dushwari

مہاراشٹر میں موجودہ تناؤ اور ٹکراؤ دو نیشنلزم کے درمیان مقابلہ آرائی ہے

ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاء الدین ، ناندیڑ

سن 2018ء کے سال کا آغاز بھیما کوریگاؤں جو پونا سے نزدیک ہے کہ تشدد آمیز مقابلہ آرائی سے ہوا۔ جب وہاں 200 سالہ جشن منانے کے لیے دلت جمع ہوئے تھے۔ جن کا مقابلہ پیشوا باجی راؤ دوّم کے خلاف انہوں نے برٹش انڈیا کمپنی کے ذریعے کیا تھا۔ اس میں یہ بات مضمر ہے کہ وہاں سماجی رخنہ اندازی ریاست میں پھیل گئی۔ وہ برس گزر گئے جب مراٹھواڑوں کے عظیم اجتماعات جو مہاراشٹر بھر میں پھیل چکے تھے اور اب دلتوں کا سیاسی سطح پر ایسے ایجنڈے کے استعمال کا اس سال آغاز ہوچکا ہے۔ یہ ایک اہم بات ہے کہ ہم تاریخی طور پر اس کی کیا بنیاد ہے کہ اس بحران کا آغاز کیونکر ہوا۔ جس میں اتنے وسیع تر ناخوشگوار واقعات دیکھنے کو ملے۔ 

بھیما کوریگاؤں کی پہلی جنگ جنوری 1818ء کو ہوئی تھی جس میں دیکھا گیا کہ پیشواؤں کی عظیم تر فوج کو اس کے بمقابلۃً برٹش کی کم تعداد والی فوج نے شکست دی۔ اس سلسلے میں روایت ملتی ہے کہ برٹش اس اس چیلنج کو فتح کرسکتے تھے۔ اس لیے کہ ان کے پاس عظیم تر جانباز بہادر اور سپاہی ان کی فوج میں ’’اچھوت ‘‘ مہار ذات کے لوگ شامل تھے۔ بہت سے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ تقریباً 200 مہار سپاہیوں نے اس جنگ میں جان گنوائی۔ جس کی وجہ سے کامیابی و فتح حاصل ہوئی۔ اور اس طرح مہار اپنی بہادری کی وجہ سے ایک فخریہ علامت کے طور پر ابھرے۔ جن کی شان میں کامیابی کا ایک ستون انگریزوں نے اس جنگ کے ٹھکانے پر نصب کیا۔ اور اس کی یاددگار کے طور پر وہ اپنے کام کی عزت کی خاطر وہاں جمع تھے۔ 
دو سو برس پہلے کا یہ واقعہ آج سیاسی طور پر اس کی تجدید ہورہی ہے۔ یہ قابل لحاظ بات ہے۔ کیونکہ اس واقعہ سے بی جے پی کا تعلق ہے۔ جس نے اپنی پسند سے دیویندر فرنویس ایک برہمن کو مہاراشٹر میں چیف منسٹر مقرر کیا ہے۔ دلتوں نے پیشوائی حکومت کے خلاف جو لڑائی لڑی وہ برہمن تھے۔ جو اس بات کے حمایتی تھے کہ وہ سماجی طور پر ظلم و جبر کے حامل تھے۔ جس میں اچھوت ذات کے لوگوں کو اعلیٰ ذات لوگوں کی طرف سے جلایا جاتا تھا اور جن پر جبر کیا جاتا تھا۔ یلغار پریشد پونے میں ہفتے کے دن جگدیش میوانی نے اس بات کو کہا۔ گجرات کے یہ دلت ایم ایل اے جو وہاں چلا اٹھے کہ یہ قومی عظمت کا سوال ہے جو احتجاج کے دوران انہوں نے دلتوں کے بارے میں اٹھاتے ہوئے کہا اس قسم کا واقعہ جولائی 2015ء میں اناؤ میں بھی ہوا تھا۔ جس کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی آر ایس ایس بھی آج کے ’’نئے پیشوا ‘‘ ہیں۔ 
مہاراشٹر کی سرزمین مخلوط خیالات کے و سیاسی تغیرات و ترقیات کے لیے زرخیز ہے۔ اس سرزمین نے دونوں ناتھو رام گوڑسے جس نے گاندھی کو قتل کیا ، اور آچاریہ ونوبا بھاوے جو مہاتما گاندھی کے سب سے بڑے پیروکار ہیں۔ علاوہ اس کے گوپال کرشن گوکھلے جو مہاتما کے گرو ہیں، گوڈسے ونوبابھاوے اور گوکھلے، یہ تمام برہمن تھے۔ اس سرزمین نے ڈاکٹر امبیڈکر کو پیدا کیا، جو مارڈن ہندوازم کے بارے میں سخت گیر تنقید کرتے تھے، اور اس طرح وی ڈی ساورکر وہ شخصیت ہے جس نے ’’ہندوتوا ‘‘ کی اصطلاح گھڑی۔ اور چاہتے تھے کہ انڈیا کو وہ ہندو راشٹریہ بنائے۔ مہاراشٹر میں کامیاب حکمرانی کے لیے اس بات کی مکمل و کامل طور پر اہلیت و لیاقت کی ضرورت ہیکہ مختلف دباؤ کے درمیان توازن برقرار رکھے، جو اکثر و بیشتر سماج کے مختلف گروپ میں پیدا ہوتا ہے۔ 
جاری شدہ احتجاج اور تشدد جو اتفاقی طور پر یا حادثاتی طور پر برہمن نوجوانوں میں پھیل گیا ہے۔ جسے ہمیں پچھلے سال کے مراٹھا مورچہ کے تناظر میں دیکھنا چاہئے۔ مراٹھاؤں کے غصہ کے پیچھے ایک کلیدی وجہہ یہ تھی کہ ایس سی ، ایس ٹی ، ایٹراسٹی ایکٹ کا ’’بیجا استعمال ‘‘ہوا ہے اور اس طرح یہ رحجان ابھی بھی ریاست میں پایا جاتا ہے۔ مہاراشٹر کے دیہی علاقوں میں اس سخت گیر قانون کا استعمال درخواست کنندہ کی شکایت پر عمل میں آتا ہے جو ناقابل ضمانت جرم ہے اور اس میں یہ خاص بات ہے کہ بے گناہی کا ثبوت دینے کی جوابداری کا بار خود ملزم پر رکھا گیا ہے۔ اس طرح یہ طاقتور تناؤ دلت اور سماجی طور پر ترقی یافتہ قوم کے درمیان جاری ہے بالخصوص مراٹھا۔ پچھلے سال کے مراٹھوں کے عظیم تر مورچوں جو ریاست بھر میں شروع تھے، جس میں یہ مطالبہ تھا کہ اس سخت گیرقانون کا خاتمہ کیا جائے۔ ان کی ریالیوں میں ان کی سیاسی طاقت کا اظہار اس طرح ہوتا تھا کہ ان کی تعداد ریاستی آبادی کا 32 فیصد ہے۔ لیکن انہیں حاشیہ پر ڈال دیا گیا ہے اور بی جے پی نے اس منظر نامہ کو تبدیل کرتے ہوئے برہمنوں کو پیش کیا، جو یہاں کی واحد اعلیٰ ذات ہے اور دیگر او بی سی۔ پچھلے تین دہوں سے یہ عمل او بی سی کی سوچ کی بنیاد چلا رہا تھا۔ اور ان کی کوششوں کا اظہار ان کے قائدین جیسے کلیان سنگھ، اومابھارتی، آنجہانی گوپی ناتھ منڈے، حتیٰ کہ پرائم منسٹر نریندر مودی کی شکل میں انہیں حاصل ہوا ہے۔ اس طرح مراٹھا کے اثر میں کمی واقع ہوگئی ہے، جو بلا کسی رکاوٹ کے اپنی طاقت اور سیاسی اثرات کو وہ پچھلے پانچ دہوں سے استعمال کررہے تھے، جو ان کی زرعی آمدنی تھی وہ کم ہونا شروع ہوئی اور سیاسی اثر بھی ان کا کم ہوگیا۔ اس طرح ا وبی سی اور دلت نے ان کے غم و غصہ میں اضافہ کیا اور وہ مشتعل ہوگئے۔ گجرات اسمبلی کے انتخابات کا نتیجہ جس میں پاٹیدار کمیونٹی کی تقریباً ایسی ہی حالت ہے۔ جس نے بی جے پی کو بھی سخت اور وقتی طور پر تکلیف پہنچائی ہے۔ جس طرح مراٹھا کو نمایاں طور پر مہاراشٹر میں تکلیف پہنچی ہے۔ گجرات میں پاٹیدار کی طرز پر مہاراشٹر میں بھی مراٹھا کا یہ مطالبہ ہے کہ انہیں نوکری میں تحفظ حاصل ہو۔ جس کی وجہہ سے وزیر اعلیٰ فرنویس کی حکومت اس وقت منجمد ہے۔ اگر وہ اس مطالبہ کو قبول کرتی ہے تو بی جے پی کو او بی سی کا ساتھ نہ ملے گا۔ اگر وہ نامنظور کرتی ہے تو اس بات کا خطرہ ہے مراٹھا ان کے خلاف 2019ء میں اسمبلی انتخابات میں رہیں گے۔ 
دلتوں کے لیے یہ بات نہایت اہم ہے کہ وہ اپنے پیغام کو جسے وہ چاہتے ہیں سیاسی طور پر حل کروائیں تاکہ وہ مراٹھا ریزرویشن کے فیصلہ سے پہلے ہی طے ہوجائے۔ 1990ء کے دہے کی طرح دلت اس وقت اپنے آپ کو مہاراشٹر میں شمارکرنے کے لائق بناچکے تھے۔ لیکن مراٹھواڑہ یونیورسٹی کو بابا صاحب امبیڈکر نام دینے کے سلسلے میں جو احتجاج چلا تھا، وہ بھڑکتا ہوا مشتعل تھا۔ جس کا ذکر امبیڈکر نے اپنی کتاب Reddles in Hinduism میں کیا ہے۔ اور اس طرح اس کے بعد دلت پینتھر تنظیم جو شعلہ بیان تھی ختم ہوچکا تھا۔ لیکن دلت تحریک کا ریاست میں اس طرح آہستہ سے روبہ تنزل ہوچکی ہے۔ 
شردپوار کے قیادت میں جو کانگریسی حکومت تھی جس نے پہلی مرتبہ مراٹھواڑہ یونیورسٹی امبیڈکر کو جنوری 1994ء میں بابا صاحب امبیڈکر کا نام دیا۔ اور دلت لیڈروں کو اپنی حکومت میں معاون و شراکت دار بھی کیا۔ چند برسوں بعد بی جے پی نے بھی اس حکمت عملی کو اپنایا۔ جبکہ دلت تحریک کے کئی ٹکڑے ہوچکے تھے۔ مثال کے طور پر رام داس اٹھولے کو حکومت میں جگہ دی جو ریپبلکن پارٹی آف انڈیا کے ایک دھڑے کے صدر ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ریپبلکن پارٹی آف انڈیا پارٹی بابا صاحب امبیڈکر نے 1956ء میں اپنے انتقال سے قبل قائم کی تھی جس کی اب درجن بھر سے زائد شاخیں ہیں، جو اس پارٹی کی کہانی بیان کرتے ہیں۔ مہاراشٹر میں دلتوں کو یو پی کی طرح سیاسی استحکام نہیں مل سکا۔ موجودہ احتجاج کا مطلب یہ ہے کہ بدلتی صورتحال کا وہ اظہار کرسکے۔ اس احتجاج میں جو اضطراری کیفیت ہے وہ ہندوستانی سماج میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ مرکز میں طاقتور اکثریت کے باوجود اور اس پارٹی کی ریاستی حکومتیں ہونے کے باوجود بی جے پی معتبدہ آبادی کے لیے ناقابل قبول ہے۔ حکمران پارٹی کی حیثیت سے ان کے نمائندے، سفیروں کو کثرت والی سیاست کے ذریعے بہت سے باہری طاقتوں و تنظیموں کو انہیں مجتمع کرنا پڑا۔ تاکہ مقابلہ کرسکیں۔ اس طرح یہ کشمکش دو نیشنلزم کے درمیان جاری ہے۔ جن کی بنیاد مذہب بنام ذات پات ہے۔ اس بات کا بھی امکان ہے ان دونوں کے درمیان والے تضاد کا اس طرح پھیلاؤ مستقبل میں بڑھتا اور پھیلتا جائے گا۔ 
مضمون نگارکی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
11؍ جنوری 2018
ادارہ فکروخبر بھٹکل 

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES