dushwari

اشیاء و اشخاص

 مولانا علاء الدین ندوی

ایک بچہ کی اولین ترجیح یہ ہوتی ہے کہ وہ دل کو لبھانے والی اشیاء کو پالینے کے لئے اچھل پڑتا ہے ، دوم یہ کہ اسکے والدین اسکی ساری توجہات کا مرکز و محور اور اسکے لئے کل کائنات ہوتے ہیں ۔ ایک معصوم بچے کی محدودو زندگی میں اس کا رویہ انہیں دو بنیادوں پر قائم رہتا ہے اسے گرد و پیش کے اعتبارات اور عالم افکار کے انقلابات سے کوئی سرو کار نہیں ہوتا ۔ من پسند اشیاء کی چاہت اور والدین کی عنایت و دلداری اسکی تمام تر تمناؤں کا مرکز ہوتی ہے ۔ یہی بچہ آگے چل کر جب مثبت تعلیم و تربیت پاتا ہے ، اسکی ذہنی اور فکری صلاحیت فطری انداز میں پروان چڑھتی ہے تو وہ عالم اشیاء و اشخاص کے تنگ دائرے سے نکل کر عالم افکار کی پنہائیوں میں داخل ہوتاہے ،

یہاں پہنچ کر اسکو اس حقیقت کا ادراک ہوتا ہے کہ اسکے والدین بھی دنیا کے انسانوں کی طرف ہی ایک انسان ہیں ، ان سے بھی غلطی اور کمزوری ظاہر ہوسکتی ہے ، ان میں بھی خامیاں راہ پاسکتی ہیں اور وہ عظیم ہستیاں بھی نہیں ہیں ، اس حقیقت پسندانہ فکر و خیال کے قرارپا جانے کے بعد بھی ماں باپ سے اسکی طبعی محبت والفت میں ذرہ برابر فرق نہیں آتا ، انکے احترام و عظمت کا جذبہ کہیں سرد نہیں پڑتا ، مگر کتنا بڑا فرق ہے لڑکپن کی بنیادی سوچ میں جب اسکی فکری حد پرواز اشیاء و اشخاص سے آگے نہ برھ سکی تھی اور آج کی اس سوچ کے درمیان ،جب و ہ صحیح و غلط ، نفع و نقصان اور برے بھلے کا ایک فکری معیار رکھتا ہے اور وہ معیار ہے فکر و نظر اور دلیل و برہان کا ۔ 
پوری نوع انسانی ، اس کا معاشرہ ٗ اسکی تہذیب ، اسکی ساری تگ و دو ، اس کا سارا سرمایہ تمدن اور اس تمدن کی گاڑی کو کھینچنے و الا محنت کش طبقہ اور عیش و عشرت میں ڈوبا ہوا گروہ ، سب کے سب اشیاء و اشخاص کی محدود دنیا میں چکر کاٹ رہے ہیں، بے مقصد متاع حیات کے دلدل میں پھنس گئے ہیں اور دنیا کے حسن و جمال کے گیسوئے تابدار میں الجھے ہوئے ہیں۔ قرآن کریم ایسے لوگوں کی زندگی سے دوٹوک انداز سے تبصرے کرتا ہے اور ان گورکھ دھندوں میں پڑنے والوں کی سطحی فکر سے پردے اٹھاتا ہے ۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اﷲ نے جو احکام نازل کئے ہیں ، انکی پیروی کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اسی طریقے کی پیروی کرینگے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے (بقرہ ۔ ۱۷۰) ۔انہوں نے کہا ، تو اس لئے آیا ہے کہ ہمیں اس طریقہ سے پھیردے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے (الزخرف ۔ ۲۲) ۔ ان سطحی فکر والوں کا حل یہاں تک ہے کہ صریح منکرات کو بھی مذہبی فعل سمجھتے ہیں اور اسکے لئے آباء پرستی کو دلیل میں پیش کرتے ہیں یہ لوگ جب کوئی شرمناک کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے باپ دادا کو اسی طریقہ پر پایا ہے اور اﷲ ہی نے ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیا ہے ۔ (اعراف ۔ ۲۸)
قرآن کریم کے یہ بیانات اشیاء و اشخاص کے ان پیروؤں کے فکری الجھاؤ پر چوٹ ہیں، جو نئی صحیح فکر کا محض اس وجہ سے انکار کرتے ہیں کہ ان کے باپ دادا اس سے ناآشنا اور بے خبر تھے ، انکے لئے تو صرف یہ سطحی تخیل ہی کافی ہے کہ جس راہ پر انکے باپ دادا چل چکے ہیں ، اس سے سرمو انحراف نہ کریں ، خواہ وہ راستہ کتنا ہی غلط کیوں نہ ہو ۔ اشخاص کی اہمیت سے انکار نہیں ۔ انکارکیونکر ہوسکتا ہے؟ آخر اﷲ کے برگزیدہ ہستیاں انبیاء علیھم السلام ، اشخاص ہی تو تھے ، جو علم و ہدایت کا سر چشمہ اور دانائے راز رہے ہیں مگر اشیاء اور اشخاص پرستی میں مبتلا جا ہل و نادان انسانوں کا عجیب رویہ رہا ہے کہ ایک طرف تو وہ آباء پرستی کی اندھی تقلید کا شکار ہو کر اپنے ہی طرح کے انسانوں کو خدا کا اوتار ، خدا کا بیٹا ، بلکہ دیوتامان بیٹھے اور گمراہ کن لیڈروں کی ایسی تقلید کر بیٹھے کہ پورا اخلاقی سرمایہ تلپٹ اور تہذیب و تمدن کا قوام بگڑ کر رہ گیا مگر دوسری طرف یہی اعلیٰ درجہ کے اشخاص انبیاء علیہم السلام صریح نشانیاں ، روشن دلائل ، غیر مبہم اور واضح تعلیمات ، بے لاگ سچائی اور ہدایت و رہنمائی کا سامان لیکر آئے تو انکی دعوت کو یہ کہہ کر ٹھکرا دیا جائے کہ کیا انسان ، ہمیں ہدایت دینگے ، اس طرح انہوں نے ماننے سے انکار کردیا اور منہ پھیرلیا ، تب اﷲ بھی ان سے بے پرواہ ہوگیا (التغابن ۔ ۶)۔
ہر اس طالب حق کو جو عالم اشیاء و اشخاص سے نکل کر عالم افکار بلکہ اس سے بھی آگے عالم نور الہٰی میں آنا چاہتا ہو تو اسے یہ حق ہے کہ وہ دلیل و برہان کی جستجو کرے تو اسے گستاخی پر محمول نہ کیا جانا چاہئیے۔ اسلام کے دور زریں میں اسی دلیل و برہان کو اہمیت حاصل رہی اور معیار و میزان کتاب اﷲ اور سنت رسول اﷲ ہی رہے۔ حضرت ابوبکرؓ کے مبارک کاندھے پر جب خلافت کا بار رکھا گیا تو آپ نے اپنے پہلے خطبہ میں فرمایا کہ اگر تم مجھے دیکھو کہ میں حق پر قائم ہوں تو میری مدد کرو ، اگر دیکھو کہ میں غلط راستہ پر پڑ گیا ہوں تو میری اصلاح کرو ۔ میری اسی وقت تک بات مانو جب تک میں اﷲ کی اطاعت کرتا رہوں ، اگر میں اﷲ کی نافرمانی کر بیٹھوں تو تم پر میری اطاعت فرض نہ رہی ۔
ایک دوسری غلط فکر ، لوگو ں کے ذہنوں میں اس وقت راہ پالیتی ہے ، جب وہ کسی مفکر کی فکر ، کسی شیخ کے فرمان ، کسی مخلص شخصیت کی ذاتی رائے اور اسکے اخلاص و تقویٰ کے درمیان خلط مبحث کر بیٹھتے ہیں۔ کسی خطاکار کے خطا و نقص کی نشاندہی قطعاً اس بات کو مستلزم نہیں ہے کہ اسکے اخلاص و تقویٰ پر حرف گیری ہوئی ہے ۔ ہر شخص کی بات ، قابل قبول اور قابل انکار بھی ہوسکتی ہے ، سوائے ہادی برحق محمد رسول اﷲ ﷺ کے ، ہر انسان کتاب و سنت کے میزان پر تولا جائیگا ، جو اس معیار پر پورا اتریگا ، وہ سر آنکھوں پر ، جو اس پر کھرا نہ اتریگا، کتاب و سنت کی طرف رجوع کیا جائیگا، البتہ اشخاص کا احترام ہر حال میں ملحوظ رکھنا ہوگا، انکی غلطیوں پر انکی شان میں دریدہ د ہنی نہ کی جائیگی، نہ ان پر طعن تشنیع کے تیر چلائے جائیں گے۔ 
یہ امت جو دلیل و برہان ، عقل و فکر ، علم و حی ، نور الہٰی اور فراست و بصیرت کے ہتھیار سے لیس کی گئی تھی ، وہ آج کہاں کھڑی ہے ؟ عصر دوراں کی تو پوری ملی تاریخ اشخاص کی تاریخ بن گئی ہے ۔ ملی جدوجہد ، جماعتیں ، تحریکات ، انجمنیں ، مدارس و جامعات ، ان کا نظام تعلیم و تربیت ، حدیہ کہ لباس ، وضع قطع سب پر اشخاص کا سایہ ہے ۔ اس سایہ کے گہرے اثرات کا اندازہ اس سے لگا سکتے ہیں کہ منشائے قرآنی اور منہاج نبوی سے ہٹ کر پوری اسلامی نسل کی ذہن سازی ، دین کے چند شعائر ، مخصوص عبادات اور آداب زندگی پر کی جارہی ہے اور اسلام کے مکمل و ہمہ گیر ضابطہ زندگی کے تصور سے دور رکھا جارہا ہے ۔ تعلیم و تربیت کی وہ انقلابی روح سرے سے پیدا ہی نہیں کی جارہی ہے جو اپنے طالب علم کو زمینی حقائق اور کائناتی مسائل کو حل کرنے کا اہل بناکر میدان میں لے آئے ۔ وہ لوگ جو خلافت راشدہ کے طرز پر حاضر و مستقبل کی تعمیر کی تمنائیں رکھتے ہیں، انہیں اشیاء و اشخاص پرستی سے بالاتر ہوکر افکار کو اپنانا ہوگا ۔ 
(ماہنامہ بانگ حرا لکھنو ، صفحہ : ۷تا ۹، جلد : ۴ ، شمارہ۔ ۱۱)

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES