dushwari

پس منظر

مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی 

اس وقت مسلمانوں کے متعلق سے دنیا کے مختلف خطوں بشمول ہندوستان میں جو حالات و حوادث پیش آرہے ہیں ، انکو ہمیں صحیح پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے ، انکے تاریخی و سیاسی اسباب و عوامل کی روشنی میں دیکھنا چاہئیے ، دراصل ہمارا یہ دور اقتصادی اور سیاسی کاوشوں اور سازشوں کا دور ہے اقتصادی اور سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے مختلف پسندیدہ اور اثر انگیز عنوانات سے کام لیا جاتا ہے ، جسکے تحت کمزوروں کا استحصال ہوتا ہے اور مقصد ، اپنے اقتصادی مفاد کا حصول ہوتا ہے ،

یا اپنی سیاسی گرفت کو مضبوط بنانا ہوتا ہے یا اسکو انکے وسیع دائروں تک پہونچانا ہوتا ہے ، اسکی مثال باہری دنیا میں امریکہ اور روس جیسے ملکوں کی خارجہ پالیسی میں نمایاں طور پر دیکھی جاسکتی ہے ۔ سب کی فکر ، سیاسی یا اقتصادی مقصد کے حصول کی ہے ۔ اس مقصد کے حصول میں اگر کوئی فرد یا گروہ رکاوٹ کا سبب بنتا ہے تو اسپر میڈیا کے ذریعہ تخریب یا انسان دشمنی کا الزام عائد کرکے ، اسکو توڑ نے یا بے اثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اسکو توڑنے بے اثر کرنے کی خاطر ، بعض قوموں اور مذہب کے چند لوگو ں کے ذاتی جذباتی عمل کو اچھال کر پورے مذہب کو متہم کردیا جاتا ہے ۔ طاقت و سیاست کا یہ کھیل عالمی پیمانے پر ایک عرصے سے جاری ہے ، اسکے پس پشت عموماً اقتصادی یا سیاسی استحصال کا مقصد کار فرما نظر آئیگا ۔ 
یہ بات اب یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ دنیا دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ہے ، ایک استحصال کرنے والوں کی ، دوسرے استحصال کئے جانے والوں کی ، ان دونو ں کے لئے خوبصورت اصطلاحیں استعمال کی جاتی ہیں، جنکے پیچھے وہ خود غرضانہ مقاصد پوشیدہ ہوتے ہیں ، جو طاقتور قوموں یا گروہوں کے پیش نظر ہیں مثلاً استحصال کرنے والے ملکو ں کو ترقی یافتہ اور دنیا میں انصاف اور انسانی قدرو ں کا نقیب اور استحصال کئے جانے والے ممالک کو پسماندہ اور قابل اصلاح ممالک کے نام دےئے جاتے ہیں۔ دو دہائیوں قبل روس اور امریکہ کا ٹکراؤ، دو استحصال پسند طاقتوں کا ٹکراؤ تھا کہ دنیا کے لائق استحصال ممالک کس کے ماتحت ، کتنے ہوں ۔ اس ٹکراؤ میں امریکہ کو فتح ہوئی اور اب وہی تنہا عالمی طاقت رہ گیا ہے ۔ لہٰذا اسکو ضرورت محسوس ہوئی کہ وہ لائق استحصال ممالک کی نئی گروہ بندی طے کرے ۔ گروہ بندی کے اس سیاسی و اقتصادی مقصد کے لئے ترقی پذیر ممالک کہے جانے والے ممالک کے درمیان آپسی کشمکش ، لڑائی اور اسی طرح کی صورتحال بنائی جاتی رہی کہ مداخلت کا موقع نکلے اور آخر میں بیچ بچاؤ کرکے انکو اپنے زیر اثر لے آیا جائے اور وہاں کے اقتصادی و سیاسی مفادات سے فائدہ حاصل کیا جائے یا انمیں سے کسی میں اگر بڑھتی ہوئی کچھ طاقت ہے جو استحصال پسند ملک کے لئے دشواری پیدا کرسکتی ہو تو اسے کمزور و بے اثر کردیا جائے ۔ گذشتہ کئی دہائیوں کے دوران مشرقی ممالک کے درمیان ہونے والی جنگوں میں اس سیاست اور مقصد طلبی کو اچھی طرح دیکھا جاسکتا ہے ، خواہ وہ عراق و ایران کی جنگ ہو یا عراق و کویت کی لڑائی ہو ۔ مشرقی ممالک میں سے بعض کی بعض سے سیاسی کشمکش کو بھی اسی روشنی میں سمجھا جاسکتا ہے ۔ ہندوستان و پاکستان اپنے مختلف حالات کے لحاظ سے تقریباً اسی بلاء میں گرفتار ہیں ۔ 
مشرقی ممالک میں مذہبی جذبہ چونکہ عوام کو اپنا ہمنوا بنانے کے لئے مؤثر ترین ذریعہ ہوتا ہے ، اسلئے طالع آزما لوگ ، اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں ، اس طریقہ سے وہ اپنے اصل مقصد کو مخفی رکھنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور اپنے اصل مقصد کا فائدہ اس چابکدستی اور ماہرانہ فنکاری سے حاصل کرلیتے ہیں کہ ان پر غیر مخلص اور خود غرض ہونے کا الزام نہیں لگتا۔ مذہب کی بنیاد پر سیاست چلانے والوں کی خاصی تعداداپنی نجی زندگی میں ، خود مذہب پر زیادہ عامل نہیں ہوتی ، ا یسے سیاسی قائدین مذہب کو بنیاد بناکر اپنے مطلوبہ مقصد کے لئے ہر قربانی کا اعلان کرتے ہیں اور نتیجہ میں انہیں قربانی دینے کی ضروت نہیں پڑتی ، انکے نعروں کی بدولت ، قربانی عوام کے حصہ میں آتی ہے ۔ موجودہ افغانستان میں امریکہ نے ان ہی لڑاکوں کی مدد سے لڑائی لڑی ہے جو خود امریکہ کے مسلح کردہ تھے ۔ خود امریکہ کو انہیں مسلح کرنے اور روس کو ، ترکستانی و افغانی علاقوں سے بے دخل کرکے اس اہم خطہ پر اپنے اثر و رسوخ کو جمانے کی ضرورت تھی ،چنانچہ اسی لڑائی کے پیش نظر وہ ، امریکہ کے نزدیک اچھے تھے ، لیکن اب جبکہ وہ حامی و مؤید نہ رہے تو ختم کردئے جانے کے مستحق ٹہرے ۔ گجرات کے تباہ کن حالات میں بھی ، سیاسی مقاصد کی یہ کارفرمائی دیکھی جاسکتی ہے ، اقتدار کو باقی رکھنے کی طلب کو اسکے اہم اسباب میں شمار کیا جاسکتا ہے ۔ (پندرہ روزہ تعمیر حیات لکھنو ، جلد ۔۴۰ ، شمارہ۔ ۲)

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES