dushwari

تازہ ترین خبر:

جنسی بے راہ روی کی روک تھام کے لئےسیرت نبویؐ پر عمل ضروری

غوث سیوانی

آج کل پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا تک ایک ہی بحث چھائی ہوئی ہے کہ زانی کو کون سی سخت سزا دی جائے کہ سماج میں پھر کوئی اس گھناؤنے جرم کا ارتکاب نہ کرے۔ کوئی کہتاہے اسے پھانسی دے دی جائے ‘کوئی کہتا ہے تاعمر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیاجائے‘ کوئی کہتا ہے اسے سنگسار کردیاجائے‘ توکوئی کہتا ہے کہ اسے خصّی کردیا جائے۔ ہر کوئی اپنی عقل وشعور کے مطابق اسے سخت سزا دینے کی بات کہہ رہا ہے۔ حالانکہ باوجود اس کے شک ہے کہ زنا بالجبر کی وارداتیں رک پائیں۔ یہ بحث تب شروع ہوئی‘ جب میڈیامیں ایک ظالمانہ قسم کی زنا کی واردات سرخیوں میں آئی۔ خبر یہ تھی کہ ایک چلتی ہوئی اسکول بس میں چند لوگوں نے نہ صرف ایک لڑکی کی آبرو ریزی کی‘ بلکہ اسے بری طرح سے مارا پیٹا۔ اس کی آنتوں کو کھینچ کر باہر نکالا‘ تاکہ ثبوت مٹ جائے‘پھر اس برہنہ لڑکی کو سرد رات میں چلتی ہوئی بس سے ایک سنسان مقام پر پھینک کر فرار ہوگئے۔

یہ لڑکی چنددن اسپتال میں انتہائی نگہداشت یونٹ میں موت سے لڑتی رہی‘ مگر آخرکار جیت موت کی ہوئی۔ اس لڑکی نے موت سے قبل ایک قیامت کو جھیلا اورجولوگ اس کے ذمہ دار تھے ‘انہیں یقینی طور پر سخت سزا ملنی چاہئے‘ مگرسوال یہ ہے کہ کیا انہیں سخت سزا دینے سے اس قسم کی وارداتوں پر لگام لگ جائے گی؟
اس وقت دنیامیں جتنے جرائم ہوتے ہیں‘ ان میں سب سے زیادہ جرائم عورتوں کے خلاف ہوتے ہیں اوران میں بھی جنسی جرائم کی تعداد زیادہ ہے۔ امریکا جو دنیا کو تہذیب سکھاتا پھرتا ہے‘ جنسی جرائم میں اول ہے۔اس کے بعدہندوستان کانمبرآتا ہے‘ جہاں ہر 20منٹ پرکسی نہ کسی عورت کی آبروریزی کی جاتی ہے۔ یہ سب اس کے باوجود ہے کہ ان دونوں ملکوں میں خواتین قانون ساز اداروں میں بڑی تعداد میں ہیں اورحکومت کی باگ ڈور بھی ان کے ہاتھ میں ہے۔ ہندوستان میں زنا بالجبر کی سزا کم سے کم دس سال کی قید ہے۔ یہ سزازیادہ سے زیادہ عمرقید ہوسکتی ہے۔ یہ سزا کم نہیں ہے‘ مگرباوجوداس کے جووارداتیں ہورہی ہیں‘ وہ کہیں نہ کہیں ہمارے سسٹم کی خرابی کی طرف اشارہ کررہی ہیں۔
رسول محترم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس عرب معاشرے میں پہلی اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی ‘اس میں عورت کے احترام کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی دفن کردینا عام بات تھی‘ جو بڑی ہوجاتیں‘ انہیں وراثت سے محروم کردیا جاتاتھا۔ لوگ اپنی باندیوں کو عام طور پر جسم فروشی پر لگا دیتے تھے اور اس کی آمدنی پر عیش کرتے تھے۔ گویا ذلالت کی تمام حدیں پار کی جارہی تھیں۔ اگر غور کیاجائے‘ تو آج بھی ہمارے معاشرے میں عورتوں کی تذلیل کی یہ صورتیں موجود ہیں۔ خیر عرب والے توعلم وحکمت سے کوسوں دور تھے اور ایک غیر مہذب طرز حیات رکھتے تھے۔ روم اور ایران جوکہ اس عہد میں نہ صرف سیاسی سپرپاور تھے‘ بلکہ علمی اور تہذیبی لحاظ سے بھی دنیا کی رہنمائی کررہے تھے۔ انہوں نے بھی عورتوں کو عزت کامقام نہیں دیا تھا۔
رسول محترم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی سرزمین پر پہلی آزادی‘ جمہوری ریاست کی بنیاد رکھی‘ جس میں عورت کو عزت ووقار کامقام دیاگیا اوراسے جنسی جرائم سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگردنیا کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے‘ تو احساس ہوگا کہ ہردورمیں عورتوں کے خلاف جرائم ہوتے رہے ہیں اوران جرائم میں جنسی جرائم کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ قانون کے ذریعے عورت کے عزت وناموس کی حفاظت ضروری تھی‘ جواللہ کے رسولؐ نے کیا‘مگر صرف قانون کافی نہیں تھا۔ اس کے لئے اخلاقی تربیت کی بھی ضرورت تھی‘ جو رسول اللہؐ نے صحابہ کرام کی کرکے دکھائی اور ایسے تربیت یافتہ لوگوں کو اپنے بعد دنیامیں چھوڑا‘ جو دنیا کو عورتوں کااحترام کرنا سکھائیں۔ ایک ایسا انسان‘ جوعورتوں کا احترام نہ کرتاہو‘ صرف قانون بناکر اسے عورتوں کے احترام پر مجبور نہیں کیا جاسکتا ‘لہٰذا آپؐ نے ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی‘ جس میں عورت ایک مجبور ومقہور مخلوق نہ رہ کرایک قابل احترام انسان رہے۔ سماج کا ایک مضبوط پہلو ہو‘ جسے مرد جنسی کھلونا نہ سمجھیں‘ بلکہ ایک مکمل اور محترم انسان تصورکریں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیمات میں جہاں عورتوں کو ایسے کاموں سے اجتناب کرنے کوکہا‘ جس سے مرد ان کی طرف مائل ہوتے ہوں‘ وہیں دوسری طرف مردوں کو بھی نظریں نیچی رکھنے کاحکم دیاگیا۔ اسی تربیت کا اثر تھا کہ عورتوں اور آزادی کے ساتھ اپنے کاموں میں مصروف رہتی تھیں اورانہیں کسی قسم کی مشکلیں درپیش نہیںآتی تھیں۔ وہ اپنے کھیتوں اور باغوں میں کام کرتیں۔ وہ مسجدوں میں باجماعت نمازیں ادا کرتیں‘ وہ مردوں کے شانہ بشانہ جنگوں میں شریک ہوکر فن حرب وضرب کامظاہرہ کرتیں‘ مگر کبھی ایک واقعہ بھی زنابالجبر کا رسالت میں سامنے نہیں آیا۔ کیونکہ معاشرہ عورتوں کے حقوق کے تعلق سے بیدار ہوچکا تھا اوران کا احترام کرناسیکھ گیا تھا۔ اس معاشرے میں رہنے والوں کو قانون کے خوف سے نہیں‘ بلکہ دل کی اصلاح سے نیک ‘عفت مآب اور پاکدامن بنایاگیاتھا۔ یہی سبب تھا کہ اس معاشرے کو کبھی قیدخانہ بنانے کی ضرورت نہیں پڑی۔
قانون ہر انسانی سماج کے لئے اہم ہوتاہے۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں‘ جو اخلاقی تربیت کا اثر قبول نہیں کرتے۔ انہیں راہ راست پر لانے کے لئے سخت قانون کی ضرورت ہوتی ہے اور ایک ایسی مستعد سرکار کی ضرورت ہوتی ہے‘ جو ان قوانین کانفاذکرے۔ اس کے لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زنا اوردیگرجنسی جرائم کے خلاف سخت قانون دنیا کو دیا۔ یہ قوانین دنیا کے لئے کتنے بابرکت ہیں‘ اس سلسلے میں قرآن میں فرمان الٰہی ہے۔
’’تمہارے لئے قصا ص میں زندگی ہے‘‘۔
قتل‘ زنا‘ چوری اور دیگر قسم کے جرائم کے لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قوانین دیئے‘ ان کانفاذاسلامی معاشرے میں بغیر کسی چھوٹ کے ہوتاتھا۔یہاں نہ کوئی وی آئی پی تھا اورنہ کسی کو اس بنیاد پر کسی قسم کی چھوٹ تھی۔ دستور نبویؐ میں سب سے بڑاجرم زناتھا‘ لہٰذاسب سے سخت سزا زنا کار کو تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ ایسے معاملات ہی روشنی میں نہیں آئے۔ زنا کی سزا صرف ان لوگوں پر لاگو کی گئی‘ جنہوں نے اپنے ضمیر کی آواز سن کر خود بارگاہرسالت میں آکر اس کا اقرار کیا اورگذارش کی کہ انہیں پاک کردیاجائے ‘‘ رسول اللہ کے لائے ہوئے دین میں قتل کی سزا قتل ہے‘ مگرمقتول کے ورثاء کو یہ اختیار ہے کہ وہ قاتل کو معاف کردیں یا اس سے کچھ معاوضہ لے کرمعافی نامہ دے دیں‘ جبکہ زنا کے معاملے میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ زانی اور زانیہ کو سزا دی جائے گی۔
سب سے پہلے یہ بات واضح ہوجانی چاہئے کہ اسلام کی نظر میں زنا کیا ہے؟ مردو عورت کا شادی کے بغیر جنسی تعلق قائم کرنا زنا ہے۔ اس میں کسی اگر مگر کی گنجائش نہیں ۔ آج کل کے قوانین میں صرف زنا بالجبر کو ہی جرم ماناجاتا ہے۔ دو بالغ مردوعورت کا اپنی مرضی سے جنسی تعلق قائم کرنا جرم نہیں ہے۔ حالانکہ یہی نظریہ عورتوں کے جنسی استحصال کو بڑھاوا دیتا ہے اور مردوں کو جنسی جرائم پر اکساتا ہے۔ قانون میں رکھے گئے اسی Gap کے سبب آج Live In Relation جیسی معاشرتی خرابیاں پنپ رہی ہیں‘ جوآخرکار عورتوں کو ہی زیادہ نقصان پہنچاتی ہیں۔
دستور نبویؐ کے تحت کنوارے زنا کاروں کی سزا سرعام سوکوڑے مارنا ہے اور شادی شدہ زنا کاروں کی سزا سنگسار کرنا ہے۔ یعنی عوامی جگہ پر انہیں اس قدر پتھر مارے جائیں کہ ان کی موت ہوجائے۔ ظاہر ہے کہ آج کل جو جنسی جرائم ہورہے ہیں‘ ان کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ قانون میں سزا سے بچنے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ زنا کو بالرضا اور بالجبر سے خانوں میں تقسیم کیاگیا ہے اورقانون کے مشاق کئی بار انتہاچابک دستی سے زنا بالجبر کو بھی زنا بالرضا ثابت کردیتے ہیں۔ پھر اگر کبھی کسی زانی کو سزا ملتی بھی ہے‘ تو کچھ دن قید کی۔ ظاہر ہے یہ صورت حال بدطینت افراد کے لئے حوصلہ افزا ہوتی ہے۔ نبویؐ قانون کے تحت تمام سزائیں سرعام دی جائیں تاکہ دنیا عبرت حاصل کرے اور کوئی اس کے ارتکاب کی ہمت نہ کرے۔ آج سرعام سزا دینا اور جسم کے اعضاء کاٹنے کی سزا دینا غیر انسانی عمل قرار دیاگیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ لوگوں کے دلوں سے قانون اور سزا کا خوف نکل چکا ہے اور دن بدن جرائم میں اضافہ ہوتاجارہا ہے۔
اسلام اسے پسند نہیں کرتا کہ سماج میں فحاشی اور بے حیائی کا وجودرہے۔ ظاہر ہے کہ آج کے جنسی جرائم کا ایک سبب فحاشی بھی ہے۔ سماج میں ایسی صورت حال قدم قدم پر موجود ہے ‘جو جنسی عمل کی جانب انسان کو راغب کرتی ہے ۔ نبویؐ اصولوں کے مطابق جو معاشرہ پروان چڑھتا ہے‘ اس میں اس کی بھی گنجائش نہیں کہ لوگ آپس میں مزے لینے کے لئے جنسیات پر گفتگو کریں یا کسی کی آشنائی کا ذکرکریں۔ اس لئے اس قسم کی باتوں پر بھی سزا مقرر کی گئی ہے۔ اگر کسی نے مردو عورت کو بدکار بنایا اور اس پر چار عادل گواہ نہ پیش کرسکا‘ تو اس کے لئے اسّی کو ڑوں کی سزا ہے۔ یعنی بدکاری کرنا ہی برانہیں ہے‘ بلکہ اس کاذکرکرنا بھی براہے‘ کیونکہ اس قسم کی باتیں بھی جنسی ترغیب دیتی ہیں۔

(مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ) 
14؍ فروری 2018
ادارہ فکروخبر بھٹکل

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES