dushwari

تازہ ترین خبر:

ميانه روى

مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی 

اللہ تعالیٰ نے دنیا میں جتنی چیزیں پیدا فرمائی ہیں عا م طو رپر ان میں افراط و تفریط انسان کے لئے ناگوار خاطر اوردشوار ہوتی ہے ۔ یہاں تک کے انسان کیلئے مفید ترین چیز بھی اگر حد اعتدال سے بڑھ جائے یا حد ضرورت سے کم ہو جائے تو انسان کے لئے رحمت کے بجائے زحمت اور انعام خداوندی کے بجائے عذاب آسمانی بن جاتی ہے ۔ ہوا انسان کے لئے کتنی بڑی ضرورت ہے ؟ لیکن جب آندھیاں چلتی ہیں تو یہی حیات بخش ہوا کتنی انسانی آبادیوں کو تاخت و تاراج کر کے رکھ دیتی ہے۔

پانی زندگی کا سرچشمہ ہے لیکن دریاؤں کی متلاطم موجیں اپنے دائرے سے باہر آ جاتی ہیں تو کس طرح سبز ہ زار کھیتوں اور شاد وآباد بستیوں کو خس وخاشاک کی طرح بہا لے جاتی ہیں ۔ قدرت کے اکثر نعمتوں کایہی حال ہے اس لئے اللہ تعالی ٰ نے اس کائنات کا نظام ، اعتدال پر رکھاہے ، مثلاً زمین کا نظام کشش ہے ۔ زمین میں جو قوت کشش اس وقت موجود ہے اگر اس سے کم ہو جائے تو سائنسدانوں کا خیال ہے کہ انسان کا قدو قامت بلی اور چوہے کی طرح ہو جائے اور بڑھ جائے تو انسان اونچے درختوں بلکہ تاڑ کے درختوں کے ہم قامت ہو جائے ۔ اللہ تعالی نے سورج اور زمین کے درمیان ایک متوازن فاصلہ رکھا ہے ، یہ فاصلہ بڑھ جائے تو زمین برف سے ڈھک جائے گی اور گھٹ جائے تو زمین پر نا قابل برداشت گرمی ہوگی ۔ قدرت کا پورا نظام اعتدال پر قائم ہے اور یہ ترازو رب کائنات نے خود اپنے ہاتھ میں رکھی ہے اس لئے قرآن نے اللہ کو رب العالمین قرار دیا ہے ۔ جیسے ا للہ تعالی ٰ نے اس کائنات کے نظام کو اعتدال پر قائم رکھا فرمایاہے اسی طرح اللہ تعالی اپنے بندوں سے بھی اعتدال چاہتے ہیں اور افراط و تفریط کو نا پسند فرماتے ہیں ۔ بے شک اللہ تمہیں عدل کا حکم دیتے ہیں ( النحل ۹۰)۔
عدل کی روح اعتدال ہے اور جادۂ اعتدال سے ہٹ جانا ہی انسان کو ظلم کی طرف لے جاتا ہے ۔ اعتدال زندگی کے ہر مرحلہ میں مطلوب ہے ، گفتار و رفتار ، خوشی و غم سلوک و برتاؤ وغیرہ ہر شعبہ زندگی میں افراط و تفریط نا پسندیدہ ہے اور اعتدال مطلوب ہے ۔ اگر انسان چل رہا ہو تو اس کی رفتار معتدل ہو نی چاہئے اور اس میں اترا نے کا انداز نہیں ہونا چاہئے ۔ یہ رفتار اور چال کا اندازہ ہے ۔ اللہ تعالی ٰ فرماتے ہیں کہ تم زمین میں اترا کر نہ چلو کہ تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ پہاڑ کی بلندی کو چھو سکتے ہیں ( الاسراء ۳۷) بول چال گفتگو میں اعتدال چاہئے نہ کہ ایسی پست آوازکہ مخاطب سن بھی نہ سکے نہ اتنی بلند ہو کہ حد اعتدال سے گذر جائے ، قرآن میں ارشاد ہے کہ آواز حسب ضرورت پست ہونی چاہئیے گدھے کی آواز بہت بلند ہوتی ہے لیکن سب سے نا پسندیدہ ( لقمان ۔ ۱۹) 
لباس پوشاک میں حضرت رسو ل اللہ ﷺ نے ایسے لباس کو پسند نہیں فرمایاجس کے پیچھے جذبۂ تفاخر کارفرما ہو ۔ آپ خود سادہ لباس استعمال فرماتے اور سادہ لباس استعمال کر نے کی حوصلہ افزائی فرماتے ،لیکن یہ بھی مقصود نہیں کہ آدمی ایسے پھٹے کپڑے پہنے جو اس کے مصنوعی فقر کامظہر ہو ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کسی کو نعمت سے سرفراز فرمائے تو اس نعمت کا اثر ظاہر ہونا چاہئے ۔ دعا کے بارے میں فرمایا کہ آواز بہت بلند نہ ہو بلکہ ایک حد تک پست ہو ، بہت بلند آواز میں دعا کرنے والوں کو اللہ نا پسند کرتا ہے ( الاعراف ۔ ۵۵) ارشاد نبوی ہے کہ بے شوہر خاتون بہ مقابلہ ولی کے خود اپنی ذات کی زیادہ حقدار ہے (ابو داؤو، حدیث ۲۰۹۸) لیکن چونکہ ولی کی شرکت کے بغیرعورت کی نا تجربہ کاری اسے نقصان پہنچا سکتی ہے اس لئے یہ بھی ارشاد نبوی ہے کہ ولی کی شرکت کے بغیر نکاح کا انعقاد بہتر نہیں ہے ( ابو داؤد حدیث ۲۰۸۵) انفاق اسلام میں کس قدر مطلوب اور پسندیدہ عمل ہے ، لیکن قرآن مجید نے یہاں بھی اعتدال پر قائم رہنے کاحکم دیا کہ نہ اپنے ہاتھ بالکل باندھ لو اور نہ اتنا خرچ کرو کہ خود تمہارے لئے حسرت اور ملامت کا سبب بن جائے ۔ (الاسراء۔ ۲۹) ۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ مسلسل روزے رکھتے اور رات بھر نماز پڑھتے تھے ۔ آپ ؐ کو معلوم ہوا تو نا پسندیدگی ظاہر کی اور ارشاد فرمایا کہ کبھی روزے رکھو اور کبھی نہ رکھو ، نماز بھی پڑھو اور سوؤ بھی ۔ کیونکہ تم پر تمہاری آنکھ کا بھی حق ہے ، تمہاری جان کا بھی حق ہے اور تمہاری بیوی کابھی ۔ ( بخاری حدیث۱۹۷۷)۔ جہاد میں دین و ایمان اور نفس کا علانیہ دشمن سامنے ہو تا ہے لیکن اس موقع پر بھی راہ اعتدال کی رہنمائی کی گئی تھی ۔ جو تم سے برسر جنگ ہو تمہاری جنگ ان لوگوں کی حد تک محدود ہونی چاہئے ۔( المائدہ ۸۷) انسان جوش انتقام میں جادۂ انصاف سے ہٹ جاتا ہے اور حد اعتدال سے گذر جاتا ہے اس لئے قرآن میں حکم دیا گیا کہ اگر کسی نے تم پر ظلم کیا ہوتو تمہارے لئے اس کے ظلم کے بقدر ہی جواب کی گنجائش ہے ۔ جواب میں تمہارے لئے انصاف کے دائرے سے آگے بڑھ جانا درست نہیں ہے ( البقرہ ۔ ۱۹۴) جب نفرت کا ماحول پیدا ہوتا ہے اور کسی گروہ کی طرف سے زیادتی کا واقعہ پیش آتا ہے تو فطری طور پر غضب کی آگ بھڑک اٹھتی ہے اور یہ آگ انصاف کے تقاضوں کو سوکھے پتوں کی طرح جلا کر رکھ دیتی ہے ۔ قرآن مجیدمیں خاص طور پر تاکید کی ہے کہ اعدائے اسلام نے تمہیں مسجد حرام سے روک رکھا ہے لیکن ان کی یہ برائی تمہیں انصاف کا دامن چھوڑدینے اور انتقام کی نفسیات سے مغلوب ہو کر آمادہ ظلم کاباعث نہ بنے ۔ (المائدہ ۔۲) ۔ تنقید و احترام دونوں میں میانہ روی مطلوب ہے ۔ یہ جائز نہیں کہ کسی پر تنقید کرتے ہوئے اس کی ذاتیات کو بھی نشانہ بنایا جائے ۔ حضرت رسول اللہ ﷺ نے اپنے بد ترین دشمن کے ساتھ بھی ایسا نہیں کیا ، اور اسلام میں اس بات سے بھی منع کیا گیا کہ احترام میں غلو کی صورت پیدا ہو جائے ۔ اسی لئے غیراللہ کو سجدہ کرنے اور کسی کے سامنے اپنے آپ کو جھکا دینے سے منع کیا گیا 
عا م طور پر دو چیزیں انسان کو راہ اعتدال سے منحرف کر دیتی ہیں ، محبت اور عداوت ، محبت انسان سے بصیرت ہی نہیں بصارت بھی چھین لیتی ہے اور اسے اپنے محبوب کی برائیوں میں بھی بھلائیاں نظر آتی ہیں ۔ یہی حال نفرت و عداوت کا دشمن میں رائی جیسی برائی ہو تو وہ پہاڑ محسوس ہوتی ہے ، اور پہاڑ جسیے خوبی ہو تووہ رائی سے بھی حقیر نظر آتی ہے اسلام نے ان میں اعتدال کا حکم دیا ہے۔ دشمن بھی ہو تو اس کی غیبت اور بہتان تراشی سے منع کیا گیا ہے اور دوست ہو تب بھی اس کی تعریف میں غلو اور مبالغہ اور تملق و خوشامد کو نا پسند کیا گیا ہے ۔ قرآن مجید میں کہا گیا کہ کسی سے عداوت ہو تو اس کو بھی حد اعتدال سے باہر نہ جانے دے۔ ممکن ہے کہ کل اللہ تمہارے اور اس کے درمیان محبت پیدا کر دے ( الممتحنہ ۔۷) ۔
حضرت رسول اللہ ﷺ نے اسے مزیدوضاحت سے فرمایا کہ اپنے دوست سے حد اعتدال میں رہتے ہوئے دوستی کرو ، بعید نہیں کہ کسی دن وہی تمہارادشمن بن جائے اور اپنے دشمن سے بھی بغض میں اعتدال رکھو ، کیا عجیب کہ کسی دن وہی تمہارا دوست بن جائے ( ترمذی حدیث ۱۹۹۸) جو قوم دنیا کے لئے عدل اور اعتدال کی امانت لیکر آئی تھی اور جس سے دنیاکی قوموں نے میانہ روی کاسبق سیکھ کر تہذیب و ثقافت کی منزلیں طئے کیں اور شہرت و ناموری کے با کمام تک پہنچیں ، آج وہی امت افراط و تفریط ، بے اعتدالی اور غلو کا عنوان بن گئی ہے ۔ زندگی کا کون سا شعبہ ہے جس میں ہم نے بے اعتدالی کو اختیار نہیں کیا ۔ تعمیری کاموں میں ہمارا بخل اور بے فائدہ کاموں میں ہماری فضول خرچی دونوں کی مثال نہیں ملتی ۔ احترام و عقیدہ میں ذرہ کو آفتاب بنانا اور اختلاف و عداوت میں چھوٹی چھوٹی باتوں کو وجہ انتشار بنانا ہمارا طرہ امتیاز سمجھا جاتا ہے ۔ لوگوں کے ساتھ سلوک کے معاملہ میں ہماری بے اعتدالی دن رات کا مشاہدہ ہے حقیقت یہ ہے کہ افراط و تفریط آخرت میں اللہ تعالی کی پکڑ اور دنیا میں قوموں کی رسوائی کا سامان ہے اور اعتدال اور میانہ روی آخرت میں سرخروئی اور دنیا میں کامیابی کی کلید ہے ۔ 

(راہ اعتدال عمر آباد جلد ۔۱ء شمارہ۔ ۷، صفحہ ۔ ۹۱ تا ۲۲) 

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES