dushwari

تازہ ترین خبر:

محبت کی آگ میں نفرت کاتیل،ووٹ کے لئے فرقہ پرستوں کا سیاسی کھیل

غوث سیوانی

ہریانہ کا ریواڑی بس اسٹینڈ عام دنوں کی طرح ہی مصروف نظر آرہا تھا۔ بسوں میں عام دنوں کی طرح ہی مسافر چڑھتے اور اترتے نظر آرہے تھے۔اسی بیچ ایک شادی شدہ جوڑا دکھائی پڑا جو ابھی ابھی شادی کرکے کہیں سے آرہا تھا۔ اس کے پاس کچھ لوگ آئے اور ان کے نام پوچھنے لگے۔ دولہا ،دلہن نے اپنے نام بتائے مگر تفتیش کرنے والوں کو تشفی نہیں ہوئی اور انھوں نے کوئی ’’آئی ڈی پروف‘‘ مانگا۔دونوں نے شناختی کارڈدکھائے مگر اس کے باوجود انھیں یقین نہیں آیا کہ دولہا اور دلہن دونوں ہندو ہیں، انھیں شک تھا کہ لڑکا مسلمان ہے اور لڑکی ہندو ہے۔

حد تو تب ہوگئی جب ان لوگوں نے دولہے کو حکم دیا کہ وہ کپڑا کھول کر’’ختنہ‘‘ دکھائے اور ثابت کرے کہ وہ مسلمان نہیں ہے اور جان بچانے کے لئے دولہے کو سرعام ننگا ہونا پڑا۔ یہ معاملہ جس علاقے کا ہے وہ راجستھان کی سرحد سے متصل ہے اور واقعے کے بعد جب اس جوڑے نے پولس میں شکایت کی تو وہ بھی خاموش رہی گویا کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ بہرحال جب معاملے نے طول پکڑا توکچھ انجان لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ یہ واقعہ ’’لوجہاد‘‘ کے نام پر دہشت کی ایک مثال ہے۔ ملک بھر میں’’ لوجہاد‘‘ کے نام پر کچھ بھگوا تنظیموں اور نیوز چینلوں نے جو دہشت پیدا کی ہے،اسی کے سبب یہ واقعہ سامنے آیا۔ جس طرح سے بھوت کا کوئی وجود نہیں اور آج تک کسی نے اسے نہیں دیکھا ہے مگر دنیا کے بیشترلوگ مانتے ہیں کہ بھوت ہوتے ہیں، ٹھیک اسی طرح اگرچہ ’’لوجہاد‘‘ کا کوئی وجود نہیں مگر اس کے نام پر اس قدر شور مچایا گیا کہ ملک کے ہندووں کو یقین ہوگیا کہ ان کی بیٹیاں محفوظ نہیں ہیں اور ملک بھرکے تمام مسلمان لڑکوں کا بس ایک ہی کام ہے کہ وہ ہندو لڑکیوں کو پٹاتے پھریں اور انھیں مسلمان بناکر شادی کریں۔
لوجہاد یا ووٹ جہاد؟
اسلام چونکہ کسی بھی علاقے، خاندان، رنگ ونسل میں رشتہ کی اجازت دیتا ہے بشرطیکہ ،وہ مسلمان ہو، ایسے میں بہت سے مسلمان لڑکے، ان لڑکیوں سے شادی کے لئے تیار ہوجاتے ہیں جومسلمان ہوں، خواہ نئی نئی مسلمان ہوئی ہوں۔ اسلامی تعلیمات سے نابلدبعض مسلمان، ایسی لڑکیوں سے بھی شادیاں کرلیتے ہیں جومشرک ہوتی ہیں ۔ اس قسم کی شادیوں کی صدیوں پرانی روایت ہے اور یہاں بین مذاہب شادیاں ہوتی رہی ہیں۔بھارت کا آئین یہاں کے بالغ شہریوں کو اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے اپنے مذاہب پرقائم رہتے ہوئے ، شادی کرسکتے ہیں، مگر بھگواوادیوں کو ایسی شادیوں میں ’’لوجہاد‘‘نظر آتا ہے اور آئے دن اس پر ہنگامہ آرائی ہوتی رہتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ عوام کو مذہب کے نام پر بانٹ کر ووٹ پانے کی کوشش کرتے ہیں،ان کے لئے یہ ایک بڑا سیاسی ایشو ہے جو ’’لوجہاد ‘‘کے نام پر ’’ووٹ جہاد‘‘ میں مصروف ہیں۔ حالانکہ انھیں اکثر منہ کی کھانی پڑتی ہے۔ 
محبت پرسیاست 
مبینہ ومفروضہ ’’لوجہاد‘‘ کے جواب میں سنگھ پریوار کی طرف سے ’’بہولاؤ ،بیٹی بچاؤ‘‘مہم چلائی جاتی ہے۔’’ بہو لاؤ‘‘ کا مطلب ہے ’’مسلمان بہو‘‘۔ گزشتہ دنوں بجرنگ دل کے ایک نیتا اجو چوہان نے اعلان کیا تھا کہ وہ 21سو مسلم بہویں لائینگے۔ حالانکہ آج تک انھیں ایک بھی مسلم بہو نہیں ملی۔ چوہان نے اعلان کیا تھا کہ وہ ’’لو جہاد‘‘ کے خلاف ’’بہو لاؤ بیٹی بچاؤ‘‘ مہم چلائیں گے۔ اس کے تحت اگلے چھ مہینوں میں یو پی میں 2100 ہندوؤں کی مسلم لڑکیوں سے شادیاں کرائی جائیں گی۔ حالانکہ اب وہ منچ چھوڑ چکے ہیں۔ادھر دوسری طرف وشو ہندو پریشد کے ایک نیتا گوپال نے اعلان کیاتھا کہ اگر مسلمان ’’لوجہاد‘‘سے باز نہیں آئے تو وہ بجرنگ دل کے لڑکوں سے کہیں گے کہ وہ بھی مسلم لڑکیوں کو بہلانے پھسلانے کی کوشش کریں۔ اسی کے ساتھ اترپردیش، راجستھان سمیت ملک کے کئی خطوں میں حالیہ ایام میں ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ بھگواتنظیمیں سرگرم ہیں اور کہیں ’’لوجہاد‘‘ کے نام پر تو کہیں تبدیلی مذہب کے نام پر ہنگامہ بپا کئے ہوئے ہیں مگر ان کا اصل مقصد سماج کے اتحاد کو نقصان پہونچانا اور سیاسی فائدہ اٹھاناہے ۔ انھیں معلوم ہے کہ ان کی مہم کبھی کامیاب نہیں ہونے والی۔
دھرم سنسد میں بیان
پچھلے دنوں کرناٹک کے اڈپی میں منعقد ہوئے ’’دھرم سنسد‘‘ یعنی ہندو سنتوں، مٹھادھیسوں ، وشو ہندو پریشداور سنگھی تنظیموں کے اجتماع میں VHP کے سکریٹری گوپال نے کہا کہ اگر مسلمانوں نے ’’لوجہاد‘‘بند نہیں کیا تو مسلم لڑکیوں کو رجھانے کے لئے ہم بھی اپنے (بجرنگ دل کے) لڑکے بھیجیں گے ۔ گوپال کے بیان کا سوشل میڈیا پر خوب مذاق بنا اور لوگوں نے لکھا کہ بجرنگ دل جیسی تنظیموں کے لوگ اگر لڑکیوں کو رجھانے کی کوشش کریں تو اس سے بہتر لڑکیوں کے لئے اور کیا ہو سکتا ہے لیکن اس تجویز کے ساتھ ایک بری چیز یہ ہے کہ یہ ہندولڑکیوں کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ مساوات کے قانون کے مطابق VHP اور بجرنگ دل کے نوجوانوں کو مذہبی طور پر کوئی امتیاز نہیں کرنا چاہئے۔سنگھی لیڈرگوپال نے اپنے اس بیان سے کس قدر لوگوں کا من موہ لیا ہے اس کا گواہ ٹوئٹر ہے۔ٹویٹر نے گوپال کو ان لڑکیوں کا مسیحا قرار دیا ہے جواپنے خوابوں کے راجکماروں کے انتظار میں بیٹھی ہیں۔اگرچہ بعض لوگوں نے اسے عجیب قرار دیا کہ،جس بجرنگ دل نامی تنظیم کا نام برہمچاریہ کے دیوتا کے نام پر رکھا گیا ہے ،اس کی جانب سے یہ اعلان آیا ہے۔ ٹوئٹر پر پایل نامی لڑکی نے لکھا وی ایچ پی کو جلد ہی اپنی یہ اسکیم ہندو خواتین کے لئے بھی لانچ کردینی چاہئے ،ورنہ ہندو لڑکیاں کنواری بیٹھی رہیں تو مسلمان مردوں کے ’’لوجہاد‘‘ کا حصہ ہوجائینگی۔
محبت مخالفوں کے منہ پر عدالت کا طمانچہ
بھارت میں اگر دوبالغ اپنی مرضی سے کوئی مذہب اپنائیں یا شادی کریں تو انھیں اس کی اجازت ہے ، کوئی روک نہیں سکتا۔ گزشتہ دنوں راجستھان ہائی کورٹ نے ایک ہندو لڑکی کواجازت دی کہ وہ اسلام قبول کر مسلم نوجوان سے شادی کرسکتی ہے۔ عدالت نے لڑکی سے پوچھا کہ وہ اپنے والدین کے گھر جانا چاہتی ہے یا ناری نیکتن میں رہنا چاہتی ہے تو لڑکی نے دونوں میں سے کسی بھی ایک مقام پر جانے سے انکار کردیا اور اپنے شوہر فیض کے ساتھ چلی گئی۔ جسٹس گوپال کرشن ویاس کی ڈویڑن بنچ کے سامنے لڑکی کو پیش کیا گیا تھا، جہاں عدالت نے اس کی مرضی پوچھی اور پھر پولیس سے کہا کہ وہ اسے آزادانہ طور پر جانے دے۔عدالت نے کہا کہ وہ ایک بالغ ہے اور اس کے پاس اپنی مرضی سے کہیں بھی رہنے کا حق ہے۔ پولیس کے مطابق،گزشتہ سال اپریل میں پایل نے اسلام قبول کرلیا تھا اور جودھ پور کے رہنے والے فیض مودی سے شادی کرلی تھی۔حالانکہ اس کے اہل خاندان نے یہ کہہ کرتبدیلی مذہب اور شادی کو چیلنج کیا تھاکہ پایل ان کے ساتھ اکتوبرتک گھر میں ہی تھی۔ ایسا ہی ایک معاملہ سپریم کورٹ میں کیرل کی ہادیہ کا گیا تھا جس نے اسلام قبول کر ایک مسلم نوجوان سے شادی کیا تھا۔
مسلم نوجوان کیوں پسندآتے ہیں؟ 
یہ ایک بین الاقوامی سچائی ہے کہ بہت سی غیرمسلم لڑکیاں، مسلمانوں سے شادی کرنا پسند کرتی ہیں۔امریکہ اور یوروپ سے لے کر بھارت تک اس کی لاکھوں مثالیں دیکھی جاسکتی ہیں۔ ان شادیوں کے پیچھے بہت سے عوامل ہوسکتے ہیں جن میں سے ایک محبت بھی ہے، مگر یہ خیال بالکل غلط ہے کہ اس کے لئے مسلمانوں کی طرف سے باقاعدہ کوئی تحریک چل رہی ہے اور وہ ایسی شادیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ممکن ہے غیرمسلم خواتین کو مسلمان مرد زیادہ ذمہ دارلگتے ہوں۔ بعض خواتین کو شراب پینے والے مرد اچھے نہیں لگتے اور آج بھی مسلمانوں میں شراب نوشی کی برائی دوسری اقوام کے مقابلے بہت کم ہے۔ بہرحال اپنے آپ میں یہ ایک قابل تحقیق موضوع ہے کہ مسلمان مرد،غیر مسلم خواتین کو کیوں بھاتے ہیں؟ ویسے اب تک ’’لوجہاد‘‘ کے معاملات کی جتنی بھی جانچیں ہوئی ہے،ان میں اسے ایک مفروضہ ہی پایا گیا۔ مسلمانوں سے شادی کرنے والی بعض لڑکیوں نے ’’لوجہاد‘‘ میں پھنسنے کے دعوے بھی کئے مگر جانچ کے بعد پتہ چلا کہ انھوں نے اپنی مرضی سے لومیرج کیا تھا اور شادی کے بعد جب گھر میں جھگڑا شروع ہوا توا نھوں نے ’’لوجہاد ‘‘کا الزام لگادیا۔ اس سلسلے میں کیرل سرکار کی طرف سے ایک رپورٹ آئی ہے جو آنکھ کھول دینے والی ہے۔ ریاستی حکومت کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریاست میں ’’لوجہاد ‘‘کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔اس رپورٹ میں، محبت کی شادی کے بڑھتے ہوئے واقعات کوتبدیلی مذہب کی وجہ بتایا گیا ہے۔ کیرل گورنمنٹ اورمرکزی وزارت داخلہ کی اس رپورٹ کا کہنا ہے کہ دائیں بازوکی تنظیموں کے الزامات میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ سے ثابت ہوا ہے کہ’’ لو جہاد‘‘ کے مبینہ معاملوں میں سنگھ پریوار کے دلائل غلط ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ریاست میں’’لوجہاد‘‘ کا کوئی ایک کیس بھی نہیں ہواہے۔البتہ محبت کی شادی کرنے کے لئے لوگ دوسرے مذاہب کو اپنایا کرتے ہیں۔ کیرل کی حکومت کی رپورٹ کے مطابق، 2011 اور 2016 کے درمیان ریاست میں کل7ہزار 299 افراد نے مذہب اسلام کواپنایا لیکن ان میں سے کسی بھی معاملے میں’’لو جہاد’’ کے الزامات ثابت نہیں ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق، اقتصادی طور پر کمزور طبقے کے لوگوں کی طرف سے مذہب کی تبدیلی کے زیادہ واقعات ہوئے ہیں۔ تریشور ضلع میں تبدیلی مذہب کے سب سے زیادہ واقعات ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں، یہ دعوی کیا گیا ہے کہ اسلام قبول کرنے والوں میں 82 فیصد ہندواور 17.9 فیصدعیسائی تھے۔اس کے ساتھ ساتھ، یہ بھی پایا گیا ہے کہ 18 سے 25 سال تک کے نوجوانوں نے ہی بیشتر اسلام قبول کیا۔ مجموعی طور پر،مذہب تبدیل کرنے والوں میں 39 فیصد اسی عمر گروپ کے تھے۔(مضمونگار کی رائے سے ادارہ اکا متفق ہونا ضروری نہیں ہے ) 11؍فروری2018(ادارہ فکروخبر)

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES