dushwari

اعتدال

مولانا محمد منیر الدین عمری 

اعتدال ، دین اسلام کا ایک امتیازی وصف ہے جو نام ہے افراط و تفریط سے بچنے کا ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم درمیانی راہ اختیار کرو ( احمد ) ۔یہ وہ راہ ہے جسے قرآن نے صراط مستقیم سے تعبیر کیا ہے ۔ یہ راہ اعتدال ،عزت و سر بلندی کی راہ ہے ۔ اس کے برخلاف افراط و تفریط کی راہ ، ذلت و رسوائی کی راہ ہے ۔ یہودی و نصاریٰ ، افراط و تفریظ ہی کی راہ اخیتار کرنے سے غضب الہی کے شکار ہوئے ۔ نبی کرم ﷺ نے فرمایا کہ دین میں افراط و تفریط سے بچو کیونکہ تم سے پہلے کی امتیں دین میں افراط و تفریط کی وجہ سے ہلاک ہوئیں ( احمد ، نسائی )۔

ثابت ہوا کہ اعتدال اور میانہ روی ، عروج و اقبال اور فتح و ظفر کی ضامن ہے جبکہ افرط تفریط ، غلو و شدت پسندی ، ذلت کاپیش خیمہ ہے ۔ اللہ تعالی نے امت محمدیہ کو امت وسط کے لقب سے نوازا ہے جس سے یقیناًاس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ جب تک یہ امت عیسائیوں کی طرح افراط اور یہودیوں کی طرح تفریط سے بچ کر اعتدال پر قائم رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتی رہے گی ۔ ہر طرح کے نقصان و ضرر سے محفوظ اور دوسری امتوں سے فائق و ممتاز رہیگی ۔ 

صحابہ و ائمہ کی مثالی تاریخ بتاتی ہے کہ ان بزرگ ہستیوں نے ہمیشہ اعتدال کے دامن کو مضبوطی سے تھاما ۔ نازک سے نازک موقع پر بھی انہوں نے اعتدال کے دامن کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا ۔ یہی وجہ ہے کہ با ہمی شدید اختلافات کے با وجود ان بزرگوں نے ایک دوسرے کی خوبیوں کا اعتراف کر نے میں ہچکچاہٹ محسوس کی اور نہ ایک دوسرے کی عزت میں کوئی کسر چھوڑی ، نہ کبھی انہوں نے حق و انصاف کا دامن اپنے ہاتھ سے جانے دیا اور نہ فقہی و فکری اختلافات کو معاشرتی افتراق و انتشار کا سبب بننے دیا ، سب کا مقصد کتاب اﷲ اور سنت رسول ؐ کی اتباع کرکے اﷲ کی رضا مندی حاصل کرنا تھا ۔ کسی نے اپنی فکرکو اپنے وقار کا مسئلہ نہیں بنایا ۔ اما م سیوطی لکھتے ہے کہ ہم نے یہ نہیں سنا کہ کسی صحابی کو اپنے مخالف القول صحابی سے مخاصمت کی نوبت آئی ہو اور ایک نے دوسرے کو قصور وار بتلایا ہو (میزان للشعرانی جلد ۔اول، صفحہ ۔۱۳۰) ۔ محمدبن یوسف صالحی لکھتے ہیں کہ صحابہ کرام کے مابین بھی اختلاف ہوا ، حالانکہ یہ حضرات خیرالامم تھے ۔ لیکن ان میں سے کسی کی کسی کے ساتھ مخاصمت نہیں ہوئی ( عقود الجمان صفحہ ۱۲) 
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی لکھتے ہیں کہ صحابہ کرام، تابعین عظام ااوران کے بعد کے زمانے میں بعض ایسے تھے جو نماز میں بسم اللہ جہراً پڑھتے تھے اور بعض جہراً نہیں پڑھتے تھے ، بعض نماز فجر میں قنوت پڑھتے اور بعض نہیں پڑھتے تھے ، بعض نکسیر پھوٹنے ، پچھنے لگوانے اور قئے کرنے کی وجہ سے وضو کرتے تھے اور بعض نہیں کرتے تھے ، ان اختلافات کے با وجود ہر ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھ لیا کرتے تھے ( حجتہ البالغہ ۱/ ۳۸۸)۔ انہیں خوبیوں کی وجہ سے نبی کریم ﷺ نے ان ہستیوں کے زمانے کو سب سے بہتر زمانہ قرار دیا ۔فرمایاکہ سب سے بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے ۔ پھر جو ان کے بعد آئے پھر جو ان کے بعد آئے ( بخاری و مسلم ) ۔آپ نے یہ بھی فرمایا کہ تم پر میری سنت کی پیروی فرض ہے اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کی اتباع کرنا بھی ضروری ہے (ابوداؤد ۔ ترمذی ) ۔حضرت عمر بن عبد العزیز اپنے بزرگوں کو سلف صالحین کے طریقہ کی پیروی کر نے پر زور دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تم اپنے سلف صالحین کے راستے پر چلو ، اس لئے کہ جو لوگ ان کے نقش قدم پر چلنے میں کوتاہی کئے وہ دین میں تفریط کا شکار ہو گئے اور جو انکے طریقے کو ناقص سمجھ کر اس میں اضافہ کئے ، وہ افراط کے شکار ہوگئے ، حالانکہ سلف صالحین افراط و تفریط کے درمیان صراط مستقیم پر قائم تھے ۔ بہت سے مسائل میں صحابہ کرام اور تابعین عظام میں اختلافات رہے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک نے غیر منصوص احکام میں اجتہاد کیا اور دلائل و شواہد کی روشنی میں اپنا ایک نقطہ نظر قائم کیاتھا ، لیکن کسی نے اپنی رائے کو دوسروں پر نہ تو مسلط کیا اور نہ کسی نے اپنے مخالف کے دین و علم میں کوئی عیب نکالا بلکہ اس کے بر عکس ان قابل قدر ائمہ نے اجتہادی مسائل میں باہم اختلاف کے با وجود دوسروں کی رائے اور اجتہاد کا احترام کیا اوراسے قدر کی نگاہوں سے دیکھا ۔ 
حضرت امام ابو حنیفہ ؒ جیسے اعلی ٰ مرتبہ والے مجتہد بیع سلم کی بحث میں اپنی رائے پیش کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ چونکہ یہ اجتہاد ہے اس لئے ا س پر یقین ضروری نہیں یعنی اس مسئلہ میں مزید غور کی گنجائش ہے ۔ (ہدایہ۔ ۸۳) حضرت اما م مالک ؒ کی تالیف موطا منظر عام پر آئی تو خلیفہ ہارون رشید نے اس کی علمی پختگی سے متاثر ہوکر امام مالک سے خواہش کی کہ کیوں نہ اسے حکومت کا متحد ہ قانون بنا دیا جائے اور علماء پر لازم قرار دیا جائے کہ وہ اختلافی مسائل میں اس کتاب کے اندر بیان کردہ مسلک کی اتباع کریں ۔ امام مالک ؒ نے جواب دیا کہ ایسا نہ کرو کیونکہ اصحاب رسول کا فروعات میں اختلاف رہا اور صحابہ مختلف شہروں میں چلے گئے ہیں، ان میں سے ہر ایک راستی پر ہے ۔ امام شافعی ؒ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم میرے نزدیک اصل چیز حق کی وضاحت اور اس کا اظہار ہے ، خواہ وہ میری زبان سے نکلے یامیرے مقابل کی زبان سے اور حق ہی کو یہ حق حاصل ہے کہ ا سکی اتباع کی جائے ( اتحاد ملت ۔ ۷۲) ۔ امام احمد بن حنبل ؒ فرماتے ہیں کہ کسی بھی فقیہ کیلئے زیبا نہیں کہ لوگوں کو کسی مذہب کے خلاف للکارے( الآداب الشریعہ)۔ ائمہ عظام کے مذکورہ اقوال سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ سب اعتدال پسند تھے ،ان ائمہ عظام نے نہ صرف اپنے قول و عمل سے اعتدال و توسط اور وسعت نظری کا ثبوت دیا بلکہ اپنی زبان ے بھی کھلے لفظوں میں اپنے مخالف کی علمی قابلیت و صلاحیت اور تقویٰ و طہارت کااعتراف کر کے اپنے توسع و اعتدال کا ثبوت دیا ۔ ائمہ سلف کی پوری تاریح بتاتی ہے کہ وہ سب غلو اور شدت پسندی سے دور تھے ان کے درمیان مختلف مسائل میں رائے و اجتہاد کا اختلاف ہوا ، ہر ایک نے دلائل ، براہین سے اپنے موقف کی حقانیت ثابت کی ، دوسروں کی رائے و اجتہاد کا احسن طریقہ سے دفاع بھی کیا ۔ لیکن ان کا یہ اختلاف ان مکے درمیان نفرت و عداوت کا سبب نہیں بنا نہ انہوں نے اپنے اختلاف کو نجات اور عدم نجات کا درجہ دیا، اور نہ اپنے مخالف کو بدنیت یا گنہگار قراردیا بلکہ اپنے اختلافات کے با وجود انہوں نے با ہمی تعظیم و توقیر اور دوسروں کی رائے و اجتہاد کے احترام کی ، اتنی بلند مثال قائم کی جو آج ساری امت کے لئے قابل نمونہ ہے ۔
(ماہنامہ ،راہ اعتدال ،عمر آباد ، جلد ۲۔ شمارہ ۷ ۔ صفحہ ۳۰ ۔۳۸)

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES