dushwari

تازہ ترین خبر:

دمدار ستارے کی موت - فلکیاتی سائنس کا ایک محیر العقول واقعہ

انسانی تاریخ میں جب پہلی مرتبہ سائنسدانوں نے دو اجرام فلکی کا ٹکراؤ اپنی آنکھوں سے دیکھا

طارق محمود طالب

 اللہ رب العزت کی کائنات بہت وسیع ہے ۔لاکھوں کروڑوں سیارے اور ستارے اس کائنات کی وسعتوں میں تیر رہے ہیں۔ جن میں سے چند ایک کو ہم دیکھتے ہیں۔ اور کروڑوں ایسے ہیں۔ جن تک کسی انسانی آنکھ کی آج تک رسائی نہیں ہو سکی ۔ہمارا نظام شمسی آٹھ سیاروں اور ایک ستارے یعنی سورج پر مشتمل ہے ۔ اس پورے نظام شمسی کی حیثیت اس کائنات میں اتنی بھی نہیں ہے۔ جتنی پولوگراؤنڈ میں پڑے ہوئے مٹر کے ایک دانے کی ہوتی ہے ۔ ہمارا پورا نظام شمسی جس کہکشاں کے بیرونی سرے پر واقع ہے ۔

اس کہکشاں کے مرکز سے ہمارا سورج 26ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے ۔ یہ تو آپ جانتے ہیں۔ کہ روشنی ایک لاکھ چھبیس میل فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے فاصلہ ایک سال میں طے کرتی ہے۔ اسے ایک نوری سال کہتے ہیں ۔اس کہکشاں کی لمبائی ایک اندازے کے مطابق اسی ہزار نوری سال سے لے کر ایک لاکھ بیس ہزار نوری سال ہے ۔ اگر ہمارا سورج اس کہکشاں کے گرد صرف ایک چکر لگانا چاہے تو اسے دو سو سے دو سو پچاس ملین سال درکار ہوں گے ۔ اس کہکشاں کے مدار میں ہمارا پورا نظام شمسی 250کلو میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے بھاگا جا رہا ہے ۔ یہ کہکشاں دو سو بلین ستاروں پر مشتمل ہے۔ ہار لو شیپلے Harlow Shapleyنامی ایک امریکی سائنسدان نے اس کہکشاں کے بارے میں معلومات 1918ء میں اکٹھی کی تھیں۔
یہ تو ایک کہکشاں کی بات ہے۔ اس جیسی لاکھوں کہکشائیں اور ہمارے سورج جیسے لاکھوں سورج رب ذوالجلال کی اس وسیع عریض کائنات میں کسی انجانی منزل کی طرف سفر کر رہے ہیں ۔اب ذرا تصور کریں کہ اتنی بڑی کائنات میں ہماری کہکشاں کی کیا حیثیت ہے ۔ پھر اس کہکشاں کے ایک سرے موجود نظام شمسی اور اس کا دیو ہیکل سورج اور بڑے بڑے سیارے ۔پھر اس پورے نظام شمسی میں سے جسامت کے لحاظ سے پانچویں نمبر پر ہماری زمین ۔پھر زمین کی وسعتیں اور اس کے پہاڑوں اور سمندروں سے ہوتے ہوئے اپنے وجود پر نگاہ دوڑائی جائے۔ تو انسان اس رب کریم کی عظمتوں کا قائل ہو کر رہ جاتا ہے ۔تمام تعریفیں اسی مالک کو سزا وار ہیں۔جس نے اتنی بڑی کائنات کا مالک اور بادشاہ ہوتے ہوئے بھی انسان کو اشراف المخلوقات بنایا ہے ۔ اس وحدہ لا شریک رب کا فرمان ہے کہ جب آدم کا بیٹا اپنی پیشانی زمین پر رکھ کر میرے بلند رتبے کا اعتراف کرتا ہے تو مجھے بہت اچھا لگتا ہے ۔
خیر! بات ہو رہی تھی۔ ستاروں اور سیاروں کی کہ ہر ستارہ اور سیارہ اپنے اپنے دائرے میں تیر رہا ہے ۔ پوری انسانی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی ستارہ کسی دوسرے سے ٹکرا گیا ہو۔ لیکن 1994ء میں یہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ۔ اور آسمان کی وسعتوں میں موجود دو اجرام فلکی کے ٹکرا جانے کے امکانات پیدا ہو گئے ۔ اس تصادم کے تصور نے ہی سائنسدانوں کو دم بخود کر کے رکھ دیا ۔ہوایہ کہ ایک دمدار ستارہ نظام شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی کشش ثقل کی زد میں آکر ٹوت گیا اور اس کے اکیس ٹکڑے 60کلو میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے مشتری کی طرف بڑھنے لگے ۔ دو خلائی اجسام کے اس خوفناک ٹکراؤ کے دو پہلو تھے ۔ایک پہلو یہ تھا کہ سائنسدان زندگی میں پہلی مرتبہ ایسا تصادم مختلف دور بینوں کی مدد سے اپنے آنکھوں سے دیکھنے والے تھے لیکن محرومی کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ یہ منظر عام آدمی کسی صورت نہیں دیکھ سکتاتھا ۔اس ٹکراؤ کی تفصیل میں جانے سے پہلے ضروری ہے کہ دونوں اجرام فلکی کی الگ الگ حیثیت اور اہمیت کا اندازہ لگائیں تاکہ بات آسانی سے سمجھ آ سکے ۔
مشتری ہمارے نظام شمسی کا سب سے بڑا اور سورج ، چاند اور وینس کے بعد آسمان دنیاء کا سب سے روشن سیارہ ہے ۔ اس کی سب سے بڑی خصوصیت اس کے ارد گرد موجود مختلف رنگوں کی پٹیاں اور ایک بڑا سرخ بیضوی نشان ہے۔ جو در حقیقت گیسوں کا ایک طوفان ہے ۔ یہ نشان 12ہزار کلو میٹر چوڑا اور 25ہزار کلو میٹر لمبا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ یہ نشان اتنا بڑا ہے کہ اس میں دو زمینیں بآسانی رکھی جا سکتی ہیں ۔سائنسدانوں کے مطابق گیسوں سے بنے ہوئے کسی سیارے پر اس نشان کا سینکڑوں سال موجود ہنا ایک حیران کن امر ہے ۔ آپ یہ بات پڑھ کر بھی حیران ہوں گے کہ فروری 2004تک مشتری کے 63چاند دریافت ہو چکے ہیں ۔ 1610ء میں سب سے پہلے گیلیلیو نے اس کے چار چاند دریافت کیے تھے جنہیں گیلیلیو کے چاند بھی کہا جاتا ہے ۔ مشتری زیادہ تر گیسوں پر مشتمل ہے جن میں 90فی صد ہائیڈروجن اور 10فی صد ہیلیم گیس شامل ہے ۔
یہ جس قدر حرارت سورج سے حاصل کرتا ہے اس سے دو گنا حرارت خارج کر دیتا ہے ۔ اس کی سطح پر ایک غیر معمولی طور پر طاقتور مقنا طیسی میدان موجود ہے ۔اس کی کشش ثقل زمین کی کشش ثقل سے 254فی صد زیادہ ہے ۔ یوں کہہ لیں کہ اگر 100پونڈوزنی شخص کو مشتری پر کھڑا کیا جائے تو اس کا وزن اس کی طاقتور کشش ثقل اس ٹکراؤ کا سبب بنی جس کا آگے چل کر ہم ذکر کریں گے ۔مشتری کا وجود اتنا بڑا ہے کہ اگر یہ اندر سے کھوکھلا ہوتا تو نظام شمسی کے سارے سیارے اس میں سما جاتے۔ اس کا قطر ایک لاکھ 42ہزار 8سو کلو میٹر ہے ۔ اس بات کو یوں سمجھ لیں کہ اگر گیارہ زمینیں اکٹھی کی جائیں تو مشتری قطر کے لحاظ سے پھر بھی ان سے بڑا ہوگا ۔یہ زمین کے 9.8گھنٹوں میں اپنے محور کے گرد اپنی گردش مکمل کرتا ہے جبکہ اس کا ایک سال زمین کے 11.86سالوں کے برابر ہے ۔ سورج سے اس کا فاصلہ زمین کی فسبت 5.2گنا زیادہ ہے ۔یہ سورج سے 77کروڑ 83لاکھ 30ہزار کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ۔تحقیقات کی غرض سے اس کی طرف بھیجا جانے والا خلائی سیارہ 10.PIONEERتھا جو 1973میں بھیجا گیا ۔اس کے بعد مختلف سیارے اسی غرض سے بھیجے جاتے رہے جن میں گیلیلیو نامی سیارہ مشتری کے کے گرد آٹھ سال تک گردش کرتا رہا ۔
یہ تو بھی نظام شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی کیفیت ۔ اب ہم آتے ہیں۔ اس دمدار ستارے کی طرف جو اس سے ٹکرایا ۔ 25مارچ 1993ء کو دو امریکی سائنسدان کیرولین شومیکر Carolyn Shoemakerاور ڈیوڈ لیوی David Levy امریکی ریاست کیلی فورنیا کی پہاڑی ’’ ماؤنٹ پلومر‘‘ پر نبی رصدگاہ میں ڈیوٹی پر موجود تھے ۔وہ دونوں ایک بہت بڑے اور طاقتور کیمرے سے آسمان کی تصویریں ہنا رہے تھے ۔در اصل وہ ایسے خلائی اجسام کی تلاش کر رہے تھے۔ جن کا زمین سے ٹکراؤ ہو سکتا تھا ۔انہوں نے آسمان کے ایک بڑے حصے کی تصویر بنائی ۔ پینتا لیس منٹ بعد جب انہوں نے دوبارہ اسی حصے کی تصویر بنائی تو دونوں تصویروں کے مواز کے دوران انہیں دوسری تصویر میں یہ دمدارستارہ نظر آیا ۔ اس طرح اس ستارے کا نام ان ہی دوسائنسدانوں کے نام پر سومیکرلیوی نائن رکھا گیا ۔اس کی دریافت کے چندون بعد یہ انکشاف ہوا کہ یہ ستارہ سورج کی بجائے مشتری کے محور پر گھوم رہا ہے ۔ یہ ایک ایسا عجیب و غروب دمدار ستارہ تھا ۔جس کا وجود آپس میں جڑے ہوئے 21مختلف ٹکڑوں پر مشتمل تھا ۔اس کی لمبائی تقریباََ 10کلو میٹر تھی ۔7جولائی 1992کو یہ دمدار ستارے جب مشتری کے محور پر گھومتا ہوا اس سے ایک لاکھ بیس ہزار کلومیٹر کے فاصلے سے گذار تو مشتری کی بے پناہ کشش ثقل کی زد میں آکر ٹوٹ گیا ۔اور اس کا وجود 21چھوٹے بڑے ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا ۔ جن میں سے ہر ٹکڑے کا قطر دو سے چار کلومیٹر تھا ۔یہ ٹکڑے 60کلو میٹر فی سینکڈ کی رفتار سے مشتری کی طرف سفر کرنے لگی ۔
یہ وہ لمحہ تھا۔ جب فلکیاتی سائنس کی دنیاء میں تہلکہ مچ گیا ۔پوری دنیاء کے سانئسدانوں کی توجہ مشتری کی طرف ہو گئی ۔سائنسدانوں کا انداز تھا ۔کہ یہ ٹکڑے جولائی 1994ء کے تیسرے ہفتے میں مشتری سے ٹکراجائیں گے ۔پھر یہی ہوا 16جولائی 1994ء کو اس کا پہلا ٹکڑا مشتری سے ٹکرایا ۔یہ ٹکراؤ اس قدر شدید تھا کہ اس کے نتیجے میں آگ اور گیس کا جو طوفان اٹھا اس کے تصور سے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔پہلے ٹکڑے کے ٹکرانے سے جو شعلے بلند ہوئے۔ اس کی بلندی چھ ہزار کلو میٹر تھی ۔لیکن جب اس کا دوسرا ٹکڑا مشتری سے ٹکرایا تو شعلوں کی بلندی بارہ ہزار کلو میٹر تک پہنچی ۔ ذرا تصور کریں کہ آگ کے جس طوفان کے شعلے بارہ ہزار کلو میٹر بلند تھے۔ اس طوفان کی کیفیت اور بیبت کیا ہوگی ؟ چھ دن تک اس کے مختلف ٹکڑے مشتری سے ٹکراتے رہے ۔چونکہ مشتری اپنے محور پر تیزی سے گھوم رہا تھا۔ اس لیے ٹوٹے ہوئے دمدار ستارے کے ٹکڑے اس کی سطح پر کسی ایک جگہ نہیں ٹکرائے۔ بلکہ وقفے وقفے سے مختلف جگہوں پر ٹکراتے رہے ۔اس تصادم کے نتیجے میں جو توانائی پیدا ہوئی وہ ساٹھ لاکھ میگا ٹن تھی ۔اس حیقیقت کو یوں سمجھ لیں کہ دنیا کی ساتوں ایمٹی طاقتوں کے پاس جتنے بھی ایٹم بم موجود ہیں۔ اگر سارے کے سارے بیک وقت چلا دیے جائے۔ تو جو توانائی پیدا ہوگی ۔مشتری کی سطح پر اٹھنے والے طوفان کی قوت اس توانائی سے بھی 750گنا زیادہ تھی ۔اس ٹکراؤ کے نشانات مشتری کی سطح پر اب بھی موجود ہیں ۔یہ ٹکراؤ اتنا خوفناک تھا کہ اس سے اڑنے والے آگ کے بلبلے اور سیاہ نشان ایک سال تک مشتری کی سطح پر دکھائی دیتے رہے ۔سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اگر ہمارے اور مشتری کے درمیان خلا واقع نہ ہوتی اور آواز کے سفر کرنے کا کوئی ذریعہ موجود ہوتا تو اس ٹکراؤ سے پیدا ہونے والی گونج ہی دنیا کو تباہ کرنے کے لیے کافی تھی ۔


(مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔) 
12؍ فروری 2018
ادارہ فکروخبر بھٹکل 

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES