dushwari

یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ الیکشن ایمانداری سے ہوا یا نہیں

حفیظ نعمانی

اُترپردیش کا بلدیاتی الیکشن ایسا میچ تھا جس میں صرف ایک ٹیم اس طرح کھیل رہی تھی کہ ٹیم کے کوچ اور صلاح کار بھی ہر قدم پر موجود تھے اور دوسری ٹیمیں ایسے کھیل رہی تھیں کہ اس کے کھلاڑی کو جرسی دے دی گئی تھی اور کہہ دیا تھا کہ اپنے بل بوتہ پر مقابلہ کرو۔ بی جے پی کے پارٹی صدر ،صوبہ کے وزیر اعلیٰ، نائب وزیر اعلیٰ اور ہر وزیر پوری طرح الیکشن لڑرہا تھا وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی نے 30 سے زیادہ ریلیاں کیں۔ انہیں یہ الیکشن جیت کر ثابت کرنا تھا کہ انہوں نے آٹھ مہینے میں اتنے کام کئے ہیں کہ شہریوں نے خوش ہوکر ہر جگہ کامیاب کرادیا۔


2012 ء میں جب الیکشن ہوئے تھے تو صوبہ میں 12 کارپوریشن تھے اور حکومت بی جے پی کی نہیں تھی لیکن ان میں 10 بی جے پی کے پاس تھے یعنی صرف 2 کم تھے اور نتیجہ اس الیکشن میں بھی تقریباً ایسا ہی رہا کہ 16 کارپوریشن میں سے 14 بی جے پی کو ملے یعنی 2 کم۔ اور (2) کارپوریشن مایاوتی لے گئیں جبکہ پورے صوبہ میں وہ کسی ایک جگہ بھی نہیں گئیں اور نہ کوئی ریلی کی۔ ان دو سیٹوں نے ان کے اس دعوے کو طاقت دے دی ہے کہ اسمبلی الیکشن میں مشینوں کے ذریعہ بڑا نشانہ ان کو ہی بنایا گیا تھا۔
بلدیاتی الیکشن پہلے سیاسی پارٹیوں کے انتخابی نشان پر کوئی نہیں لڑتا تھا اور یہی ہونا بھی چاہئے کہ یہ قانون ساز ادارے نہیں ہیں اس کا پورا انتظام سرکاری نوکروں کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور اس کی ووٹرلسٹ بھی اپنی الگ ہوتی ہے۔ ہم نے آزاد ہندوستان کے ہر الیکشن کو دیکھا ہے ہماری پوری زندگی میں جس میں ہم بالغ ہونے کے بعد گوئین روڈ پر بھی رہے احاطہ سلیماں قدر میں بھی رہے بلوچ پورہ میں بھی رہے کچہری روڈ پر بھی رہے اور 40 سال سے زیادہ باغ گونگے نواب میں بھی رہے جو امین آباد کا حصہ ہے ان محلوں میں ایک بار بھی کوئی میونسپل بورڈ یا کارپوریشن کی ووٹر لسٹ بنوانے یا ٹھیک کرانے نہیں آیا۔ کوئی نہیں جانتا کہ ان کی لسٹ کہاں بنتی ہے اور کیسے بنتی ہے لیکن وہ پوری طرح سرکاری ملازموں کے ہاتھ میں ہوتی ہے؟ اس بار معلوم ہوا کہ کوشش یہ کی گئی کہ مسلم ووٹ ایک جگہ ہوں تو ان کو منتشر کردیا جائے۔ اور پھر یہی کردیا گیا۔ صرف 8 مہینے پہلے میرے گھر کی دو بچیوں نے اسمبلی کے الیکشن میں اپنا ووٹ کا حق استعمال کیا تھا 10 دن پہلے ایک صاحب ہمارے گھر کی پرچیاں ایک لفافہ میں دے گئے ان میں دیکھا تو چار نام غائب ہیں۔ بعد میں جب شور ہوا تو معلوم ہوا کہ کلراج مشرا کا نام بھی نہیں ہے۔ لیکن سب سے زیادہ لاکھوں نام مسلمانوں کے کاٹ دیئے گئے۔ یہ تو ہر حکومت کا قاعدہ ہے کہ خود ہی شرارت کراتی ہے اور بعد میں شور مچاتی ہے کہ جس نے یہ غلط کام کیا ہے اسے بھرپور سزا دی جائے گی۔ یہی ہوگی سرکار نے بھی کیا۔
ہر حکومت الیکشن سے پہلے یہ دیکھتی ہے کہ کتنے حلقے ایسے ہیں جہاں مسلمان آسانی سے جیت سکتا ہے پھر اس میں سے کنارے کے مسلم محلوں کو نکال کر ہندو محلوں میں ملایا جاتا ہے اور اگر ملانے میں مشکل ہوتی ہے تو پورا محلہ ہی غائب کردیا جاتا ہے۔ بلدیاتی الیکشن اب سے 5 مہینے پہلے ہونا چاہئے تھے لیکن نئی حکومت کو اپنے حساب سے حلقے بنوانا تھے اس لئے پورا عملہ اس پر لگا دیا اور جلدی جلدی میں اتنے بھونڈے طریقے سے ووٹر لسٹ کا ناس مارا گیا ہے کہ پورا الیکشن دوبارہ ہونا چاہئے۔
یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے کہ کون ہارا اور کون جیتا اصل مسئلہ یہ ہے کہ میرا ایک بھتیجا جو برسوں سے اپنے بچوں کے ساتھ کھدرے میں رہتا ہے اور ہر الیکشن میں وہ سب ووٹ دیتے ہیں ان میں سے اس الیکشن میں ایک کا نام بھی نہیں ہے۔ ووٹر شناختی کارڈ جب بنے تھے تو کہا گیا تھا کہ جس کے پاس کارڈ ہوگا وہ ووٹ دے گا اور الیکشن کے وقت کہا جاتا تھا کہ اگر کارڈ نہ بنا تو متبادل کے طور پر پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس جیسے دس بارہ متبادل ہوتے تھے لیکن اہمیت کارڈ کی ہوتی تھی کہ جس کے پاس وہ کارڈ ہے وہ ووٹر ہے۔ لیکن کارپوریشن کے الیکشن میں اس کارڈ کی حیثیت ردّی کاغذ کی بنادی گئی وہ ہے اور اصلی بھی ہے لیکن ووٹر لسٹ میں نام نہیں ہے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹیاں الیکشن میں حصہ نہیں لیتیں۔ وزیر اعلیٰ کے پاس خوش ہونے کی کوئی چیز نہیں ہے اس لئے یہ چورا چوری کا الیکشن گجرات پر بھی اثر انداز ہوگا اور 2019 ء پر بھی اس کا اثر ہوگا۔
گجرات میں بی جے پی کی حالت ہر دن خراب ہوتی جارہی ہے 14 دسمبر کے بعد انہیں خوش ہونے کا موقع ملے نہ ملے اس لئے مودی جی نے بھی اپنی خوشی کا اظہار کرنے میں تکلف سے کام نہیں لیا اور اسے یوگی کی مقبولیت کا ثبوت بتا دیا جبکہ دو دن پہلے ہی ایک جائزہ رپورٹ آئی تھی کہ سب سے بدتر حالت اُترپردیش کی ہے اور ہونا بھی چاہئے اس لئے کہ حکومت کو صرف اجودھیا، کاشی اور متھرا کی فکر ہے اور دوسرے مسئلوں سے انہیں دلچسپی ہی نہیں۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES