستانی شہری کو ذاتیات کا کوئی بنیادی حق حاصل نہیں ہے۔ یہ پہلو خاص طور سے پریشان کن ہے۔ ایک سطح پر یونیک آڈینٹی فیکیشن، آئی ڈی پروجیکٹ میں بیرونی ایجنسیوں کی شمولیت سے بھی حالات کے سدھارنے میں کوئی مدد نہیں ملی ہے اور ذاتی ڈیٹا (اعدادوشمار) یا قومی تحفظ کو بچائے رکھنے کے لیے ابھی تک کوئی بھروسہ مند یا مستقبل میں بھروسہ حاصل نہیں ہو سکا ہے۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES