dushwari

تازہ ترین خبر:

موہن بھاگوت

راحت علی صدیقی قاسمی 

ہندوستانی فوج کے کارنامے، اس کی خوبیاں ، مجاہدے، مشقت، دیوانگی، جگ ظاہر ہے، جنگ کے میدان میں ان کی صلاحیتوں کا نمونہ ہم دیکھ چکے ہیں ، 1947 سے 1999 تک جب بھی ہندوستانی فوج جنگ کے میدان میں نکلی، ایڑی چوٹی کا زور صرف کیا، طاقت و توانائی کا مظاہرہ کیا، دشمن کو ناکوں چنے چبوا دئے، اپنے خون سے ہندوستان کے وقار کو محفوظ کیا، ترنگے کی شان کے لئے خون کا ایک ایک قطرہ بہایا، کارگل کا منظر ابھی ہماری نگاہوں میں ہے، ہمارے جان کی بازی لگا کر اپنی جگہ حاصل کی تھی، ملک کی سرحد پر پڑنے والے قدموں کو انہوں نے ہمیشہ خاک آلود کیا ہے، گولیوں سے چھلنی جسم درد کی شدت، دوا کی ضرورت، جسم کا مطالبۂ آرام، اس سب کے باوجود ترنگے کی شان بھارت کا وقار مقدم رکھا ہے۔

آج بھی ہمارے فوجیوں کی جد و جہد، مشقت جاری ہے، ملک کی حفاظت کا عمل جاری ہے، پڑوسی ملک کی جانب سے ہونے والے عمل کا بھرپور جواب دیتے ہیں ، اپنے ساتھیوں کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں ہونے دیتے۔ ہندوستانی فوج کی یہ جہد مسلسل ان کی شجاعت و بہادری اور حب الوطنی کی بین دلیل ہے۔ ملک کا ہر شخص سرحدوں کی حفاظت کرنا چاہتا ہے، اس کے دل میں ملک سے محبت ہے، اس کی عزت و آبرو سے پیار ہے، اس کے وقار پر مٹنے کا دعوی کرتا ہے، اپنی خواہش کے مطابق لوگ ہندوستانی فوج میں خدمت انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں ، ہندوستانی فوج کے قیام کو 122 سال گذر چکے ہیں ، آج تک ایسی صورت حال پیش نہیں آئی کہ لوگوں کو زبردستی فوج میں داخل کیا جائے، اپنے شوق اور خواہش سے لوگ فوج میں شامل ہوتے ہیں ، سخت ترین نو مہینے کی ٹریننگ جھیلتے ہیں ، دوڑنا، ہتھیار چلانا، مقابلہ کی مشق کرنا، دفاع کی تدابیر سیکھنا آسان نہیں ہے، چونکہ جذبات اور محبت کے بل پر نہیں ، حوصلہ طاقت اور تکنیک کے بل پر لڑی جاتی ہے، اس کے بعد میدان جنگ میں ہر پل موت سے مقابلہ کرنا، سر پر رقص کرتی ہوئی موت کا خیال نہ کرکے ملک کی حفاظت کرنا، سپاہیوں کی شان اور انتہائی مشکل امر ہے، پورا ملک ان کے عزم و حوصلہ کی بنیاد پر پُر سکون لمحات بسر کررہا ہے، اور تمام جمہوری ممالک میں یہی نظام جاری ہے، پورا ملک فوج ہی پر آسرا کرتا ہے، قانونی اعتبار سے عوام کو یہ حق حاصل نہیں ہوتا کہ ہتھیاروں کو لے کر نکلیں اور ملک کی حفاظت کے بلند بانگ دعوے کریں، انہیں نظام کے تابع فرمان ہوکر اپنی حب الوطنی کا مظاہرہ کرنا ہے، اگر انہیں جنگ کی خواہش ہے غربت سے، جہالت سے، فاقہ کشی نفرت و کدورت سے مقابلہ کریں، معاشرہ کی گندگیوں سے مقابلہ کریں ، سرحدوں کی حفاظت بخوبی ہو رہی ہے، اس میں کسی کی ضرورت نہیں ہے، تاریخ کے صفحات پلٹئے اور ہندوستانی فوح کی مدح سرائی کیجئے۔ تاریخ بینی کا موقع نہیں تو مشاہدہ، تجربہ اور ملک کی سرحدیں ہی فوجیوں کی جفاکشی کا قصہ سنائیں گی، اس صورت حال کے باوجود آر ایس ایس سربراہ کے یہ جملے کیا فوج کی اہانت پر مبنی نہیں ہیں کہ146146 اگر ضرورت پڑی تو ملک کی خاطر لڑنے کے لئے آر ایس ایس کے تین دن میں فوج تیار کرنے کی صلاحیت ہے145145 مظفر پور میں ایک خطاب کے دوران انہوں نے یہ جملے کہے، کیا ہماری فوج دفاع کے فرائض انجام نہیں دے پارہی ہے، جو انہیں یہ جملے کہنے کی ضرورت پیش آئی؟ کیا شہیدوں کے خون انہیں نظر نہیں آیا؟ کیا جوان شہیدوں کی بیواؤں کو انہوں نے دیکھا؟ ان کی سونی مانگ نہیں دیکھی؟ جس میں اس کے شوہر کی بہادری کا قصہ آپ کو نظر آجاتا، آپ اس فوج کے تعلق سے گفتگو کررہے ہیں ، جس میں 11لاکھ سے زیادہ افراد ہندوستان کی حفاظت پر ہمہ وقت سرگرم عمل رہتے ہیں ، 9لاکھ فوجی منتظر رہتے ہیں، کب انہیں ملک کی خدمت کرنے کا موقع ملے، دنیا کی مضبوط ترین فوج کے تعلق سے یہ جملے یقیناً تکلیف دہ ہیں، جب کے ماضی میں کوئی ایسا موقع نہیں جب ہندوستانی فوج کو آپ کی ضرورت پڑی ہے اور آپ میدان کارزار میں نکلے ہوں ، داد شجاعت لٹی ہو، جسم شہادت نوش کیا ہو، البتہ مشہور قلم کار اوم کار نے آپ کی کچھ خدمات کی جانب اشارہ کیا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ کچھ بھی کہیں ، پھر اچانک آپ کا ہندوستان کے لئے پیار امڈ آنا یہ بھی کسی پہیلی سے کم نہیں ہے، آرایس ایس نے کبھی ناگپور میں ترنگا نہیں لہرایا، آرایس ایس کے بانی کو گاندھی کا قاتل گردانا جاتا ہے، جمہوری نظریہ کا مخالف سمجھا جاتا ہے، اس صورت حال کے بعد آرایس ایس سربراہ کے یہ جملے چہ معنی دارد؟ کیا وہ طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتے تھے؟ آرایس ایس کے 39 ملکوں میں پھیلے ہوئے عظیم نیٹ ورک کی طاقت دکھانا ان کا مقصد تھا، کیا وہ ملک میں بسنی والی اقلیتوں کی حوصلہ شکنی کرنا چاہتے تھے،غور کیجئے صورت حال واضح ہے، انڈین آرمی نو مہینے کی کڑی محنت کے بعد کے فوجی تیار کرتی ہے وہ تین دن میں کیسے کرسکتے ہیں ؟ کیا ان کے یہاں ہتھیار چلانے کی ٹریننگ دی جاتی ہے؟ کیا آرایس ایس کے تعلق سے لوگوں کے دعوے صحیح ہیں ؟ صرف یہ کہہ دینا کہ ہمارے یہاں پریڈ کرائی جاتی ہے، نظم و نسق سکھایا جاتا ہے کافی نہیں ہے، اچھی صحت رکھنے والا، پریڈ کرنے والا کیا تین دن میں ہتھیار چلانے میں ماہر ہوسکتا ہے؟ کیا انڈین آرمی نو مہینے ضائع کرتی ہے؟ کیا آپ فوج سے جنگ کی کیفیات سے واقف ہیں ؟ کیا آپ فوج سے آلات حرب و ضرب سے واقف ہیں ؟ کیا آر ایس ایس کے ممبران ٹریننگ شدہ ہیں ؟ اگر سوالات کے جوابات اثبات میں ہیں ، تو انتہائی خطرناک ہے، چونکہ طاقت مظاہرہ کے لئے بے چین ہوتی ہے اور جواب نفی میں ہے تو اس طرح کے جملوں کی کیا ضرورت ہے؟ کیوں فوجیوں کے قلوب کو ٹھیس پہنچا رہے ہیں ؟ کیوں آپ کی ضرورت پیش آئے گی؟ کیوں فوج مقابلہ کے لئے کافی نہیں ہوگی؟ حالانکہ آرایس ایس نے دعویٰ کیا ہے، موہن بھاگوت کا بیان توڑ مروڑ کر پیش کیا جارہا ہے،کہ 146146اگر ملک کو ضرورت پیش آتی ہے تو عام آدمیوں کی فوج تیار کرنے میں چھ سات مہینے لگ سکتے ہیں ، سیوم سیوک چونکہ پریڈ کرتے ہیں ان میں ڈسپلن ہوتا ہے، اس لئے وہ تین دن میں تیار ہو جائیں گے145145 سوال تو یہ کہ اس ملک جہاں 9لاکھ سے زیادہ فوجی ہوں وہاں کسی کی ضرورت کیوں پیش آئے گی؟ کیا آپ کو فوج پر اعتماد نہیں ہے؟ دنیا کی کون سی طاقت ہے جو اتنی عظیم فوج کو مٹادے؟ اور آرایس ایس کو میدان میں نکلنا پڑے، تین دن میں تمام آلات حرب و ضرب سے اچھی طرح واقف بھی نہیں ہواجاسکتا ہے، یہ بیان شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے، علاوہ ازیں اس بیان کی حمایت بھی عجیب و غریب پہلو ہے، اور بی جے پی لیڈر منوج تیواری کہہ رہے ہیں کہ ضرورت پڑی تو بی جے پی کا ہر رکن سرحد پر لڑے گا، انہیں خیال رکھنا چاہیے جنگ زبان سے نہیں لڑی جاتی، اور جمہوریت کے اصول و ضوابط ہوتے ہیں ، اس طرح کی گفتگو فوجیوں کو تکلیف دینے والی ہے، آپ لیڈر ہیں ، آپ کی لڑائی سرحد پر نہیں ملک کے اندر کیا آپ لڑ رہے ہیں ؟ کیا آپ اپنے عہدہ سے انصاف کررہے ہیں ؟ کیا غرباء کو ان کا حق دے رہے ہیں ؟ اگر جواب ہاں تو آپ واقعی فوجی ہیں اور نا ہے تو آپ کے یہ جملے سیاسی پیتریں سے زیادہ کچھ نہیں ہیں اور آرایس ایس خود کو سماجی و ثقافتی تنظیم سمجھتی ہے تو ملک میں پھیلی انارکی کے خلاف لڑے، نفرت و کدورت سے جنگ کرے، سماج کی اصلاح مجاہدہ کرے، سماجیات کا مطالعہ کرے، اور عملی طور پر انہیں اپنائے یہ اس کا جہاد ہوگا، پتھر کی عمارتوں پر طاقت کا مظاہرہ کرنا اور ہتھیار سے لیس فوجیوں کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہے، آر ایس ایس کو اس تعلق سے سوچنا چاہیے، اور حکومت کو بھی غور و فکر کرنی چاہیے، کیا ہر شخص ملک کی حفاظت کے پردے میں اس طرح طاقت کا مظاہرہ کرے گا، سیاسی جماعتیں ہماری کرتی رہیں گی، اقلیتیں ہراساں ہوں گی، ملک میں عدم تحفظ کی فضاء عام ہوگی.

(مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ) 
14؍ فروری 2018
ادارہ فکروخبر بھٹکل

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES