dushwari

تازہ ترین خبر:

ویلن ٹائم ڈے اسلام کی نظر میں

ڈاکٹر مفتی عرفان عالم قاسمی

ویلنٹائن ڈے کا تعلق اسلام اور مسلمانوں سے کچھ نہیں ہے۔ دراصل یہ دن نصرانیت اور بت پرستی کے حوالے سے وجود میں آیا ہے۔ روم میں عیسائیت سے پہلے بت پرستی رائج تھی۔ ملک روم کا بانی جو نہایت حسن و جمال اور قوت و کمال کا حامل تھا،بتایا جاتا ہے کہ اس کے اندر یہ اوصاف شیرنی کا دودھ پینے کی وجہ سے آیا تھا۔ اس لئے عوام اس کی زندگی میں تو پوجا کرتے ہی تھے مگر اس کے مرنے کے بعد ہی اس کی یاد منانے کا اہتمام کرنے لگے اور اس کام کے لئے انہوں نے فروری کی چودہ تاریخ متعین کر لی تھی۔

رفتہ رفتہ فروری کا یہ دن اہل روم کے لئے نہایت اہمیت اختیار کر گیا بلکہ ان کے لئے مرجع عقیدت بن گیا۔ رومیوں کا ایسا سوچنا تھا کہ چودہ فروری کو موسم سرمارخصت ہوتا ہے اور موسم بہار کی آمد ہوتی ہے، گویا یہ دو موسموں کے ملاپ کا دن ہے۔ اسی مناسبت سے لوگ اس دن شادی بیاہ بھی کرنے لگے۔ یہ بھی حیرت انگیز اتفاق ہے خاص کر ان ہی ایام میں پرندے بھی اختلاط کرتے ہیں ان کے نر و مادہ کا ملاپ ہوتا ہے۔ مادہ پرندے انڈوں پر بیٹھتی ہیں۔ گویا وسط فروری کو پرندے بھی اظہارمحبت کرتے ہیں توانسان کیوں اس سے محروم رہے۔ لہٰذا یہی وہ خیال تھا جس نے ۱۴ فروری کومحبت کادن بناڈالا۔ بہت سے مذہبی لوگ اس دن کو یاد الٰہی میں صرف کرنے لگے۔ اس طرح اہل روم میں یہ دن انتہائی مقدس بن گیا۔ جب روم میں عیسائیوں کا غلبہ ہوا تو اس وقت روم کی عوام عیش و مستی میں مبتلا تھی۔ اس کے برعکس ان کا بادشاہ اکلیڈس جنگ وجدال کا عادی تھا۔ اس نے لوگوں کو فوج میں بھرتی ہونے کے لئے کہا لیکن عیش وعشرت میں مست عوام جنگ وجدال میں حصہ لینے سے گھبراتے تھے۔ بادشاہ نے محسوس کیا کہ عام طور پر شادی شدہ نوجوان فوج میں بھرتی ہو نا پسند نہیں کرتے۔ اس لئے اس نے یہ قانون جاری کر دیا کہ جو لوگ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوں گے، ان کا سر قلم کر دیا جائے گا۔ اس وقت روم کے ایک گرجا گھر میں ویلنٹائن نام کا ایک پادری تھا، اس کا یہ ماننا تھا کہ بادشاہ کا یہ قانون ظلم پر مبنی ہے۔ وہ کھلم کھلاتو بغاوت نہ کرسکتا تھا البتہ اس نے لوگوں کو خفیہ طریقے پر بلا کر ان کی شادیاں کروانے لگا۔ جب یہ خبر بادشاہ کو پہنچی تو اس نے پادری کو سزائے موت سنائی۔ چنانچہ ۲۹۶ عیسوی میں اس پادری کو پھانسی دے دی گئی۔ پچاس سال بعد اس پادری کی یاد میں ایک گرجا گھر بنایا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ جب وہ پادری جیل میں تھا تو اس کو جیلر کی اندھی بیٹی سے جو نہایت خوبصورت تھی، پیار ہوگیا تھا۔ جب جیلر کو اس بات کی خبرلگی تو نہایت آگ بگولہ ہوا۔ ابھی پہلے جرم کا مقدمہ زیر سماعت تھا ہی اب نیا قصہ شروع ہوگیا۔ جج نے اس پادری کو موت کی سزاسنائی۔ اس طرح وہ کیفر کردار کو پہونچا۔پھانسی پر چڑھنے سے پہلے پادری نے اپنی اندھی محبوبہ کو ایک خط لکھا تھا، جس کے اخیر میں یہ عبارت لکھی تھی ’’تمہارے عاشق ویلن ٹائن کی طرف سے اور اس پر۱۴فروری کی تاریخ درج تھی۔ اسی دن سے یہ تاریخ عشق ومحبت کے لئے اہمیت اختیار کر گئی اور اہل روم اپنے محسن پادری کی ادھوری محبت کی یاد تازہ رکھنے کے لئے اور اس کی بے مثال قربانی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ایک دوسرے سے اظہارمحبت کرنے لگے۔ یہ دن مذہبی عقیدت کے حوالے سے وجود میں آیا اور رسم ورواج تحریف در تحریف کے عمل سے گزر کر مغربی عوام کی تاریخ کا ایک شرمناک باب بن گیا۔ آج کے دن نوجوانوں کو اظہارمحبت کے بہانے ان تمام نازیبا حرکات کرنے کی آزادی مل جاتی ہے جن کو وہ عام دنوں میں سر عام نہیں کر سکتے۔ لوگوں کو اپنے محبوب اورمحبوبہ کے سامنے دل کی بھڑاس اور اظہارمحبت کا موقع ملتا ہے اور ایک دوسرے سے قریب ہونے کا موقع ملتا ہے۔ عزت وعصمت کی خوب دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ مغرب کے تجارتی ذہن نے اس دن کو بھی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لئے نفع بخش بنادیا ہے۔ صرف پھولوں کی خرید و فروخت سے کڑوروں ڈالر اور پاؤنڈ کمائے جاتے ہیں۔ گزشتہ سال کے ویلنٹائن ڈے پر صرف برطانیہ میں پچپن ملین پاؤنڈ کے گلاب اور ۲۲ ملین پاؤنڈ کے محبت نامے فروخت ہوئے۔ اف ہے اب مسلم نوجوان بھی اظہارمحبت میں کسی سے پیچھے نہیں رہتے، اسلامی ملکوں کے بھی کچھ اسی طرح کے احوال ہیں۔ یہاں تک کہ عرب کے قلب وجگر سعودی عرب کے شہر ریاض وجدہ میں ۱۴ فروری کی صبح گلاب کی قیمت آسمان سے باتیں کرنے لگتے ہیں۔ گزشتہ سال ویلن ٹائن ڈے پر ایک گلاب کی قیمت ۳۶ ریال تھی۔ حالانکہ اسلام ویلن ٹائن ڈے منانے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس سلسلے میں سورہ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’اور زنا کے قریب بھی نہ بھٹکنا، یقیناًوہ بہت بڑی بے حیائی اور بری راہ ہے۔‘‘ سورہ الذاریہ میں حکم ہے ’’مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہی ان کے لئے پاکیزہ ہے، لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالیٰ سب سے خبردار ہے۔ مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اوراپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کا اظہار نہ کریں۔‘‘ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’کوئی مرد اجنبی عورت سے تنہائی اختیار نہ کرے اس لئے کہ ان دونوں کے درمیان تیسرا شیطان ہوتا ہے۔‘‘ (ترمذی) اسلام عالمگیر اور قیامت تک باقی رہنے والا مذہب ہے اور یہ فطری اور صاف وشفاف مذہب ہے۔ نہ اس میں کسی زیادتی کی گنجائش ہے اور نہ کمی کی۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔‘‘ (آل عمران) ایک جگہ ارشاد ہے ’’جو شخص اسلام کے سوا کسی دوسرے دین کو چاہے گا وہ اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔‘‘ (آل عمران) ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص کسی قوم کے ساتھ مشابہت کرتا ہے تو وہ انہیں میں سے ہوتا ہے۔( ابودؤد) ظاہر ہے ہم ویلن ٹائن ڈے منا کر دوتہذیب کا حصہ بنتے ہیں اور کفار ونصاری کے ساتھ مشابہت کرتے ہیں جو خود ایک بڑا گناہ ہے۔ اسلام میں محبت کوئی جرم نہیں اور نہ ہی محبت کا اظہار گناہ ہے۔ مردوعورت کا رشتہ تو ایک سماجی ضرورت ہے۔ اسلام کا احسان ہے کہ اس نے بہت سی مصلحتوں کی بناء پر اس رشتے کو نکاح کے دائرے میں لاکر تقدیس عطا کردی ہے۔ اب اگر کوئی مرد یا عورت ایک دوسرے کی طرف میلان رکھتے ہیں تو جائز طریقے پراس مقدس رشتے میں منسلک ہو جائیں، اس کے لئے نہ بے حیائی کی چا در تاننے کی ضرورت ہے اور نہ گلاب پیش کر کے برانگیختہ کرنے کی ضرورت ہے، نہ اظہار محبت کرنے کے لئے کسی دن کے انعقاد کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا محبت صرف ایک دن کے لئے مخصوص ہوتی ہے؟ اور کیا محبت صرف مردوعورت کے درمیان ہی پائی جاتی ہے۔ حقیقت تویہ ہے کہ یہ دن بے حیائی اور فحاشی کا دن ہے، اس پر محبت کا پردہ ڈال کر کہ سمجھ لیا گیا ہے کہ اب اس میں کوئی برائی نہیں۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES