dushwari

بابری مسجد کی شہادت اور موجودہ سیاست

محمد اکرم ظفیر 

ہر سال 06 دسمبر کی تاریخ جب آتی ہے تو 1992 کی وہ کالی رات و سیاہ دن مسلمانوں کے سامنے اپنی روداد و بے بسی پہ آنسو بہاتے ہوئے اپنی شہادت کی المناک واقعہ کو پیش کرکے آواز دیتی ہیکہ کہاں ہیں صلاح الدین ایوبی جیسے مسلمان اور کہاں ہیں کی ملک آئین کی حلف لینے والے حضرات؟؟ جس دن ملک کی آئین و سیکولر ڈھانچے کو کمزور کرتے ہوئے تاریخی بابری مسجد کو فرقہ پرستوں نے شہید کردیا۔یہ کوئی اتفاق نہیں تھااور نہ ہی جلد بازی میں لیا گیا فیصلہ تھا بلکہ اس کے لیے بھگوا بریگیڈ نے آزادی کے قبل سے ہی منصوبہ بنا رکھاتھا۔

06 دسمبر 1992 کو سرکار کی کرم فرمائیوں کی وجہ سے خاکی وردی کی موجودگی میں بابری مسجد کی شہادت کا المناک واقعہ رونما ہوا۔انسانیت کا چولا پہنے لاکھوں کارسیوکوں نے مسجد کے احاطے میں گھس کر جو واویلا مچایا اسے آج بھی تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔تاریخ شاہد کہ جب بابری مسجد کو شہید کیا جارہا تھا اس وزیراعظم نرسمہاراؤ نے دنگائیوں کو کھلی چھوٹ دی تھی۔اس سے ہمارے ملک کی شاخ کو عالمی سطح پہ بھاری چوٹ پہونچی۔سیکولر ڈھانچہ کمزور ہوا اور ملک کے اندر جگہ جگہ فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑا۔جس میں ہزاروں مسلمانوں کو زندہ مار ڈالا گیا۔ممبئی سے لے کر دہلی تک،حیدرآباد سے لے جھارکھنڈ تک بستیاں اجاڑ دی گئیں،بچوں کو یتیم بنا دیا گیا،بہنوں کی سہاگ چھین لی گئی اورایسا ماحول بنایا گیا کے مسلمان خوف محسوس کرنے لگے۔
اسی بابری مسجد کے ملبے پہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنی سیاست کو عروج بخشنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔انہدام کے وقت سے ہی بی جے پی نے یہ الاگ اگلتے ہوئے ھندوؤ ں کو اپنی طرف راغب کرنے میں کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔2014 کے لوک سبھا انتخابات میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی نے مسجد کی جگہ عالی شان مندر کی تعمیر کی بات کہہ کر اکثریتی طبقہ کو منظم کیا اور اقتدار کی کرسی تک آسانی سے پہونچ گئے۔جس کے بعد ھندووں کو یقین ہو چلا تھا کے مرکز و ریاست میں سرکار بننے کے بعد رام مندر کی تعمیر کی راہ ہموار ہوجائے گی۔جبکہ یہ معاملہ فی الحال سپریم کورٹ میں زیر بحث ہے۔اب جبکہ مرکز کی مودی حکومت ہر سطح پہ ناکام نظر آرہی ہیں۔نوجوان بے روزگاری کے لیے بھٹک رہے ہیں۔نوٹ بندی و جی ایس ٹی سے ملک کی اقتصادی کو بھاری نقصان ہوا ہے۔ملک کا کڑوڑوں روپئے لے کر جو بھاگ گئے اسے پکڑنے کے بجائے سرکار نے غریبوں کو بڑی بڑی لائنوں میں مہینوں تک کھڑا کردیا۔اس سے نہ تو کالا دھن باہر آیا اور نہ ہی بدعنوانی کو قابو میں کیا گیا۔روز فوجی سرحد پہ شہید ہورہے ہیں۔اب جبکہ 2019 میں لوک سبھا کا انتخاب ہونے والا ہے ایسے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس نہ کوئی مدعا ہے اور نہ کوئی ایسا ایشو ہے کے لوگوں کے بیچ جاکر ووٹ مانگے۔ بی جے پی نے ہی شری شری کو اس معاملے میں آگے کرکے بابری مسجد تنازعہ کو کورٹ کے باہر حل کرنے کی بات کے لئے جگہ جگہ چکڑ لگوائے۔ایسے میں اب بی جے پی کس منھ سے اکثریتی طبقہ کے نزدیک ہاتھ پھیلائے گی۔اس کی بوکھلاہٹ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہیکہ سبرامنیم سوامی اور آر ایس ایس کے صدر موہن بھاگوت وقت وقت پہ ایسے بیانات دیتے ہیں کے ھندؤوں کو ایک بار پھر بیوقوف بنایا جائے۔گجرات الیکشن سے قبل جو رجحانات و ایگزیٹ پول سامنے آرہے ہیں اور پٹیل و دلت اتحاد کی دوری سے بھارتیہ جنتا پارٹی پوری طرح خوف میں ہیکہ لگاتار 22 سال تک گجرات کی کرسی سے باہر رکھنے والے کانگریس اقتدار میں نہ آجائے۔اسی کو لے کر ایک بار پھر عالی شان مندرکا سپنا دکھاکر لوگوں کو اپنی جانب مائل کرنے کی کوشش میں ہے جو اب نہیں ہوسکتا۔(یو این این)
(مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ )
06؍ دسمبر 2017
ادارہ فکروخبر 

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES