dushwari

قرآن

مولانا ماہر القادری

قرآن کریم کی تلاوت و سماعت آنکھوں کو اشک بار بھی کرتی ہے اور لبوں پر موج تبسم بھی ابھاردیتی ہے ، خشیت و محبت کی ملی جلی کیفیت بھی ۔ اس مقدس کتاب میں وہ تو ازن پایا جاتا ہے جو آدمی کو رحمت و غفاریت کے سہارے غیر ذمہ دار اور فرض شناس نہیں ہونے دیتا اور قہاریت اور انتقام کا تصور آدمی کو مایوس نہیں بناتا ۔ قرآن کریم کا یہ بیان کس قدر نشاط انگیز ہے کہ بہشت کے قصر دانوں میں غلمان سونے کے تھال لئے ہوئے گردش کر رہے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی قرآن پاک میں یہ ہولناک منظر بھی ملتا ہے کہ دوزخ کی غضب ناک آگ میں لوگوں کے جسموں کی کھالیں بدلی جا رہی ہیں یعنی اللہ تعالی ٰ سے امید بھی اس سے خوف بھی ۔

قرآن کریم انسان کو اس عالم میں رکھناچاہتا ہے کہ جنت کی نشاط و شادمانی اور معرفت کی امید سے فرض نا شناس ، نا شکرا ، غافل اور کاہل نہ بنا دے اور انتقام و عقوبت داروگیرو احتساب اور جہنم کے عذاب کاذکر سن کر آدمی نا امید نہ ہو جائے اور وہ ہاتھ پیر توڑ اور جی چھوڑ کر نہ بیٹھ جائے ۔
قرآن کریم صرف دعاؤں اورمقدس زمزموں کی کتاب نہیں کہ خلوص نیت و عقیدت کے ساتھ تلاوت کر کے اس کاحق ادا ہو جاتا ہو ، یہ الکتاب ہے جو زندگی کے تمام شعبوں کو محیط ہے اور حکومت کے ایوانوں سے لیکر فقیر کی جھونپڑی تک زندگی کا کوئی مرحلہ اس سے باہر اور آزاد نہیں ہے ، خود رسول اللہ ﷺ نے جن پر قرآن نازل ہو ا تھا ، تےئس سال کی مدت تک جنگ ہو صلح ہو حکومت ہو ، تجارت ہو ، عائلی زندگی ہو قرآنی زندگی ہو ، قرآنی احکام کو عملاًبرت کر دکھایا ۔ قرآن کریم کوئی خیالی کتاب نہیں ہے جس کے الفاظ تو بھلے معلو م ہوتے ہیں مگر عملی دنیا میں ان الفاظ کی معنویت ساتھ نہیں دیتی ۔ قرآن کریم مکمل ترین دستور حیات اور اللہ تعالی کا نازل کیا ہوا آخری و قطعی منشور زندگی ہے ۔ یہ زندگی کے تجربوں کے مرحلوں سے گزرا ہے اور زندگی کے سفر میں قدم قدم پر قرآن، فطرت سے انتہائی مربوط ثابت ہوا ہے ۔قرآن کریم میں زندگی سے فرار کا کوئی چور دروازہ یا پوشیدہ سرنگ نہیں ملتی ۔ ترک دنیا اور رہبانیت کے علی الرغم قرآن کریم تو اس دعا کی تعلیم دیتا ہے جس میں اللہ تعالی سے اس مادی دنیا کو حسین و خوبصورت بنانے کی تمنا کی گئی ہے ۔ ربنا آتنا فی الدنیا حسنہ اللہ تعالی نے دنیا کارخانہ بچوں کے گھروندوں کی مانند کھیل کے لئے نہیں بنایا ۔ یہ تو شعور و بصیرت کی تمام قوتوں اور توانائیوں کے ساتھ برتنے کے لئے خلق کیا گیا ہے ۔ 
رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں قرآنی اخلاق کی بنیادوں پر معاشرہ استوار کیا گیا اور اس طرح قرآنی تعلیمات کو متشکل کر دیا گیا ۔ یہ معاشرہ راھبوں اور جوگیوں کا معاشرہ نہیں ، فاتحوں اور کشور کشاؤں کا معاشرہ تھا ۔ اس معاشرہ میں فاتحین بدروحنین پائے جاتے تھے ۔ قران کریم نے ان نفوس قدسیہ میں اس قدر جوش اور ولولہ پیدا کر دیا تھا کہ مٹھی بھر انسا ن قریش کے لشکر سے ٹکراگئے اور چشم فلک نے دیکھ لیا کہ فتح ان بے سر و سامان اور بوریا نشینوں ہی کی ہوئی ۔ اس کے بعد خلافت راشدہ کے مبارک دور میں حاملین قرآن نے روم و مدائن کی پر شکوہ سلطنتوں کے دھوئیں اڑا دئے ، فتح مندی ، قرآن کریم کے ان عملی مفسرین کے قدم چومتی تھی اور شوکت و اقبال ان کے گھوڑوں کی رکابیں تھام کر چلتے تھے ، دنیا میں صداقت و امانت ان کے نام اور کام سے پہچانی جاتی تھی ۔ صحابہ کرام کی تمدن و معیشت کے کیسے کیسے نئے پیچیدہ مسائل سے سابقہ پڑا مگر کتاب و سنت کی رہنمائی میں انہوں نے ہر مسئلہ کا حل تلاش کر لیا اور جنگ کے میدانوں ہی میں نہیں تمدن و تہذیب اور سیاست و معشیت کے محاذوں پر بھی غالب و فتح مند رہے ۔ 
نظم قرآن کامحور یہ ہے کہ اس کتاب بے مثل میں باربار اور جگہ جگہ اللہ کی ربوبیت اور شا ن خلاقیت کا ذکر ہے ۔ قرآن با ربار آخرت کے محاسبہ کی یا ددلاتا ہے وہ ان لوگوں کا بھی ذکر کرتا ہے جن پر اللہ کا انعا م ہوا ہے اور ان کے بھی جن پر اللہ کا غضب نازل ہو ا ۔ کسی فرد یا قوم کا ذکر ہو ۔ آثار و مشاہدات کی تفصیل ہو ،معاشرے کے لئے کسی قانون و حکم کی تنفیذ کا اعلان ہو ، ہر موقع پر قرآن کریم ذہن انسانی کو یا دلاتاہے اور چونکاتا رہتا ہے کہ اللہ تعالی اس کا خالق اور ربّ ہے اور انسان کودنیا میں وہ زندگی گزارنی چاہئے جواللہ تعالی کو پسند ہے اور اس دنیوی زندگی کے اعمال کی بناء پر آخرت میں سزا و جزا ملیگی ، قرآن کریم کا ہر مضمون اسی دعوت کے ارد گرد گردش کرتا ہے اسی کی جگہ جگہ تکرار کی گئی ہے اور یہی تذکیر اس دعوت کا مرکزی نقطہ ہے ۔
(ماہنامہ دارالسلام ، مالیر کوٹلہ ، جلد۔ ۱۶، شمارہ ۔۳) 
14؍ نومبر 2017
ادارہ فکروخبر

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES