dushwari

تازہ ترین خبر:

حفیظ نعمانی

یہ افسانہ نہیں حقیقت ہے کہ کیرالہ کے راجہ چیرامن پیرومل ساتویں صدی عیسوی میں کسی ایک رات میں اپنے محل کی چھت پر ٹہل رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ آسمان پر چاند درمیان سے پھٹ گیا اور اس کے دو ٹکڑے ہوکر اِدھر اُدھر ہوگئے پھر کچھ دیر کے بعد دونوں ٹکڑے آئے اور پھر پورا چاند بن گیا۔ اپنے علم اور مشاہدہ پر راجہ چیرامن نے بہت زور دیا مگر نہ پڑھا ہوا یاد آیا اور نہ سنا ہوا۔ جیسے تیسے کروٹیں بدل کر رات کاٹی اور صبح کو اپنی ریاست کے تمام نجومیوں، انجم شناسوں اور عالموں کو بلاکر معلوم کیا کہ رات جو ہوا وہ کیا تھا؟ ان تمام عالموں میں سے کوئی نہ بتا سکا اور سب نے کہا کہ ہم نے کہیں نہ پڑھا نہ سنا۔

ہندوستانی عوام آخر کب تک کھاتے رہیں گے سیاسی پکوڑے؟
تحریر: غوث سیوانی، نئی دہلی

چندسال قبل جب نریندر مودی ، ملک کے وزیراعظم بنے تھے توکہا گیا تھا کہ ہزار سال بعد ہندوستان میں ہندووں کا اقتدار لوٹا ہے۔اس ’’ہندو راج‘‘ کو ابھی ٹھیک سے چارسال بھی مکمل نہیں ہوئے ہیں کہ اس کی رخصت کے آثار دکھائی پڑنے لگے ہیں۔جن امیدوں کے ساتھ عوام نے نریندر مودی کو سرکار بنانے کا مینڈیٹ دیا،اب وہ امیدیں ٹوٹنے لگی ہیں۔ خود سرکار بھی معاشی محاذ پر ناکام ہونے بعد ملک کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو پکوڑے بیچنے کی نصیحت دے رہی ہے۔ جس گجرات سے مودی جی کا خروج ہوا تھا،وہیں کے اسمبلی الیکشن نے ثابت کردیا کہ اب بھاجپا ،اقتدار سے اخراج کے مقام پر کھڑی ہے۔ راجستھان میں لوک سبھا اور ودھان سبھا کے ضمنی الیکشن نے واضح پیغام دے دیا کہ جس راجستھان نے چار سال قبل اسے زبردست اکثریت دی تھی،اب وہی اکثریت چھیننے کے درپے ہے۔

ایم کے احسانی

ملک بابا مونی یعنی من موہن سنگھ کو دیکھ چکا ہے۔انکی فطرت ہی خاموش طبع تھی لیکن موجودہ وزیر اعظم صرف بولنا ہی جانتے ہیں۔وہ قبرستان اور شمشان کے فرق کوبھی محسوس کرتے ہیں لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ پورے ملک کے قائد ہیں اور انہیں ہر معاملے میں ملک کے عوام کے درد سے آواز ملانی ہے۔ملک میں ہو رہے پے درپے واقعات سے خود کو دور رکھنا اور خاموش رہنا غیر مناسب ہے۔ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ایک چائے فروخت کرنے والا عظیم انسان ملک کی قیادت کر رہا ہے اور وہ دنیا کے تقریباَتمام ممالک کا دورہ بھی کر چکا ہے۔لیکن انکی پرسرار خاموشی سمجھ سے باہر ہے۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES