dushwari

انسانيت

حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی

انسانیت کا صحیح اندازہ امتحان پڑنے اور ایسے موقع پر ہوتا ہے کہ جب ہر قسم کے ذرائع اور مواقع حاصل ہو ں کہ چوری گناہ حق تلفی کی جا سکے مگر انسان کے اندر کی کیفیت اس کا ہاتھ پکڑ لیں جہاں انسانیت کا گلہ گھونٹا جا رہا ہو وہاں انسانیت اپنا جوہر دکھائے انسانیت در حقیقت ایک بڑا مرتبہ ہے لیکن انسانیت کے خلاف انسان ہمیشہ خودبغاوت کرتا رہا ۔ اس کو انسانیت کی سطح پر قائم رہنا ہمیشہ دوبھر اور مشکل معلوم ہوا ہے وہ کبھی نیچے سے کترا کر نکل گیا اور اس نے کبھی اپنے آپ کو انسانیت سے برتر سمجھا ۔

یعنی کبھی انسانیت سے با لا تر کہلوانے اور دیوتا بننے کی کوشش کی اور سچی بات یہ ہے کہ لوگوں نے خدا اور دیوتا بننے کی کوشش کم کی لوگوں نے انہیں خدا اور دیوتا بنانے کی کوشش زیادہ کی، ہم اگر فلسفہ اور روحانیت کی تاریخ پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ لوگ انسانیت سے بلند تر کسی مرتبہ کی تلاش میں رہے اور انسانوں کا صحیح مقام سمجھانے کے بجائے اس سے اونچا ہونے کی فکر کرتے رہے اس کے با لمقابل دوسری کوشش یہ رہی کہ انسان کو انسانیت سے گرا دیا جائے ۔ وہ حیوانی اور نفسانی زندگی کا عادی بنے اور دنیا میں من مانی کی زندگی کا رواج ہو، آپ خود ہی انصاف کیجئے کہ آپ کے چاروں طرف زندگی کا جو طوفان امڈا ہوا ہے اس میں کتنے انسان ہیں جن کو انسانیت کا احساس ہے، جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں صرف ایک معدہ اور پیٹ ہی نہیں دیا گیا بلکہ اللہ نے انسان کو روح بھی دی ہے دل بھی دیا اور دماغ بھی عطا کیا ہے جنکو ہمیشہ ہم نظر انداز کرتے ہیں اور صحیح استعمال سے بچتے ہیں ہم جنسی خواہش اور مادی ضروریات کے ریلے میں بہے چلے جا رہے ہیں جیسے ایک گاڑی اپنے اختیار سے باہر لڑھک رہی ہو جس پر کسی کا کوئی قابو نہ ہو ،آج سب سے بڑا فلسفہ معدہ کی عبادت ہے، تعلیم گاہوں میں اسی کا غلام بنانا سکھا یا جاتا ہے آج دولت مند بننے کی ایسی خواہش ہے ،دولت مند بننے کی حرص اتنی بڑھ گئی ہے کہ انسان کو خود اپنے تن من کا ہوش نہیں رہا ۔ دولت کی ہوس انسان کو رشوت، خیانت ،غبن ، چو ربازاری ذخیرہ اندوزی اور دوسرے مجرمانہ ذرائع پر آمادہ کرتی ہے اس کے کہ ان مجرمانہ طریقوں کے بغیر جلد دولت مند بننا ممکن نہیں ۔ ایسی ذہنیت کی وجہ سے ساری دنیا میں ایک مصیبت برپا ہے سب کا حال یہی ہو رہا ہے کہ دولت اور خواہش نفس کا نشہ سوار ہے آج دولت کمانا زندگی کا مقصد بن گیا ہے ،آج جس انسان کو طالب خدا ہونا چاہئے تھا اس کی معرفت اور محبت سے اپنا ویران دل آباد، اپنااندھیر دماغ روشن، اپنی بے مقصد بے کیف زندگی با مقصد وپر کیف بنانی چاہئے تھی، سارے دل اور دماغ کے ساتھ اس سے محبت کرنی چاہئے تھی، صد حیف کہ وہ انسان حقیقی محبت اور صحیح معرفت سے محروم ہے اس لئے کہ زندگی کی اصل لذت سے محروم ہے، حقیقی انسانیت سے محروم ہے اور افسوس ہے کہ لاکھوں کرڑوں انسانوں کو اس محرومی کااحساس بھی نہیں ہے، حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم اور آپ نے جو کچھ دنیاکو عطا کیا وہ انسانیت کا مشترک سرمایہ ہے جس پر کسی قوم کی اجارہ داری قائم نہیں ہو سکتی جس طرح ہوا پانی اور روشنی پر کسی کو اجارہ داری کا حق نہیں ،اسی طرح آنحضرت ﷺ کی تعلیما ت پر ساری دنیا کا حق ہے اور ہر شخص کا اس میں حصہ ہے، ان سے فائدہ اٹھانا چاہئے ، یہ دنیا کی تنگ نظری ہے کہ وہ ان حقوق کو کسی قوم یا ملک کی جاگیر سمجھے۔ آنحضرت ﷺ محسن انسانیت ہیں اور ساری انسانیت آپ کی ممنون ہے۔ دنیا میں جو کچھ عدل و انصاف اس وقت موجود ہے وہ آپ کا فیض ہے ۔
بہار اب جو دنیا میں آئی ہے ہوئی ہے * یہ سب پودا انہیں کی لگائی ہوئی ہے 

(پندرہ روزہ تعمیر حیات ، لکھنو ، جلد۔ ۳۴، شمارہ۔ ۲۲)

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES