dushwari

تازہ ترین خبر:

مدد خدا

مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی

اﷲ تعالیٰ نے امت مسلمہ پر عالمی برادری کو ان راہوں سے ہٹانے اور بچانے کی عظیم ذمہ داری ڈالی ہے ،جو راہیں دنیا و آخرت دونوں کے لحاظ سے بگاڑ و تباہی لاتی ہیں۔ یہ راہیں وہ ہیں جو انسان میں خود غرضی ، نفس پرستی اور من مانی زندگی اختیار کرلینے کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں ۔ انسان اپنی خود غرضی اور من مانی زندگی کے اثرات سے اپنے پروردگار کے حکموں کو نظر انداز کرتا ہے اور اس کے پیغمبروں ؑ کی تعلیمات سے دست کش ہوجاتا ہے ، آپس میں ایک دوسرے کے حقوق کو سلب کرتا ہے اور اپنی نفسانی اغراض کی خاطر ایک دوسرے سے ٹکراتا ہے ،

اس کے نتیجہ میں سب ہی نقصان اٹھاتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کی ذات بڑی رحیم و کریم ہے وہ ایسے بگاڑ اور خرابی کو درست کرنے کے لئے اپنے بندوں میں ان لوگوں کو جو اس کے حکموں کو ماننے والے اور اس کی مرضی پر چلنے والے ہوتے ہیں ، کھڑا کرتا رہتا ہے ، چنانچہ یہ کام اس کے نبی ؑ اپنے اپنے زمانے میں انجام دیتے رہے پھر اﷲ تعالیٰ نے یہ کام اپنے آخری نبی حضرت محمد ﷺ سے لیا اور ان کے بعد اپنے نیک بندوں سے یہ کام لیتا رہا ہے ، جو اپنے نبی ؐ کی لائی ہوئی تعلیمات کے مطابق زندگی گذارنے اور اصلاح و ارشاد کے کاموں کی ذمہ داری انجام دیتے ہیں۔ 
اس کام کے انجام دینے میں ان کو بڑی دشواریاں پیش آتی ہیں اور بد اخلاق و کردار لوگ رکاوٹ ڈالتے اور دشمنی کا رویہ اختیار کرتے ہیں جس کی وجہ سے داعی حق کو زحمتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور تکلیفیں اٹھانا پڑتی ہیں اور دنیا کی بعض نعمتوں سے ان کو محروم بھی ہونا پڑتا ہے ۔ لیکن اس کا اجر دنیا میں عزت کو شکل میں اور آخرت میں جزا ء کی شکل میں ملتا ہے۔ 
دنیا میں ہر طرف اس وقت من مانی اور خدا کے حکم کے خلاف زندگی گذارنے کا ایک سلسلہ قائم ہے ۔ عورتوں کی بے حجابانہ آزادی ، حرام آمدنی کے بے تکلف حصول ، جنسی انار کی ، قومی اور شخصی مفاد کی خاطر ، دوسروں کی حق تلفی اور ظالم و طاقتور کی طرف سے کمزوروں کا استحصال ، ایسے بڑے پیمانے پر عمل میں آرہا ہے کہ اس کی تفصیلات ، حیران کردینے والی ہیں۔ امت مسلمہ کے افراد میں اپنی ساری کمزوریوں کے باوجود اپنی شریعت کی بناء پر یہ خرابیاں دوسروں کے مقابلے میں کم ہیں، یہ شریعت اپنی صداقت و جرأت کی بناء پر دنیا کے دیگر قوموں اور طبقات کی طرف سے مخالفت و دشمنی کا نشانہ بنتی ہے ، اسی مخالفت و دشمنی کو مسلمانوں کو جھیلنا اور اس کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے ، اسی طرح دنیا کی جاہلیت نواز قومیں ایک طرف اور امت مسلمہ ایک طرف ہوگئی ہے اور سب کا نشانہ بن رہی ہے ۔ اس پر اور اس کی شریعت پر مختلف انداز سے حملے ہورہے ہیں اور بدارادوں کے تحت برے القاب سے لوگوں کی نظروں سے گرانے کی کوشش کی جارہی ہے ، پھر یہی نہیں بلکہ اس کام کو بین الاقوامی پیمانہ پر انجام دیا جارہا ہے اور اس کے لئے آلات حرب و ضرب استعمال کرکے مخالفت کے جذبے کو دبانے کے منصوبے بنائے جاتے ہیں ، اس وقت دنیا کا شاید ہی کوئی مسلمان ملک ایسا ہو جوان باتوں کا نشانہ نہ بن رہا ہو ۔
حالات جتنے بھی خراب ہوں مسلمانوں کو مایوس نہ ہونا چاہئے اور حق کے بالآخر سر بلند ہونے اور باطل کے سرنگوں ہونے کی توقع رکھنی چاہئے ، لیکن اپنے اخلاق و کردار کو ایسا درست رکھنا چاہئے جو امت اسلامیہ کے شایان شان ہے اور اپنی انفرادی اور قومی دونوں طرح کی زندگی کو حق و صداقت کے معیار کے مطابق اجر و ثواب کی امید رکھتے ہوئے صبر و ثبات کا ثبوت دینا چاہئے ، باطل کے سلسلہ میں اﷲ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ حق کے مقابلے میں زیادہ ٹھہر نہیں سکتا حق آیا اور باطل چھٹ گیا ، بے شک باطل چھٹ جانے والا ہے ، اور تم ہی سربلند ہو ، اگر تم اصحاب ایماں ہو۔

(پندرہ روزہ، تعمیر حیات لکھنو، جلد ۔۴۰، شمارہ۔ ۷)

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES