dushwari

پیغمبر امن و سلامتی

محمداشرف مصباحی،رسرچ اسکالر(علی گڑھ) 

اس خاک دان گیتی پر کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام مبعوث ہوے،جن میں سے ہر ایک کا اصل مقصد دعوت و تبلیغ رہا اوراس راہ میں جتنی چیزیں درکار ہوا کرتی ہیں ان تمام چیزوں کو انہوں نے ملحوظ خاطر بھی رکھا،ان میں سے ایک چیز قیام امن وسلامتی بھی تھا جس پر انہوں نے بھر پور توجہ دینے کے ساتھ ساتھ اسے عملی جامہ بھی پہنایا۔سیرت نبوی اور تاریخ اسلام کا مطالعہ کرنے سے ہمیں متعدد ایسے واقعات ملتے ہیں جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اسلام کا فروغ اوراس کی تبلیغ حالت امن وامان ہی میں ہوئی ہے نہ کہ جنگ وجدال اور فساد کی حالت میں۔

ان واقعات میں سے ایک اہم ترین واقعہ صلح حدیبیہ کا ہے،جو۶ہجری میں وقوع پذیرہوا۔نبی کریم ﷺنے بعثت سے لیکر صلح حدیبیہ تک دعوت وتبلیغ کی راہ میں بہت زیادہ تکلیفیں اور مصیبتیں اٹھائیں لیکن اتنے زیادہ لوگ مسلمان نہیں ہوے مگر جب نبی کریمﷺنے صلح حدیبیہ میں کفار سے دس سال تک جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کیا تواس صلح کے باعث مسلمانوں کو امن وامان میسر آیا اور وہ لوگ جو اسلام کے بارے میں کچھ جاننا چاہتے تھے،انہیں اس کاموقع مل گیا۔اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوے نبی کریمﷺنے دعوت وتبلیغ کے کام کوبخوبی انجام دیتے ہوے لوگوں تک اسلام کے پیغامات زیادہ سے زیادہ پہنچائے ۔نتیجہ یہ ہوا کہ دوسال بعد جب کفار مکہ نے اس معاہدے کو توڑدیا اورنبی کریم ﷺفتح مکہ کے موقع پر مکہ تشریف لے گیے تو اس وقت کی صورت حال یہ تھی کہ نبی کریم ﷺکے وہ جاں نثار جو صلح حدیبیہ کے موقع پر صرف پندرہ سو تھے، آج صرف دوسالوں کے بعد ان کی تعداددس ہزارتک پہنچ چکی تھی۔ یعنی مسلمانوں کی تعداد میں جتنا اضافہ امن وامان کے ان دوسالوں میں ہوا،اتنا اضافہ پچھلے سترہ سالوں میں نہ ہوسکا۔ 
نبی کریم ﷺکی زندگی کے مطالعہ سے یہ بات بھی ہمیں معلوم ہوتی ہے کہ نبی کریمﷺ نے معاشرے میں قیام امن کے لیے تین چیزوں کو بطور خاص ملحوظ خاطر رکھا اور ان پر بھر پور توجہ دی۔
(۱)سب سے پہلے تو یہ کہ نبی کریم ﷺْنے خود اپنی ذات گرامی کو اس حوالے سے ایک بہترین نمونے کے طور پر پیش کیا کہ نبی کریمﷺکی ذات گرامی سے کوئی ایسی بات صادر نہ ہو جو معاشرے کا امن خراب کرنے کا سبب بنے۔ اسی لیے نبی کریمﷺنے کسی کو بھی کوئی تکلیف یا دکھ نہیں پہنچائی،نہ زبان سے اور نہ ہی ہاتھ سے۔چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
نبی کریمﷺنے کبھی بھی اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا الا یہ کہ کسی نے اللہ کی حرمتوں کو توڑا ہو اور نبی کریمﷺنے اللہ کی خاطر اس کا بدلا لیا ہو۔۔(صحیح البخاری،کتاب المناقب باب صفۃالنبیﷺ،رقم الحدیث۷۱)
حالانکہ آپ یہ بخوبی جانتے ہیں کہ جب نبی کریمﷺکو مدینے میں اقتدار حاصل ہوا تو بہت سارے مواقع پر منافقین اوریہود و نصاری نے نبی کریمﷺکی ذات کو طعن وتشنیع اور توہین کا نشانہ بنایا لیکن نبی کریمﷺنے ان سارے واقعات سے صرف نظر کیا اور مسلمانوں کے جذبات کو ٹھنڈا کیا، تاکہ بات آگے بڑھ کر تصادم کی شکل اختیار نہ کرے اور معاشرے میں بد امنی نہ پھیل پائے۔
اس سے اسلام کے تمام ماننے والوں کویہ درس ملتا ہیکہ وہ بھی اپنے شخصی کردار سے اس کا نمونہ پیش کریں تاکہ معاشرے میں امن وامان کا ماحول برقرار رہے۔
(۲)دوسری چیز جوسیرت نبوی میں نمایا ں طور پر نظر آتی ہے،وہ یہ ہے کہ نبی کریمﷺمدینہ طیبہ کے ارد گرد بسنے والے مختلف قبائل میں تشریف لے جاتے اور ان قبائل میں پایے جانے والے مختلف خاندانی تنازعات کا تصفیہ کرواتے تھے۔ چنانچہ جب فتح مکہ کے موقع پر نبی کریمﷺکوقانونی اختیار بھی حاصل ہوگیا تو نبی کریمﷺنے بہت سارے غیر معمولی اعلانات اور فیصلے کیے۔ان فیصلوں میں سے ایک تاریخی نوعیت کا فیصلہ یہ بھی تھا کہ آج کے بعد ماضی کے قصاص کے کسی بھی مقدمہ کو زیر بحث نہیں لایا جائیگا۔
(۳)تیسری اہم چیز یہ تھی کہ معاشرے کے جن عناصر کے مابین مختلف جگہوں پر تصادم کا امکان تھا،نبی کریمﷺنے ان پر بھی توجہ دی اور اپنے تشریف لے جانے سے پہلے ہی لوگوں کو ان مقامات کے حوالے سے آگاہ کیا کہ اے لوگو!میرے جانے کے بعد تمہارے سامنے یہ یہ صورت حال پیدہ ہوں گی اورتمہیں یہ یہ رویہ اختیار کرنا ہے۔
یہ تینوں اہم پہلونبی کریمﷺکی سیرت سے سامنے آتے ہیں۔جن کا نفاذمعاشرے کے مسائل کو حل کرنے اورامن امان کے قیام کے لیے ایک بھر پور اورفعال کردار ادا کرسکتاہے۔
نظریات کی اصلاح:۔
قیام امن کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اولا معاشرے میں بسنے والے افراد کی نظریات کی اصلاح کی جائے ،کیونکہ نظریات کی اصلاح کیے بغیر معاشرے میں قیام امن ممکن نہیں۔یہ چیز بھی ہمیں نبی کریمﷺکی سیرت سے ملتی ہے کہ نبی کریمﷺنے خانہ کعبہ سے بتوں کے ہٹانے پر قدرت رکھنے کے باوجود بھی انہیں نہیں ہٹایا بلکہ برسہابرس دعوت و تبلیغ میں صرف کردیے اور جب نبی کریمﷺنے نظریاتی اور علمی طور پر بت پرستی کی گمراہانہ بنیادوں کو واضح کردیا تب جاکر ان بتوں کے ڈھانے کا حکم دیا۔ اس سے پتہ چلتاہے کہ عمل و اقدام سے پہلے ذھنی خلفشار کا خاتمہ اور علمی نکھار ضروری ہے تاکہ کسی طرح کی کوئی بد امنی پیدانہ ہو سکے ۔
یہی چیزنبی کریمﷺکی اس حدیث سے بھی نمایاطور پر واضح ہوتی ہیکہ نبی کریمﷺجب اپنے داعیوں کو دیگر علاقوں میں بھیجتے تو انہیں اقدام سے قبل دعوت الی اللہ اور لوگوں کے نظریات کی اصلاح کی تلقین کرتے،چنانچہ جب نبی کریمﷺنے سیدنا معاذبن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا عامل بنا کر بھیجا تو فرمایا:
’’تواہل کتاب کی ایک قوم کے پاس جارہا ہے،سب سے پہلے تجھے چاہیے کہ تم انہیں اللہ کی بندگی کی دعوت دو، جب وہ اللہ کو پہچان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالی نے تم پر دن ورات میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں‘‘۔
(صحیح البخاری،کتاب التوحید،باب ماجائفی دعائالنبیﷺ،رقم الحدیث۸۴۸۶)

ظلم کا تدارک اور اس کا خاتمہ:۔
قیام امن و امان کے لیے ظلم کا تدارک اوراس کاخاتمہ بھی ضروری ہے جس پر رسول اللہ ﷺ نے بہت ہی بہترین انداز میں عملی جامہ پہنایا ،کیوں کہ اللہ تعالی کے نزدیک ظلم کی ایک بڑی قسم انسانوں کے حقوق کی حق تلفی ہے۔اوررسول اللہ ﷺعلیہ وسلم نے فرمایا:
’تم پرتمہارے رب کا حق ہے،تم پرتمہارے جسم کاحق ہے،تم پرتمہارے اہل وعیال کا حق ہے اورتم پرتمہاری بیوی کا حق ہے،تو تم ہر حق والے کو اس کا حق دو‘‘۔(صحیح البخاری،کتاب النکاح،باب لزوجک علیک حق،رقم الحدیث ۳۰۹۴)
آج اگرہم بدامنی کاشکارہیں تو اس لیے ہیں کیوں کہ ہمارے درمیان ایک دوسر ے کا حق غصب کرنیکی دوڑلگی ہوئی ہے اورہم نے قرآن کااستعمال صرف اپنے میتوں کے تیجوں اور چہلموں ہی تک محدود کردیا ہے۔ملکی قیادت میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو قر آن کے فلسفہ حیات کو سمجھتا ہو اور اس کو اپنے اوپر نافذبھی کر تا ہو۔اس لیے ایسی صورت حال میں مسلم رہنماؤں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس میدان میں آگے آئیں اور معاشرے میں بڑھتے ظلم کا تدارک کرکے ان کا خاتمہ کریں اورمعاشر ے میں امن وامان بحال کریں۔
خلاصہ یہ کہ آج پوری دنیا بدامنی اور خوف وہراس کے تاریک ماحول سے لرزرہی ہے، ہرطرف ظلم وستم کا الم ناک دور چل رہا ہے اورانسان دامنِ امن کی تلاش میں پریشان ہیں۔ایسے بدامنی،خون ریزی،قتل وغارت گری، لوٹ کھسوٹ اوردھوکہ دہی کے ماحول میں حقوق سے محروم اور ظلم وتشدد سے بدحال انسانوں کو امن کا سایہ عطاکرنے اور عدل وانصاف کو پھیلانے کے لیے مسلمان اورخصوصیت کے ساتھ طاقت ورمسلمان کمربستہ ہوجائیں۔ نبی کریم ﷺ کا حلف الفضول والا عظیم واقعہ ایک بے مثال نمونہ ہے کہ ہر ظلم کے خلاف متحدہ آواز بلند کی جائے، ناانصافی کے خاتمے اور مظلوموں کی حمایت کیلئے تفریقِ مذہب وملت کو مٹاکر صدائے انقلاب 

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES