dushwari

مولاناعبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ 

ربیع الاول اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ہے ؛جو برکتوں کے نزول،سعادتوں کے حصول اور رحمتوں کے ہجوم کا خاص مہینہ کہلاتا ہے ۔ اس مہینہ میں نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺکی ولادت باسعادت ہوئی،اسی ماہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چالیس سال کی عمر میں نبوت سے سرفرازکیاگیا اور پھر اسی ماہ63/سال کی عمر میں آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک ویسے تو دنیا کے کونے کونے میں ہر وقت لیاجاتا ہے ؛لیکن ماہِ ربیع الاول کے آتے ہی آپ ﷺ کا ذکر جمیل پوری دنیا میں اور بالخصوص برصغیر پاک و ہند میں اپنے عروج کو پہنچ جاتا ہے ،کچھ لوگ ادب و احترام کے دائرے میں اور کچھ حدود و قیود کو تجاوزکرکے رحمت عالم ﷺکا دل چسپ اورایمان افروزتذکرہ کرتے ہیں ۔

تحریر : جمیل اخترشفیق

میں اْس روز گھر کے باہر روز کی طرح اپنے ہمجولیوں کے ساتھ آس پاس کے ماحول سے بے خبر کھیل کود میں مصروف تھی، اچانک گولیوں کی دل دہلانے والی آواز کانوں میں گونجی، دیکھا لوگ اپنے اپنے گھروں سے نکل کر چینختے چلاتے بھاگے جارہے ہیں،بچے بوڑھے، عمر رسیدہ عورتیں کچلی جارہی ہیں، میں نے دور سے ہی اپنے گھر کے ساتھ ساتھ دوسروں گھروں کو بھی منہدم ہوتے ہوئے دیکھا لیکن چاہ کربھی کچھ نہیں کرسکتی تھی، بھیڑ جس طرف بھاگتی گئی، میں بھی اس کا ایک حصہ تھی اقتداء میں آگے بڑھتی گئی ،

مولانا نور عالم خلیل امینی

حضرت مولانا شاہ ابرارالحق حقی نے جمادی الاول ۱۳۳۹ھ مطابق ۲۰ ؍دسمبر ۱۹۲۰ء کو اتر پردیش کے شہر ہردوئی کے ایک دیندار گھرانے میں آنکھیں کھولیں ۔والدصاحب کا نام محمود الحق تھا جو حضرت تھانوی ؒ کے خلیفہ تھے۔وہ علی گڈھ مسلم یونیورسٹی سے فراغت کے بعد وکالت کے پیشہ سے وابستہ رہے ، انکا شمار نامور وکیلوں میں ہوتا تھا لیکن انہوں نے اپنے اس لڑکے کے لئے یہی پسند کیا کہ وہ عالم دین بنے۔حضرت ابرارالحق کم عمری میں ہی علوم شرعیہ کی تحصیل میں ترقی کرتے چلے گئے ،

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES