dushwari

تازہ ترین خبر:

ختم نبوت

تحریر: مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ

اب تم کو جاننا چاہیے کہ اس زمانہ میں اسلام کا سچا اور سیدھا راستہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور قرآن مجید کے سو انہیں ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام نوع انسانی کیلئے خدا کے پیغمبر ہیں۔ ان پر پیغمبری کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ انسان کو جس قدر ہدایت دینا چاہتا تھا، وہ سب کی سب اس نے اپنے آخری پیغمبر کے ذریعہ بھیج دی۔ اب جو شخص حق کا طالب ہو اور خدا کا مسلم بندہ بننا چاہتا ہو اس پر لازم ہے کہ خدا کے آخری پیغمبر پر ایمان لائے جو کچھ تعلیم انہوں نے دی ہے اس کو مانے اور جو طریقہ انہوں نے بتایا ہے اس کی پیروی کرے۔ 

ختم نبوت پر دلائل
پیغمبری کی حقیقت ہم نے تم کو پہلے بتا دی ہے اس کو سمجھنے اور اس پر غور کرنے سے تم کو خود معلوم ہو جائے گا کہ پیغمبر روز روز پیدا نہیں ہوتے، نہ یہ ضروری ہے کہ ہر قوم کیلئے ہر وقت ایک پیغمبر ہو۔ پیغمبر کی زندگی دراصل اس کی تعلیم و ہدایت کی زندگی ہے جب تک اس کی تعلیم اور ہدایت زندہ ہے اس وقت تک گویا وہ خود زندہ ہے۔ پچھلے پیغمبر مر گئے، کیونکہ جو تعلیم انہوں نے دی تھی دنیا نے اس کو بدل ڈالا۔ جو کتابیں وہ لائے تھے ان میں سے ایک بھی آج اصلی صورت میں موجود نہیں۔ خود ان کے پیرو بھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ ہمارے پاس پیغمبروں کی دی ہوئی اصلی کتابیں موجودہیں۔ انہوں نے اپنے پیغمبروں کی سیرتوں کو بھی بھلا دیا۔ پچھلے پیغمبروں میں سے ایک کے بھی صحیح اور معتبر حالات آج کہیں نہیں ملتے یہ بھی یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کس زمانہ میں پیدا ہوئے؟ کہاں پیدا ہوئے؟ کیا کام انہوں نے کیے؟ کس طرح زندگی بسر کی؟ کن باتوں کی تعلیم دی اور کن باتوں سے روکا؟ یہی ان کی موت ہے۔ مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں، کیونکہ ان کی تعلیم و ہدایت زندہ ہے۔ جو قرآن انہوں نے دیا تھا وہ اپنے اصلی الفاظ کے ساتھ موجود ہے۔ اس میں ایک حرف، ایک نقطہ، ایک زیرو زبر کا بھی فرق نہیں آیا۔ ان کی زندگی کے حالات، ان کے اقوام، ان کے افعال سب کے سب محفوظ ہیں۔ اور تیرہ سو برس سے زیادہ مدت گزر جانے کے بعد بھی تاریخ میں ان کا نقشہ ایسا صاف نظر آتا ہے کہ گویا ہم خود آنحضرت کو دیکھ رہے ہیں۔ دنیا کے کسی شخص کی زندگی بھی اتنی محفوظ نہیں جتنی آنحضرت کی زندگی محفوظ ہے۔ ہم اپنی زندگی کے ہر معاملہ میں ہر وقت آنحضرت کی زندگی سے سبق لے سکتے ہیں۔ یہی اس بات کی دلیل ہے کہ آنحضرت کے بعد کسی دوسرے پیغمبر کی ضرورت نہیں۔
ایک پیغمبر کے بعد دوسرا پیغمبر آنے کی صرف تین و جہیں ہو سکتی ہیں: 

۱۔ یا تو پہلے پیغمبر کی تعلیم وہدایت مٹ گئی ہو اور اس کو پھر پیش کرنے کی ضرورت ہو۔ 
۲۔ یا پہلے پیغمبر کی تعلیم مکمل نہ ہو اور اس میں ترمیم یا ضافہ کی ضرورت ہو۔
۳۔ یا پہلے پیغمبر کی تعلیم ایک خاص قوم تک محدود ہو اور دوسری قوم یا قوموں کیلئے دوسرے پیغمبر کی ضرورت ہو۔ 
یہ تینوں وجہیں اب باقی نہیں رہیں۔ 
۱۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و ہدایت زندہ ہے اور وہ ذرائع پوری طرح محفوظ ہیں جن سے ہر وقت یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ حضور کا دین کیا تھا، کیا ہدایت لے کر آپ آئے تھے، کس طریق زندگی کو آپ نے رائج کیا اور کن طریقوں کو آپ نے مٹانے اور بند کرنے کی کوشش فرمائی پس جب کہ آپ کی تعلیم و ہدایت مٹی نہیں تو اس کو از سر نو پیش کرنے کے لئے کسی نبی کے آنے کی ضرورت نہیں ہے۔
۲۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اسلام کی مکمل تعلیم دی جا چکی ہے۔ اب نہ اس میں کچھ گھٹا سکتے ہیں اور نہ بڑھا سکتے ہے اور نہ کوئی ایسا نقص باقی رہ گیا ہے جس کی تکمیل کیلئے کسی نبی کے آنے کی حاجت ہو۔ لہٰذا دوسری وجہ بھی دور ہو گئی۔
۳۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی خاص قوم کیلئے نہیں بلکہ تمام دنیا کے لیے نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں اور تمام انسانوں کیلئے آپ کی تعلیم کافی ہے۔ لہٰذا اب کسی خاص قوم کیلئے الگ نبی آنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ 
اس طرح تیسری وجہ بھی دور ہو گئی
اسی بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین کہا گیا ہے یعنی سلسلہ نبوت کو ختم کر دینے والا۔ اب دنیا کو کسی دوسرے نبی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ صرف ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ پر خود چلیں اور دوسروں کو چلائیں۔ آپ کی تعلیمات کو سمجھیں، ان پر عمل کریں اور دنیا میں اس قانون کی حکمت قائم کریں جس کو لے 
کر آنحضرت تشریف لائے تھے۔ 

(مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ) 
14؍ فروری 2018
ادارہ فکروخبر بھٹکل

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES