dushwari

جمعیت علماء ہند کا شاندار ماضی اور حال

از : محمد صدرعالم نعمانی 

جمعیت علماء ہند اپنی زندگی کے 98سال 23نومبر 2017کومکمل کرنے جارہی ہے. یہ ہندوستان کی ملی تاریخ کا ایک ایسا خوشگوار واقعہ ہے جس پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے. خداکا بے حد فضل واحسان ہے کہ جمیعت علماء ہند اپنی درازی عمر کے باوجود پہلے دن جیسے جوش عمل. اور سرگرمی کے ساتھ زندہ ہے. تنظیموں کے لئے انٹھانوے برس کی عمر کچھ کم نہیں ہوتی. اور اگر کوئ تنظیم اپنی عمر کے انٹھانوے سال پورے کرلے تو اسے فضل خداوندی اور اکابر واسلاف کی دعاء نیم شبی کے سوا اور کیا کہا جاسکتاہے.

جمیعت علماء ہند ایسے وقت میں قائم ہوئ جب انگریزی حکومت کا جبروظلم اپنی حدود کو چھورہاتھا. اور کسی میں بھی یہ جراءت نہیں تھی کہ اس تن کے گورے اور من کے کالے انگریز کے خلاف کوئ آواز بلند کرسکے. جمعیت علماء ہند ہی نے آزادی سے پہلے برطانوی سامراج کے جبروظلم کے خلاف پوری بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا. یہ جمعیت علماء ہند ہی تھی جس نے سب سے پہلے ملک کی آزادی کا مطالبہ کرکے ان تمام لیڈروں اور جماعت کو حیرت میں ڈال دیاتھا. جو انگریزوں سے چند مراعات حاصل کر نے میں ہی اپنی بڑی کامیابی تصور کرتے تھے. پھر سیاسی میدان میں جمیعت علماء ہند نے ملک کی تحریک آزادی کو آگے بڑھانے کیلئے جس طرح سر دھر کی بازی لگائ. وہ ہندوستان کی آزادی کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے. آزادی سے پہلے جمعیت علماء ہند نے صرف حصول آزادی کی جدو جہد میں ہی حصہ نہیں لیا. بلکہ اس نے مسلمانوں کے دین وایمان کی حفاظت کا فریضہ بھی پوری طرح انجام دیا. جب قابض انگریزی حکومت نے مسلمانوں کے تشخص کو مٹانے کیلئے مختلف مذاہب کی باہمی شادیوں کیلئے قانون بنانے کی کوشش کی تو یہ جمیعت علماء ہند ہی تھی جس نے پوری دلیری کے ساتھ مقابلہ کیا. اور اس مسئلہ کو انگلستان میں معنقد ہونے والی گول میز کانفرنس تک پہونچایا. اور اس قانون کو منسوخ کرانے میں کامیابی حاصل کی. اسلامی شریعت کے خلاف شاردا ایکٹ لایا گیا. جس میں بیت اللہ کی زیارت. اور حج کو جانے والے مسلمانوں کی راہ میں مشکلات کھڑی کی گئ تھیں. لیکن جمعیت علماء ہند نے کسی ایک موقع پربھی مسلمانوں کو بے سہارا نہیں چھوڑا. اس طرح اس نے برطانوی سامراج کے ظلم وجبر کی پرواہ کئے بغیر آزمائش کی اس گھڑی میں مسلمانوں کی دینی شرعی اور سیاسی رہنمائ کا شاندار فریضہ انجام دیکر ایک ایسی تاریخ مرتب کی ہے جسکو آنے والا مورخ کبھی فراموش نہیں کرسکتا. 

15اکست 1947کو ملک آزاد ہوا ہمیں یہ آزادی ایک سو سال کی طویل جدوجہد اور لاکھوں لوگوں کی جانوں کے نذرانے دینے کے بعد ملی تھی. حق تو یہ تھا کہ ہر فرد اسکی خوشیوں میں شریک ہوتا. لیکن افسوس کے جس وقت پنڈت جواہر لعل نہرو 15اگست 1947کورات کے بارہ بجے لال قلعہ کی فصیل پر ہندوستان کا قومی پرچم ترنگا لہرارہے تھے .ٹھیک اسی وقت دھلی کے گلی کوچے مسلمانوں کے خون سے لالہ زار بنے ہوئے تھے. اس وقت جمعیت علماء ہند ٹخنوں ٹخنوں خون کے سیلاب میں گھس کر مسلمانوں کی ڈھارس بندھائ.اور انکے تحفظ کا بندوبست کیا. اور حکومت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دھلی کے مسلم علاقوں کو مسلم زون قرار دلائ. نہیں تو کون کہہ سکتا تھا کہ دھلی کی آبادی میں پھیلی ہوئ ہزاروں مسجدوں کے میناروں سے بلند ہونے والی اللہ کی بڑائ کے نغمے کو کوئ کلمہ گو سننے والا میسر آسکتا. 
15اگست1947کو آزادی تو ملی مگر وہ اپنے ساتھ تقسیم وطن کا ناقابل فراموش سانحہ بھی ساتھ لائ جسکے نتیجے میں لاکھوں لوگ ترک وطن کرکے پاکستان چلے گئے. وہی تبادلہ املاک بھی ایک بڑا مسئلہ بن کر نمودار ہوا. اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے حکومت نے کسٹوڈین کا محکمہ قائم کیا. جس نے انتہائ جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو بری طرح جبرواستبداد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا اور مسلمانوں کی جائداوں. دوکانوں. اور مکانوں کو خود انکی آنکھوں کے سامنے کوڑیوں کے بھاؤ نیلام کرنا شروع کیا. اس وقت جمعیت علماء ہند ہی نے مسلمانوں کی داد رسی کی. وہ جمعیت علماء ہند ہی تھی جس نے کسٹوڈین کے ظالم افسروں کے بے درد قلم کو پکڑا. اور انہیں مجبور کردیا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ انصاف سے کام لیں. آج جو مسلمان اپنی جائدادوں پر بیٹھے ہوئے ہیں. یہ جمعیت علماء ہند ہی کا صدقہ ہے. وہیں حکومت کی جانب سے اوقاف کی املاک پر غاصبانہ قبضے کیئے جانے لگے. تو جمعیت علماء ہند اوقاف کے املاک کے تحفظ کی حمایت میں اٹھ کھڑی ہوئ. باالاخر حکومت کو مجبور ہوکر وقف قانون بنانا پڑا. یہ وقف قانون گرچہ جمیعت علماء ہند کے خوابوں کا آئینہ دار تو نہیں تھا. تاہم ایک حد تک اوقاف کے تحفظ میں مدرگار ثابت ہوا. 
الغرض مسلم پرسنل لاءمیں مداخلت کا معاملہ ہو. یا تحفظ شریعت پر حملہ کا. طلاق ثلاثہ کا معاملہ ہو . یا فرقہ وارانہ فساد ات کا. بابری مسجد کی بازییابی کا معاملہ ہو. یا آسام کے مسلمانوں کی شہریت کا سوال. گائے کے نام پر مسلمانوں کا قتل ہو. یا گھر واپسی کے نام پر ظلم وبربریت. یاجیل میں بند مسلم قیدیوں کو انکاونٹر کے نام پر موت کے گھاٹ اتار دینے کا معاملہ ہو. یا دہشت گردی کے نام پر بے قصور مسلمانوں کو سلاخوں کے اندر سے نکالنے کا معاملہ ہو. یا فسادات میں اجڑے ہوئے لٹے پٹے مسلمانوں کی داد رسی کا. یا انکی بازآبادکاری اور ریلیف کا معاملہ ہو. یامظلوم مسلمانوں کی عدالتوں اور کمیشنوں کے سامنے قانونی لڑائ لڑنے کا معاملہ ہو. جمیعت علماء ہند آگے بڑھکر ہر معاملہ میں مسلمانوں کی رہنمائ کا فریضہ انجام دے رہا ہے. 
جمیعت علماء ہند کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ ملک کے تمام فرقے باہم متحد ہوکر ملک کی تعمیر وترقی میں حصہ لیں. جمیعت علماء ہند کی یہ کوشش اس لئے نہیں ہے کہ جمعیت کے اکابر واسلاف نے ملک کو انگریزی سامراج سے آزاد کرانے میں جان ومال کی قربانیوں کا زبردست نذرانہ پیش کیا تھا. بلک اس لئے بھی ہے کہ اس ملک کو زندگی کے ہر شعبہ میں بنانے اور سنوارنے میں بھی انکا اہم کردار رہا ہے. مگر انتہائ افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک کا ایک مخصوص طبقہ جسے سرکار کی سرپرستی حاصل ہے وہ مسلمانوں کو نیست ونابود کرکے ہندوستان کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنا چاہتا ہے .ان فرقہ پرست طاقتوں کا منصوبہ یہ ہے کہ ملک کوفرقہ واریت کاشکاربناکر مسلمانوں کو مجبور کردیاجائےکہ یاتووہ ملک چھوڑ کر چلے جائیں یا پھر اپناتشخص ختم کرکے دوسرے درجہ کی شہریت قبول کرلیں.
اس کیلئے فرقہ واریت کا سہارا لیا جاتا ہے. کبھی انکی تعلیم اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور کبھی تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے نام پر جھوٹے الزام میں گرفتار کر کے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے. 
آج مسلمان اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں. بلکہ فرقہ پرست عناصر کی جانب سے روز ایسے واقعات دہرائے جارہے ہیں. جس نے مسلمانوں کو سوچنے پر مجبور کردیا ہے. 
آزادی سے پہلے صرف غلامی کا ایک زخم تھا آزادی کے بعد جمہوریت کے اس دور میں ہر روز ایک نیا زخم مسلمانوں کو برداشت کرنا پڑرہاہے. آج نہ مسلمانوں کا پرسنل لاء محفوظ ہے. اور نہ مدارس. مساجد. اور خانقاہیں محفوظ ہیں. مسلمانوں کے اس دینی وملی مسائل پر جمیعت علماء ہند کی ہمیشہ گہری نظر رہی ہے. اور ان مسائل کے حل کیلئے جمعیت علماء ہند مسلسل کوشش بھی کرر ہی ہے. 
جمعیت علماء ہند کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس نے اپنی زندگی کے انٹھانوے سالوں میں نہ کبھی کسی حکومت کی چاپلوسی کی. نہ خوف کھایا. اور نہ ہی کبھی اقتدار کی آنکھوں کا رنگ دیکھ کر اپنے فیصلوں میں کوئ تبدیلی کی. اس نے جو صحیح اور مسلمانوں کے حق میں بہتر سمجھا کیا اور جسے غلط سمجھا اس کی بروقت اور کھلی مخالفت کی. اس کی اسی صاف گوئ کے نتیجہ میں اسے نہ صرف غیروں بلکہ خود اپنوں کے غصہ کا بھی نشانہ بننا پڑا. لیکن ہر آنے والے وقت نے یہ ثابت کردیا کہ جمعیت علماء ہند کے اکابر نے جو کہا تھا وہی صحیح تھا. 
آزادی سے پہلے جمعیت علماء ہند نے اس انگریزی سامراج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا. جس کی حکومت میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتاتھا. وہ کون سی آزمائش تھی جسے انگریزی حکمرانوں کے ہاتھوں جمعیت علماء ہند کے اکابر نہیں گزرے. وہ اگر چاہتے تو بڑا سے بڑا انگریزی اعزاز حاصل کر سکتے تھے. بڑی بڑی جاگیریں انکے چشم ابرو کی منتظر تھیں. مگر انہوں نے 1919میں جمعیت علماء ہند کے قیام کے روز اول جوعہد کیا تھا اور جو زریں اصول مقرر کئے تھے دارورسن کی ہزاروں آزمائشوں کے باوجود انہوں نے اس سے انحراف نہیں کیا. جبکہ آج وہ خود ملک میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف موجودہ حکومت سے نبرد آزماء ہیں . جمیعت علماء ہند اور اسکی فعال قیادت مسلمانوں کے موجودہ حالات پر خاموش تماشائ بنکر نہیں رہ سکتی. ایک بار پھر وقت آگیا ہے کہ جمعیت علماء ہند ان تمام فتنہ سامانیوں اور فرقہ وارانہ شازشوں کا پورے عزم وحوصلہ کے ساتھ مقابلہ کرے. اسی ضرورت کے پیش نظر جمیعت علماء ہند بہار کے زیر اہتمام ایک روزہ عظیم الشان نوواں ریاستی اجلاس عام وقومی یکجہتی کانفرنس زیر صدارت قائد ملت حضرت مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم صدر جمیعت علماء ہند. وزیر قیادت جناب الحاج حسن احمد قادری جنرل سکریٹری جمیعت علماء بہار بتاریخ 16نومبر2017بروز جمعرات بوقت بعد نماز مغرب بمقام نہرو اسٹیڈیم موتیہاری میں معنقد ہونے جارہی ہے. تاکہ ملک وملت کو درپیش اہم مسائل پر غور کرکے موثر لائحہ عمل تیار کیا جاسکے 
جمیعت علماء ہند بہار کے اس اجلاس عام میں جن مسائل پر بطور خاص غور کیا جائے گا وہ انتہائ ہمہ گیر نوعیت کی حامل ہیں. ان میں سے کچھ ایسے مسائل ہیں جن کا تعلق صرف اور صرف مسلمانوں سے ہے. جبکہ اجلاس کے ایجنڈے میں نصف درجن سے زائد ایسے مسائل شامل ہیں. جن کا تعلق حکومت سے ہے. انشاءاللہ جمعیت علماء ہند بہار اپنے اجلاس کے ذریعہ ان مسائل پر حکومت کو متوجہ کرنے اور ان کا حل تلاش کرنے پر زور دیگی. اور اس سلسلے میں موثر لائحہ عمل تیار کریگی. 

جمعیت علماء ہند کی یہ دیرینہ روایت رہی ہے کہ ایسے عمومی مواقع پر اپنے مظلوم ومقہور مسلمان بھائیوں کو خواہ انکا تعلق کسی بھی خطہ وملک سے ہو. یاد رکھا جائے. چنانچہ اس اجلاس عام میں بھی اپنے ان مسلمان بھائیوں کے لئے اظہار ہمدردی اور ان کے انسانی وبین الاقوامی حقوق اور ان کے جائز موقف کی حمایت کا ارادہ رکھتی ہے. خاص طور سے برما وفلسطین کے مظلوم ومقہور مسلمانوں کو جن دردناک ومظلومانہ حالات سے گزرنا پر رہا ہے. اس اجلاس عام میں ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جائے گا. جمعیت علماء ہند بہار کے اس اجلاس عام میں بلاامتیاز مسلک وملت اور برادران وطن کو بھی شرکت کی دعوت دی گئ ہے. یہ ایک ایسا موقع ہے جب ہم اس اجلاس عام میں شرکت کرکے فرقہ پرست اور فسطائ طاقتوں پر یہ واضع کرسکتے ہیں کہ ہمارا اتحاد اپنے دین ومزہب اور اپنے ملی تشخص کی حفاظت کیلئے ایک ایسی آہنی دیوار ہیں.جسے کسی کیلئے توڑنا آسان نہیں ہے. ہمیں امید ہے کہ جمعیت کے آواز پر لبیک کیتے ہوئے لاکھوں کی تعداد میں فرزندان توحید اس اجلاس میں شریک ہوئے تو انشاءاللہ یہ اجلاس مسلمانوں کی ملی تاریخ کا ایک اہم عنوان ثابت ہوگا. خدا کرے ہماری یہ آرزو شرمندہ تعبیر ہو اور جمعیت کا یہ اجلاس عام اپنے پیچھےایسے نقوش چھوڑنے میں کامیاب ہوسکے. جوملت اسلامیہ کےمستقبل کیلئے خوش آئند اور خوش گوار ثابت ہوں.
(مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ) 
14؍ نومبر 2017
ادارہ فکروخبر

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES