dushwari

وسیم رضوی کا فتنہ

ریاض عظیم آبادی

اسلام بڑھ رہا ہے،غیر مسلم اسلام کی جانب تیزی کے ساتھ راغب ہو رہے ہیں۔اسلام فتنوں کے طوفان سے ہوکرگزرتا رہا ہے اور فتنوں کا سر کچلاتا رہا ہے۔اتر پردیش ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے جہاں مسلمانوں کی آبادی قابل فخر ہے۔اس ریاست میں پہلے اعظم خان کے فتنے نے سر اٹھایااور اب وسیم رضوی فتنہ پھیلا رہے ہیں۔وسیم رضوی آر ایس ایس کی دلالی میں سبھوں کو پیچھے چھوڑ جانے کی دوڑ میں اناپ شناپ بک رہے ہیں۔انہیں یوگی حکومت نے اتر پردیش شیعہ وقف بورڈ کا چیر مین بنا دیا ہے۔پہلے تو انہوں نے دعویٰ کیا کہ بابری مسجد شیعہ وقف بورڈ کی ملکیت ہے اور مسجد کی اراضی پر رام مندر کی تعمیر ہو جانی چاہیے۔ہم یہ پہلے اس بات کوتسلیم کر لیں کہ بھاجپا میں وہی مسلمان شامل ہوگا جس نے اپنے ضمیر کو فروخت کر دیا ہے یا پھر اسکا ایمان اسکے قابو میں نہیں رہا ہے۔

آرایس کی پیدائش ہی اسلام اور مسلم مخالف سازشوں کو پروان چڑھانے کے لیے ہوئی ہے۔جس روز آر ایس ایس مسلمانوں کے فلاح کی بات کرنے لگے گی اسکا کردار ہی بدل جائیگا اور وہ اپنی بنیادی خصلت سے محروم ہو جائے گی۔بہار میں مناظر حسین اور اخلاق احمد جیسے لیڈران انتخاب میں ایم ایل اے بننے کی چاہ میں بھاجپا کے ممبر بنے۔لیکن جب انہیں ٹکٹ سے محروم کر دیا توایک صحافی نے وجہہ جان نے کی کوشش کی تو جواب ملا’جو اپنی قوم کے نہیں ہوئے وہ کیا میرے ہو جائیں گے؟‘ وسیم رضوی نے کمینے پن کی حد کردی۔ہم انہیں شیعہ فرقہ کا نمائندہ تسلیم نہیں کرتے۔جمیعۃعلماٗ ہند کی مہاراشٹرا شاخ نے وسیم رضوی کو۲۰کروڑ کا حرجانہ دینے کی نوٹس بھیج کر غیر مشروط معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ وسیم رضوی نے یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور وزیاعظم نرندر مودی کو خط لکھ کرالزام لگایا ہے کہ مدارس میں انجینئر اور ڈاکٹر پیدا کرنے کی بجائے دہشت گرد پیدا کیے جا رہے ہیں اسلیے انہیں بند کر عصری تعلیم سے جوڑ دینا چاہیے تاکہ ان اداروں میں مسلم قوم کے بچوں کے ساتھ دیگر قوم کے بچے بھی تعلیم حاصل کر سکیں۔جمیعۃ علما ء مہاراسٹر کے جنرل سکریٹری مولانا مسقیم احمد اعظمی نے وسیم رضوی کے مکتوب پر وکیل کی نوٹس بھیج کر کہا ہے شیعہ وقف بورڈ کے چیرمین کی حیثیت سے خط لکھ کر علمائاور مدارس کی تعلیم کو بدنام کرنے کی دانستہ کوشش کی ہے ۔انہوں نے مدارس پر بے بنیاد الزام لگا کر علماء کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ملک میں مدارس کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔وسیم سے ۲۰ کروڑ کا ہرجانہ دینے کی مانگ کرتے ہوئے مسلمانوں سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مدارس کی تعلیم پر پہلے بھی الزام لگایا جاتا رہا ہے۔بہار میں واقع ڈھاکہ کے مدرسے پر کئی سال قبل الزام لگائے گئے تھے۔غیر مسلم صحافیوں کے ایک گروپ نے اچانک ہی مدرسے کا معائنہ کیا تھا اور تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔کیا کوئی فرد اس بات سے انکار کریگا کہ آج مدارس میں گنگا جمنی تہذیب کو مضبوط بنانے اور ہندو مسلم ایکتا کو مضبوط بنانے کی تعلیم دی جاتی ہے۔جنگ آزادی کی لڑائی میں علماء نے قابل فخرقربانیاں دی تھیں۔وسیم رضوی ایک گھٹیا قسم کے فتنہ کا نام ہے۔ہمیں اس بات کا خوف ہے کہ وہ مختار عباس نقوی اورشاہ نواز حسین کو ضمیر فروشی کے معاملے میں پیچھے چھوڑ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔وسیم رضوی نے خط کس بنیاد پر لکھا ہے اور انکے پاس اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ مدارس میں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ 
وسیم رضوی کے بیان کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔بھاجپا اور آر ایس ایس اب ضمیر فروشوں کو سامنے لاکر مسلمانو کے دینی مراکز کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ہمارا مشورہ ہوگا کہ مسلمان وسیم رضوی کا مکمل بائکاٹ کریں۔انکے سبھی عوامی جلسوں میں ان سے ثبوت طلب کیے جائیں۔مستقبل میں ہماری قوم میں میر جعفر پیدا نہ ہو اسکے لیے لازمی ہے کہ عدالتی کارروائی کو تیز کیا جائے۔ہمیں خوشی ہے کہ شیعہ فرقہ کے لوگوں نے بھی وسیم رضوی کی مذمت کی ہے۔ہم وسیم رضوی کو اسلام سے خارج کر دینے اور غیر مشروط مسلمانوں سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔اتر پردیش کے مسلمانو ں کو بلا تفریق فرقہ و مسلک کہ وسیم رضوی کا سماجی بائکاٹ کر دینے کا اعلان کر دینا چاہیے۔رضوی نے نہ صرف مدارس کی تعلیم کو بلکہ مسلمانوں کو ذلیل کرنے کی دانستہ کوشش کی جسکی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
13؍ جنوری 2018 
ادارہ فکروخبر بھٹکل 

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES