dushwari

مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کاا قلیتی کردارخطرے میں 

تحریر: غوث سیوانی، نئی دہلی

گزشتہ دنوں ایک کرشچین مشنری ہائرسکنڈری اسکول کے سالانہ پروگرام میں جانے کا اتفاق ہوا، جہاں تعلیم پانے والوں میں عیسائی،ہندو اور مسلم اسٹوڈنٹس شامل ہیں۔اس پروگرام میں سبھی کلاسیز کے دو ٹاپرس کوانعام سے نوازا گیا اور ان اسٹوڈنٹس کو بھی، جنھوں نے سوفیصد حاضری کی تھی۔ مجھے یہ دیکھ کر خوشی کے ساتھ حیرت بھی ہوئی کہ کلاس ٹاپرس میں مسلمان طلبہ وطالبات کی اکثریت تھی۔ اسی کے ساتھ سو فیصد حاضری والے اسٹوڈنٹس میں بھی کافی مسلمان بچے تھے۔

حکیم نور احمد

لیموں، جس کی پیدا ئش دنیا کے ہر حصہ میں ہوتی ہے ، اپنے گونا گوں فوائد کے لحاظ سے قیمتی پھلوں کا بادشاہ ہے، مگر ہماری ناقدری کی وجہ سے معمولی سبزی شمار کیا جاتاہے۔ قدرت نے اس میں سڑک ایسڈ، کیلشیم، پوٹا شیم ، فولاد ، فاسفورس اور وٹامنز اے بی اور پی پیدا کئے ۔گوشت بنانے والے نشاستہ دار اور روغن اجزا کا اسے نادر مجموعہ بنا یا مقطر پانی اور حیات بخش وٹامن سی کا تو یہ خزانہ ہے اس کا چھلکا ، رس اور بیج ہر چیز غذ ائی اور دوائی اجزا ا پنے اندر سموئے ہوئے ہے پرانے حکماء نے خون صاف کرنے ہلکی بھاری غذا ہضم کرنے اور پیٹ کی گیس دور کرنیکے لئے اسکی سکی سنلکجبین بنا کر استعمال کرنے کا روج دیا ہوا ہے،

بسم الله الرحمن الرحيم 
(محسن قوم ڈاکٹر علی صاحب ملپا کی رحلت پر مولانا ابو الحسن علی ندوی اسلامک اکیڈمی وعلی پبلک اسکول بھٹکل کی تعزیتی قرارداد) 
محترم المقام استاد گرامی حضرت مولانا شفیع صاحب ملپا قاسمی دامت برکاتہم وجمیع پسماندگان
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته 
محسن قوم وفخر نوائط مخدومی حضرت ڈاکٹر علی صاحب ملپا رحمت اللہ علیہ کی وفات حسرت ایات سے در اصل ہماری قومی سنہری تاریخ کا ایک دور مکمل ہوا مرحوم قوم نوائط کی سو سالہ قابل رشک تاریخ کے گواہ بھی تھے اور اسکو اپنی اصلاحی ودینی خدمات سے مزین کرنے والے ایک اہم ستون وفرد بھی ڈاکٹر صاحب مادر علمی جامعہ کے قیام کے ذریعے ملت کو وہ عظیم تحفہ دے گئے جو اپنی گوناگوں علمی دینی ودعوتی خدمات کی وجہ سے ملکی سطح پر ہی نہیں بلکہ عالمگیر سطح پر بھی الحمد للہ اپنے اثرات مرتب کر رہا ہے

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES