dushwari

گفتگو ہی انسان کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔...!

سیدہ تبسم منظور ناڈکر۔ممبئی

اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور تمام مخلوقات میں انسان کو ممتاز بنایا ہے۔ اللہ رب العالمین نے ہر جاندار کو زبان دی ہے لیکن بولنے کا، اچھے میاری الفاظ چننے، استعمال کرنے اور شیرین زبان میں گفتگو کرنے کا شرف صرف انسانوں کو ہی عطا کیا ہے۔ انسان کی مختلف خصوصیات میں سے ایک خصوصیت گفتگو ہے۔ اسی کی وجہ سے انسان اپنی دلی کیفیات کا اظہار کرتا ہے۔ شیرین گفتگو ایک فن ہے یہ ایک ایسا عمل ہے جس سے انسان یا تو دل میں اترتا ہے یاپھر دل سے اتر جاتا ہے۔

گفتگو ہی سامنے والے کے عیب و ہنر کردار اور خاندان کا پتہ دیتا ہے۔ہر انسان اپنے اندازے گفتگو کی وجہ سے سماج میں اپنی ایک پہچان بناتا ہے۔ جس میں سلیقہ گفتگو نہیں اس کے مقابلے میں بے زبان جانور بہتر ہے۔ بعض مرتبہ انسان اپنی گفتگو کی وجہ سے ہی بے عزت ہوتا ہے۔سلیقہء گفتگو ضروری ہے اور بے حد معنی بھی رکھتی ہے۔بہترین سلیقہ مند زبان، گفتگو اور الفاظ انسان کے متعلق اس بات کی ضامن ہیں کہ یہ شخص تعلیم یافتہ، سلیقہ مند، مہذب خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ جب کہ اس کے برعکس دوسرے انسان نے بڑی بڑی تعلیمی ڈگریاں حاصل کی ہوں لیکن دوران گفتگو غیر معیاری الفاظ اور تلخ زبان گفتگو کا استعمال اس انسان کے متعلق یہی رائے قائم ہوسکتی ہے کہ یہ غیر تعلیم یافتہ، غیر مہذب اور برے کردار والا انسان ہے۔ الفاظ میں ہی انسان کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ گفتگو ہی انسانی شخصیت میں نکھار اور خوبصورتی پیدا کرتی ہے۔
الفاظ سے نہ صرف ہم اپنے خیالات وجذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ بلکہ ان کے ذریعے ہم سماج کے حالات کا اندازہ بھی لگا سکتے ہیں۔ ہم تو سمجھتے ہیں کے یہ جو لفظ ہے وہ تو بالکل بے جان ہیں پر یہ لفظ بے جان نہیں ہوتے ان کے اندر روح اور زندگی کی حقیقت موجود ہوتی ہے۔ جنہیں ہم غم میں خوشی میں،اچھے برے وقت میں،غصے میں استعمال کرتے ہیں۔ بہتر ہے کہ گفتگو کرتے وقت الفاظ کے دامن کو ہاتھ سے نہ چھوٹنے نے دیں۔ اچھے اور معیاری الفاظ کے بغیر بہترین اور شیریں گفتگو کرنا ناممکن ہے۔ انسان کے بہترین کردار کے لیے اس کی ظاہری شخصیت اور خوبصورتی کو جتنی اہمیت ہوتی ہے وہیں پر اس کے الفاظ گفتگو میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک اچھا باوقار انسان غیر میاری گفتگو کریں تو اس کی شخصیت مانند پڑ جاتی ہے۔
گفتگو ہی انسان کو اچھا یا برا ، آعلی یا ادنی بنا دیتی ہے۔ گفتگو اور الفاظ انسانی زندگی میں بے حد اہمیت رکھتے ہیں۔ انسان جب بولنا شروع کرتا ہے تو اس کے گفتگو سے ہی وہ اپنی پہچان خود دیتا ہے۔ کبھی کبھار انسان کے پاس اچھے اور معیاری الفاظ تو بہت ہوتے ہیں پر بات چیت کرنے کا سلیقہ نہیں ہوتا اور اپنے تلخ لہجے کی وجہ سے وہ انسان اپنی شخصیت گنوا دیتا ہے۔ کئی مرتبہ لفظوں سے زیادہ لہجہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔
انسان اپنی گفتگو اور تحریر میں اپنے خیالات اور جذبات کو الفاظ کے ذریعے ہی بیان کرتا ہے۔ ہر انسان کے پاس اچھے اور برے الفاظ کا ذخیرہ ہوتا ہے۔ اب یہ اس انسان پر منحصر ہوتا ہے کون سے الفاظ کب کہاں اور کیسے استعمال کرنے چاہیے اچھے اور برے الفاظ کی وجہ سے ہی انسان بلندیوں تک پہنچتا ہے یا منہ کے بل گرسکتاہے۔ الفاظ کے بغیر ہم کچھ سوچ ہی نہیں سکتے۔ نہ ہی کچھ لکھ سکتے ہیں نہ ہی بیان کر سکتے ہیں۔ یہ لفظ ہی ہے جو انسان کے شیرین گفتگو کا لباس ہوتے ہیں یہی انسانی حسن کو دوبالا کرتے ہیں۔ مختصر میں کہا جائے تو معیاری الفاظ، سلیقہ مند اور شیرین گفتگو ہی انسانی کردار کے اعلی معیار کی عکاسی کرتا ہے۔

(مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں )

12؍جنوری 2018(ادارہ فکروخبر) 

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES