dushwari

ہم ہندوستانی عوام

لالو پرساد یادو

۱۹۹۲ ؁ء میں بابری مسجد کا انہدام ہم سبھی کو ملوث کرتا ہے۔ یہ ایک ایسے تصور اور ایسے یقین پر براہِ راست حملہ تھا جسے دستورِ ہند میں مقدس مقام دیا گیا ہے۔ بابری مسجد کی شہادت کی پچیسویں برسی کے تناظر میں ہندوستانی قوم کی بنیادی اقدار میں برپا ہونے والی زبردست تبدیلی پر میں صرف حیرت ہی کر سکتا ہوں۔ گزشتہ صدی کی نویں دہائی کے وسط سے شروع ہونے والی سیاسی پیش رفت کے دوران میں ایسی غیر معمولی تبدیلی دیکھ چکا ہوں جس نے ہندوستانی قومیت کی بنیادوں کو متزلزل کر دیا۔

۱۹۸۹ ؁ ء تا ۱۹۹۲ ؁ء کے دوران پیش آئے سیاسی واقعات نے معاصر ہندوستانی تاریخ کو بری طرح مسخ کیا ہے۔ اس مختصر ترین دورانیہ میں ایک طرف تو ملک نے اس رائے عامہ کا تقریباً مکمل انہدام دیکھا جو سیکولرزم، سوشلزم اور تکثیری جمہوری ریاست میں انتہائی احترام کا درجہ رکھتی تھی اور دوسری طرف ہم نے دائیں بازو کی ہندو پارٹی کا وہ فاتحانہ ابھار دیکھا جسے آج کے ہندوستان کے سیاسی منظرنامہ میں غالب ترین قوت کا درجہ حاصل ہے۔
بیسویں صدی کے نویں عشرہ کے اواخر سے ہندوستانی سیاست میں اچانک بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) اور ہندو قوم پرستانہ نظریات کا حیرت ناک عروج سامنے آیا جس کے نتیجہ میں ۱۹۸۴ ؁ء اور ۱۹۸۹ ؁ء کے درمیان بی جے پی دو پارلیمانی سیٹوں سے بڑھ کر ۸۵ پارلیمانی سیٹوں پر قابض ہوگئی اور اس طرح ایک انتہاپسندانہ نظریات رکھنے والی دائیں بازو کی ہندو پارٹی دفعتاً قومی سیاسی نقشہ پر نمودار ہوکر ۱۹۹۸ ؁ء سے ۲۰۰۴ ؁ء تک قومی سطح پر حکمراں جماعت بنی رہی۔اب دس سال کے وقفہ کے بعد ۲۰۱۴ ؁ء کے پارلیمانہ الیکشن میں زبردست اکثریت حاصل کرکے اس نے سیکولر ہندوستان کی مابعد آزادی تاریخ کے سامنے ایک بھرپور چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔
اس پورے عرصہ کے دوران ،میں اس سیاسی لیڈر شپ کا ایک حصہ تھاجس کی نظروں کے سامنے حکمراں بی جے پی اور سنگھ پریوار سے وابستہ اس کے نظریاتی حلیفوں کی جانب سے ملک میں ’’سیکولر اتفاق رائے‘‘ کے سامنے ایک زبردست چیلنج کھڑا کرنے کی منظم کوششیں بار آور ہو رہی تھیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بابری مسجد انہدام کے سانحہ سے کچھ دنوں قبل منعقد کی جانے والی قومی یکجہتی کونسل کی میٹنگ میں لال کرشن اڈوانی نے ممبران کو یقین دلایا تھا کہ مسجد کو کچھ نقصان نہیں پہونچایا جائے گا۔ لیکن پورے شمالی اور مغربی ہندوستان میں بڑے پیمانہ پر کی جانے والی فرقہ وارانہ سرگرمیوں کے ابھار کے پیشِ نظر ہم میں سے کچھ لوگوں کے لئے ان کے الفاظ پر یقین نہ کرنے کی معقول وجوہات تھیں اور اسی لئے ہم نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ اجھودیا اور فیض آباد میں فوجی دستے تعینات کئے جائیں لیکن اس وقت کی مرکزی حکومت نے بظاہر بی جے پی کے سورما کی یقین دہانی پر اعتماد کر لیا اور اس طرح چار سو برس پرانی تاریخی مسجد کو آج سے پچیس برس قبل ۶دسمبر ۱۹۹۲ ؁ء کو بر سر عام منہدم کر دیا گیا۔
اس واقعہ نے ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کا ایک نیا دور شروع کر دیا۔ اس وقت ریاست بہار کے وزیر اعلی کی حیثیت سے مجھے اپنی ترجیحات کا علم تھا نیز عوام، انتظامیہ اور سیاسی قوتِ ارادی کی مشترکہ قوت نے میرے اس عزم کو یقینی بنا دیا کہ ریاست بہار سے تشدد کے کسی واقعہ کی خبر نہ آئے۔ لیکن اس سب کے باوجود بابری انہدام وہ پہلا واقعہ بن گیا جس نے غیر مبہم الفاظ میں یہ پیغام دے دیا کہ یہ سانحہ صرف ایک مسجد کی مسماری کا واقعہ نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی کے اس اصول پر حملہ تھا جسے ایک جمہوری دستور کی تائید حاصل تھی۔
سنگھ پریوار اور اس کے ذیلی اداروں نے اجودھیا میں رام مندر کے نام پر عوامی تحریک چلانے کا فیصلہ کیوں کیا اس بات کو صحیح طور پر سمجھنے کے لئے ہمیں اگست ۱۹۹۰ ؁ء کو ہندوستانی سماج کے پسماندہ اور دبے کچلے طبقات کے لئے ایک فیصلہ کن لمحہ کے بطور دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ۱۹۹۰ ؁ء میں منڈل کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد سے دیگر پسماند ذاتوں(او بی سی) کے لئے مثبت طور پر کچھ کام کرنے کا جو موقع فراہم ہوا اسے نشانہ بنا کر ملک کے مختلف حصوں میں پر تشدد کارروائیاں کی گئیں جن کا اصل مقصد ہندوستانی سیاست کے بیانیہ کو پوری طرح تبدیل کردینا تھا۔ ہم اس واقعہ کے گرد ہونے والا ارتکازآسانی سے دیکھ سکتے ہیں اور اس کے بعد ہندوستان کے سیاسی منظر نامہ میں ایسی سیاسی جماعتوں کا ایک وسیع سلسلہ وجود میں آگیا جو دلتوں اور پسماندہ ذاتوں کا دم بھرتی تھیں۔ پسماندہ طبقات کی طرف سے اپنے حقوق کی دعویداری نے سنگھ پریوار کو حیران وپریشان کر دیاجو منو وادی سماجی استثنا پسندی سے فیضان حاصل کرتا تھاجس کا پرچار سنگھ سرچالک ایم ایس گول والکر اپنی کتاب Bunch of Thoughts کے ذریعہ پہلے ہی کر چکے تھے۔ سنگھ پریوار کے لوگ اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے کہ منڈل کمیشن کے نفاذ کے نتیجہ میں ہندوستان بھر میں پسماندہ طبقات کا جماؤ ان کے لئے سیاسی اکھاڑے میں کوئی جگہ نہیں چھوڑے گا۔ شیلا پوجن کی منظم تحریکات اصلاً غریب اور پسماندہ عوام کی جانب سے پیش کئے جانے والے چیلنج کا مقابلہ کرنے کی اندھا دھند کوششیں تھیں۔ اس نام نہاد عوامی تحریک سے مریادہ پرشوتم بھگوان رام کو کچھ لینا دینا نہیں تھا بلکہ یہ بھولے بھالے عوام کو آستھا کی سیاست میں شرابور کر کے سیاسی طور پر مؤثر بنے رہنے اور منڈل کمیشن کے نتیجہ میں برپا ہونے والے پسماندہ ذاتوں کے اتحاد کو نقصان پہونچانے کی منصوبہ بند کوشش تھی۔ یہ کوششیں جزوی طور پر اس وقت ضرور کامیاب رہیں جب ۱۹۹۲ ؁ ء میں بابری مسجد کی مسماری اور ۱۹۹۳ ؁ء میں بمبئی فسادات کے فوراً بعد ۱۹۹۸ ؁ء میں مرکز میں بی جے پی کی سربراہی میں اتحادی حکومت قائم ہوئی۔
آج ڈھائی عشرے گزرجانے کے بعد ۲۰۱۷ ؁ء کا ہندوستان ۱۹۹۲ ؁ء کے ہندوستان کے مقابلہ قابلِ لحاظ حد تک بدل چکا ہے۔ گزشتہ صدی کے آخری عشرہ کے دوران ہم نے دیکھا کہ اکثریتی عوامی بیداری ملک کے سیاسی نقشہ پر موجود پسماندہ گروہوں کے اختلاط سے کس قدر متضاد ہے۔ یہ بھی مشاہدہ میں آچکا ہے کہ انتہا پسند قوتیں جذباتی مسائل پر سماجی توانیاں ضائع کر دینے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود ہندوستان کے اس بنیادی سیاسی سماجی تانے بانے کے حاشیہ پر ہی رہیں ہیں جن کی جڑیں اکثریتی اقتدار میں پیوستہ ہیں۔ حالانکہ ۱۹۹۲ ؁ء میں بابری مسجد کا انہدام محض مذہبی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہندوستانیوں کو تقسیم کر ڈالنے کی پیہم کوششوں کی ایک مثال ہے۔ لیکن اس میں بھی وہ سیاسی قوتیں جنہوں ہندو ارتکاز کی مہم کی قیادت کی تھی ہندوستان کی سیاست میں حاشیہ پر ہی رہیں جس کا اظہار ۲۰۰۴ ؁ء میں بی جے پی کی سیاسی شکست اور اس کے بعد ۲۰۰۹ ؁ء میں متحدہ ترقی پسند اتحاد (یوپی اے) کی جیت سے ہوا تھا۔
موجودہ ہندوستان کے بارے میں سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ ملک کے سیاسی اور سماجی مباحثہ میں قابلِ لحاظ تبدیلی آئی ہے جس میں اکثریتی یک رنگی اور ثقافتی قومیت کے تصور کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے اقلیتوں اورکمزور طبقات کو دوسرے نمبر کا شہری بنادینے کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ اکثریتی طبقہ کے ذریعہ عوام کے خلاف تشدد کی بھیانک وارداتیں اور پسماندہ برادریوں پر ہجومی تشدد نیز گؤ رکشا کے نام پر نام نہاد مذہبی بیداری اسی بتدریج تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن سے ہندوستان ۱۹۹۰ ؁ء سے لے کر ۲۰۱۴ ؁ء تک نبرد آزما رہا ہے۔
یہ بتدریج تبدیلی سیاسی مباحثوں میں بھی دیکھی جاسکتی ہے اور سماجی منظر نامہ میں بھی۔ بابری مسجد انہدام کی پوری بحث کو محض دو فرقوں کی آپسی چپقلش اور محض اس زمین کے حقِ ملکیت کے قضیہ میں سمو دیا گیا ہے جہاں پر کبھی بابری مسجد کھڑی تھی۔ ایک ایسے شخص کی حیثیت سے جو ملکی تاریخ کے ان طوفانی مرحلوں سے گذر کر آیا ہے میرا یقین ہے کہ ہمیں بابری مسجدکے انہدام کو صرف مسلمانوں تک محدود نہیں رکھنا چاہئے۔ یہ دستورِ ہند کے دیباچہ کے ابتدائی جملہ ’’ہم ہندوستانی عوام‘‘ کے تصور پر براہِ راست حملہ تھا۔
ہم ہندوستانی جمہوریت کے ایک ایسے مقام پر کھڑے ہیں کہ اگر ہم ملک میں اتفاقِ رائے کے اصول کو دوبارہ بحال کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے تو ہندوستان کے تکثیری کردار کو شدید نقصان پہونچے گا۔ یعنی ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ رائے، عقیدہ اور اقدار ورجحانات کے فرق و اختلاف کو دبانے کے بجائے انہیں باہم مل جل کر حل کرنااور قابلِ احترام سمجھنا ضروری ہے۔ آج پچیس برسوں کے بعد منہدم شدہ بابری مسجد ہم سے ایک سوال کا جواب چاہتی ہے اور وہ یہ کہ کیا باپو کے خوابوں کا ہندوستان برقرار رہے گا یا اس آئیڈیالوجی کے سامنے جھک جائیگا جس نے انہیں قتل کیا؟

(مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔) 
07؍ دسمبر 2017
ادارہ فکروخبر 

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES