dushwari

تازہ ترین خبر:

صیہونیت کے افکار

مولانامحمد وثیق ندوی

صیہونیوں کا عقیدہ ہے کہ دنیا کے تمام یہودی ایک نسل اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔دنیا پر حکمرانی صرف یہودیوں کا حق ہے ، اس مقصد کا حصول اس طرح ممکن ہے کہ دریائے نیل سے لے کر دریائے فرات تک کے علاقوں پر سلطنت قائم کی جائے ۔ان کا عقیدہ ہے کہ یہودی اللہ کی پسندیدہ قوم ہیں او رپوری نسل انسانیت انکی خادم ہے ۔صیہونیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ دنیا پر کنٹرول اور غلبہ حاصل کرنے کے لئے تشدد اوردہشت گردی اور ظلم روا ہے ۔

(صیہونیت آج اسی راستہ پر گامزن ہے ۔فلسطین اور لبنان میں وحشیانہ کاروائیاں اسی عقیدہ کے تحت جاری ہیں)صیہونی کا کہنا ہے کہ یہ زمانہ مال و زر اور دولت و ثروت کا زمانہ ہے لہذا پوری دنیا پر کنٹرول کے لئے سونے کے ذخائر پر قبضہ کرنا ضروری ہے او رسیاست میں اخلاقی قدروں کے لئے کوئی گنجائش نہیں ۔سیاست میں مکر و فریب، خیانت وجھوٹ کو اختیارکرنا چاہئے۔(چنانچہ عالمی سیاست میں یہودی اسی کو اختیار کئے ہوئے ہیں)
صیہونیت کا یہ عقیدہ ہے کہ مقصد کے حصول کے لئے رشوت اور غداری کو بلاجھجک اختیار کرنا چاہئے۔صیہونی دانشوروں کے پرو ٹوکول میں ذرائع ابلاغ کے بارے لکھا ہے ہم یہودی پوری دنیا پر کنٹرول پانے کے لئے سونے کا ذخائر پر قبضہ کو مرکزی اور بنیادی اہمیت دیتے ہیں تو ذرائع ابلاغ بھی ہمارے مقاصد کے حصول کے لئے دوسرا اہم درجہ رکھتا ہے ۔ ہم میڈیا کو اپنے کنٹرول میں رکھیں گے ۔ ہم اپنے دشمنوں کے قبضہ میں کوئی ایسا مؤثر اور طاقتور اخبار نہیں رہنے دینگے کہ وہ اپنی رائے کو مؤثر ڈھنگ سے ظاہر کرسکیں او رنہ ہی ہماری نگاہوں سے گذرے بغیر کوئی چیر سوسائٹی تک پہونچنے دینگے ۔ ہم ایسا قانون بنائیں گے کہ کسی ناشر اور پریس والے کے لئے یہ ناممکن ہوجائے گا کہ وہ پیشگی اجازت لئے بغیر کوئی چیز چھاپ سکے۔ اس طرح ہم اپنے خلاف کسی بھی سازش ، معاندانہ کاروائی سے باخبر ہوجائیں گے۔ہمارے قبضہ اور تصوف میں ایسی ایجنسیاں، اخبارات اور رسائل ہونگے، جو مختلف گروہوں اور جماعتوں کی حمایت کرینگے ، خواہ یہ جماعتیں جمہوریت کی داعی ہوں یا انقلاب کی حامی، حتی کہ ہم ایسوں کی سر پرستی کرینگے جو انتشار و بے راہ روی، جنسی و اخلاقی انارکی کو بڑھاوادینگے اور استبدادی حکومتوں اور مطلق العنان حکمرانوں کی بھی حمایت کریں گے۔ ہم جب اور جہاں چاہیں گے قوموں کے جذبات کو مشتعل کرینگے اور حسب مصلحت انہیں پرسکون بھی کرینگے ، ان کاموں کے لئے جھوٹی خبروں کو ایسے انداز و اسلوب میں پیش کرینگے کہ حکومتیں بھی اور اقوام بھی انکو ماننے پر مجبور ہوجائیں۔ ہمارے اخبارات و رسائل ہندوؤں کے معبود وشنو کی طرح ہونگے ، جسکے سینکڑوں ہاتھ ہوتے ہیں، ہم ایسے ایڈیٹروں اور نامہ نگاروں کی ہمت افزائی کرینگے جو بد کردار ہوں اور ان کا اخلاقی ریکارڈ اچھا نہ ہو اور یہی معاملہ سیاست دانوں اور سیاسی لیڈروں کے ساتھ ہوگا، ان کو خوب تشہیر کے ذریعہ دنیا کے سامنے ہیرو بنا کر پیش کرینگے ، لیکن ہم جیسے ہی محسوس کرینگے کہ وہ ہمارے لئے غیر مفید، غیر ضروری ہیں تو ان کی شہرت کو داغدار کردینگے۔ ہم تمام ذرائع ابلاغ کو یہودی خبر رساں ایجنسیوں کے ذریعہ کنٹرول کرینگے۔ ہم دنیا کو جس رنگ کی تصویر دکھانا چاہیں گے، وہ پوری دنیا کو دیکھنا ہوگا۔جرائم کی خبروں کو ہم غیر معمولی اہمیت دینگے ،تاکہ پڑھنے اور دیکھنے والوں کا ذہن اس طرف مائل ہو کہ وہ مجرم کے ساتھ ہمدردی کرے۔
صیہونیوں کا یہ بھی منشاء ہے کہ دنیا کی تمام طاقتوں کے درمیان عداوت و عناد کو پیدا کریں اور ان کے درمیان کشمکش او رجنگ بھڑکائیں، تاکہ آپس میں لڑکر ساری طاقتیں کمزور ہوجائیں اور حکومتیں بے بس ہوجائیں ۔کمزور قوموں اور ملکوں کو آمادہ کرینگے کہ وہ ہمارے ساتھ ہوجائیں ۔ان کی ضروریات کو پورا کرکے ان کی ہمدردی حاصل کرینگے پھر ان کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرینگے۔
( پندرہ روزہ تعمیر حیات لکھنؤصفحہ ۲۳۔۲۵، شمارہ ۲۱۔۲۰۰۶ء)

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES