dushwari

اسلامى تهذيب

جناب ظفر آغا

آخر وہ کیا شئی تھی جس نے اسلامی تہذیب کو ساتویں صدی سے تقریبا اٹھارویں صدی تک دنیا کی اولین تہذیب بنائے رکھا تھا؟آخر وہ کونسی خوبی تھی کہ جس نے دنیا کی ہر تہذیب کی چمک دمک کو ختم کردیا تھا؟ خواہ وہ مصر کی قدیم تہذیب ہو یا ایران کازرتشی نظریہ، چاہے وہ روم کی کلیسائی تہذیب ہو یا ہندوستان کی چین کی ہندو اور بدھ تہذیب۔ساتویں صدی میں جہاں جہاں بھی مسلمانوں نے قدم رکھا، ہر تہذیب اسلامی تہذیب کے آگے سر بسجود نظر آئی۔لیکن سوال یہ ہے کہ اسلامی تہذیب کا وہ کونسا عنصر تھا کہ جس نے یورپ ، ایشیاء اورافریقہ ہر جگہ اسلامی تہذیب کا بول بالا کردیا تھا۔یہ سمجھنے کے لئے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ حضرت محمد عربی ﷺ کے دور میں دنیا کا کیا عالم تھا۔

دراصل انسان ابتدائے آفرینش سے ایک ایسے معاشرے اور نظام کی تلاش میں رہا کہ جس میں عدل و انصاف کا راج ہوا ، اور جہاں ہر فرد دوسرے فرد کے برابر ہو۔وہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش کرتا رہا ہے جس میں ہر رنگ و نسل اور ہر صنف و عمر کے لوگ اپنی زندگی پر پورا اختیار رکھتے ہوں اور ان کو سماجی، معاشی اور مذہبی آزادی حاصل ہو یعنی انسان کی ابتداء سے یہ کوشش رہی کہ وہ سماجی انصاف کے ماحول میں رہ کر ایک خود مختار زندگی گذارے تاکہ اس کو نشو ونما کے پورے مواقع حاصل ہوسکیں، لیکن انسان کا یہ المیہ ہمیشہ رہا کہ اس کو سماجی انصاف کا ماحول ملنا تقریبا ہر دور میں ناممکن رہا۔انسان کی یہ فطرت رہی ہے کہ ایک چھوٹا سا گروہ کسی نہ کسی شکل میں اقتدار پر قابض ہو کر ایک بڑی آبادی کو اپنا تابع بنالیتا ہے اور ا سکو کسی نہ کسی شکل میں اپنا غلام بنا کر سماجی انصاف اور خود مختار ی سے محروم کردیتا ہے ۔ایک چھوٹے سے گروہ کا کسی بڑے گروہ پر غلبہ کبھی رنگ و نسل کے نام پر تو کبھی قبیلوں کی شکل میں تو کبھی ایک صنف کے دوسرے صنف پر غلبہ کے طور پر اور کبھی ایک تہذیب کی دوسری تہذیب پر فوقیت کی شکل میں دنیا میں ظاہر ہوتا رہا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسانی آبادی کی کثیر تعداد سماجی انصاف اور خود مختاری سے محروم رہی۔
حضرت محمد عربی ﷺ نے جس وقت عرب کے ریگزاروں میں لا الہ الا اللہ کا نعرہ بلند کیا تو اس وقت انسانیت ساری دنیا میں سماجی عدل و انصاف سے محروم تھی، ساتھ ہی انسان کو کسی قسم کی آزادی بھی نہیں حاصل تھی، کہیں بادشاہت کے نام پر تو کہیں قبیلوں کی شکل میں تو کہیں ذات پات کی شکل میں، انسان اس قدر اونچ نیچ کا شکار تھا کہ انسانیت کے لئے کسی قسم کے سماجی انصاف کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا تھا ۔ظاہر ہے کہ ساتویں صدی کا انسان کسی قسم کی سیاسی، سماجی اور معاشی آزادی کا تصور ہی نہیں کرسکتا تھا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس دور کا المیہ یہ بھی تھا کہ ساتویں صدی کے انسان کو مذہبی آزادی بھی حاصل نہیں تھی ۔کلیسا میں بیٹھا پادری اس مذہب کے ماننے والوں کے مذہبی معاملات پر اس قدر قدرت رکھتا تھا کہ ایک غریب مسیحی چرچ میں بغیر راہب کی اجازت کے داخل نہیں ہوسکتا تھا ۔ہم ہندو سماج سے اچھی طرح واقف ہیں، اس سماج میں برہمن کو مذہبی معاملات پر جو اجارہ داری حاصل تھی وہ آج تک برقرار ہے۔ان حالات کے پیش نظر اس دور کا تصور کیا جاسکتا ہے۔مساوات کی علمبردار بدھ تہذیب بھی ساتویں صدی تک اونچ نیچ کا شکار ہوگئی تھی او راس پر بدھ راہبوں کا تسلط ہوگیا تھا۔
انسانیت کے اس پس منظر میں حضرت محمد عربی ﷺ نے جب لا الہ الا اللہ کا نعرہ بلند اور ایک ایسا نظام پیش کیا کہ جس میں لا الہ الا اللہ قبول کرنے والا ہر مسلمان دوسرے مسلمان کے برابر تھا، یہ وہ پیغام تھا کہ جس میں کسی کو رنگ و نسل اور قبیلے کی بنیاد پر کوئی فوقیت حاصل نہیں تھی۔رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کی مختصرسی آبادی میں سماجی انصاف قائم کیا کہ حضرت بلال حبشی کو وہی مقام حاصل ہوا، جو عرب معاشرہ میں کبھی صرف قریش جیسے غیور قبیلہ کے افراد کو حاصل تھا ۔لسانی امتیاز اس طرح ختم ہوا کہ فارسی کو عجمی کہنے والے عربوں کو حضرت سلمان فارسی کے ساتھ ایک صف میں نماز ادا کرنی پڑی۔مسلم عورتوں کو اپنے اختیار سے نہ صرف شادی کرنے کا حق ملا بلکہ ان کو خلع کی شکل میں علیحدگی اختیار کرنے کی بھی اجازت دی گئی ۔مذہبی معاملات میں رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو وہ آزادی عطا کی کہ جس کا تصور ساتویں صدی میں کوئی کرہی نہیں سکتا تھا۔ایک لا الہ الا اللہکا اقرار کرلینے والا مسلمان یہ تصور کرتا تھا کہ ہم اپنے رب کے حضور جوابدہ ہیں اور اللہ کے گھر (مسجد )میں محمود ایاز برابر تھے یعنی رسول کریم ﷺ نے ساتویں صدی میں جس اسلامی تہذیب کی بنیاد رکھی اس میں اس قدر سماجی انصاف اور انسانی آزادی حاصل تھی، جس نے مسلمانوں کو اس قدر بااختیار بنادیا کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔رسول اللہ ﷺ نے انسانیت کو جو سماجی عدل و انصاف عطا کیا، اس نے کبھی اپنا کمال اسپین میں دکھایا تو کبھی قسطنطنیہ میں، کبھی تہران میں اصفہان میں ، کبھی ہند اور چین میں تو کبھی مراقش وقاہرہ میں دکھایا اور دیکھتے دیکھتے دنیا کی تقریباً ہر تہذیب، اسلامی تہذیب کے آگے سرنگوں ہوگئی۔
اور اب اٹھا رویں صدی سے اکیسویں صدی تک اسلامی تہذیب کی بر تری کے خاتمہ کی وجوہات، مسلمانوں کے لئے لمحہ فکر یہ ہیں۔پہلے ایک ایک کرکے مسلم سلطنتیں محروم ہوگئیں اور یہ نوبت آگئی کہ دور حاضر میں کبھی فلسطین گیا تو کبھی عراق اور افغانستان ہاتھ سے نکل گئے ،آج دنیا کی مسلم ، کم و بیش محکومی کی زندگی گذاررہا ہے ، اب تو دنیا بھر کے مسلمانوں پر امریکہ کا اثر و غلبہ ہے ۔بات صرف اتنی ہے کہ جب مسلمان صرف اللہ کا بندہ تھا تو اسے کسی اور کا خوف نہیں تھا، خلافت راشدہ کے دور تک یہی عالم رہا لیکن آہستہ آہستہ جب خلافت ملوکیت میں تبدیل ہوئی تو وہ مسلمان جو کبھی صرف اللہ کی ملکیت کا تصور رکھتا تھا ،اب اس نے اپنا مالک و حاکم بادشاہوں کو قرار دے لیا تھا ، یہاں تک کہ بادشاہ ظل الہی کہلانے لگے اور یہیں سے اسلامی تہذیب و معاشرہ میں بگاڑ پیدا ہونا شروع ہوگیا اور زمیندار انہ نظام کو غلبہ حاصل ہونا شروع ہوگیا، ہوتے ہوئے اٹھارویں اور انیسویں صدی تک اسلامی معاشرہ میں مسلمانوں کی آزادی تقریباً ختم ہوچکی تھی، وہ مسجد میں ایک صف میں کھڑا تو ہوسکتا ہے لیکن اب اس کے مذہبی معاملات پہلے جیسے نہیں رہے یعنی اسلامی تہذیب میں وہ سماجی عدل و انصاف ختم ہوچکا تھا جو رسول اللہ ﷺ نے قائم کیا تھا، اب ایسی صورت میں اسلامی تہذیب زوال پذیر نہ ہوتی تو اور کیا ہوتا۔
(روزنامہ سیاست بنگلور ۔شمارہ۔۷ ؍اگست ۲۰۰۵ ؁ء)

(مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ) 
14؍ نومبر 2017
ادارہ فکروخبر

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES