dushwari

ٹیپوسلطان،جس نے ہندوستان کوصنعتی ترقی کی راہ دکھائی

تحریر: غوث سیوانی، نئی دہلی

دل سے نکلے گی نہ مرکر بھی وطن کی الفت

میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی

ان دنوں ٹیپو سلطان کو بدنام کرنے کی کوششیں جاری ہیں مگرتاریخ میں اس کی شناخت ایک اچھے حکمراں اور قابل مدبر کی ہے کیونکہ اس نے صدیوں پہلے Make In Indiaکا سپنا دیکھا تھا اور اس جانب قدم بھی بڑھایا تھا مگر اسی کے ساتھ وہ ایک عظم دیش بھکت بھی تھا۔ اس نے اپنے عمل وکردار سے حب الوطنی کا مفہوم سمجھایا اور وطن کے لئے جینے اور مرنے کا درس دیا۔ ٹیپو نے اپنی زندگی، دیش کی تعمیر میں گزاری اور ملک کی آزاد ی کو بچانے کے لئے اپنی جان قربان کردی۔اس نے ہندوستانیوں کو صحیح معنوں میں قوم پرستی اور نیشنل ازم کا مطلب بتایا اور اپنی ریاست کو نیشن اسٹیٹ بنانے کی کوشش کی۔

قوم پرستی کا جو تصور ٹیپو نے پیش کیا تھا وہ اس سے پہلے کسی حکمراں نے نہیں پیش کیا تھا اور یہ وہ ہتھیار تھا ،جس سے انگریزوں کو ٹیپو کے میزائل سے زیادہ خوف آتا تھا۔ انھیں معلوم تھا کہ ٹیپو کے میزائلوں ، ٹینکوں اور تلواروں کا مقابلہ جدید اسلحوں سے کیا جاسکتا ہے مگر نیشنل ازم کا مقابلہ کسی ہتھیار سے نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ٹیپو سلطان کے ذریعہ پیدا کیا گیا قوم پرستی کا جذبہ تھا کہ جس نے بعد کے دور میں ہندوستان کی آزادی کا سامان کیا اور عدم تشدد کے ساتھ ملک کے کروڑوں لوگ آزادی کی تحریک میں شامل ہوئے۔
نیشنل ازم اور ٹیپو
شیر میسورسلطان ٹیپو کو ایک ایسے وقت میں حکومت ملی جب مکار اور فریبی انگریز، مرشدآباد کے نواب سراج الدولہ کو سازشوں اور مذموم ہتھکنڈوں سے شکست دینے کے بعد پورے ملک پر قبضہ کی کوشش میں تھے۔ وہ ہندوستانی حکومتوں کو ختم کرنے پر کمر بستہ تھے۔ جو حکمراں آسانی کے ساتھ ان کی دسترس میں نہیں آرہے تھے، انھیں لڑائیوں سے زیر کیا جارہا تھا اور اس کے لئے سازشوں کو ہتھیار کے طور پر اپنایا جارہا تھا۔ سلطان ٹیپو انتہائی ذی فہم اور دور اندیش حکمران تھا۔ اس نے ابتدا میں ہی محسوس کر لیا تھا کہ اگر غاصب اور قابض انگریز کو بروقت نہیں روکا گیاتو ملک برباد ہوجائے گا۔ٹیپو نے اسلحوں سے یقیناًجنگ لڑی مگر یہ جنگ تب تک کامیاب نہیں ہوسکتی تھی، جب تک کہ اس میں حب الوطنی اور نیشنل ازم کا جذبہ شامل نہ ہو۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بھارت میں سینکڑوں رجواڑے قائم ہوچکے تھے اور ملک کا اتحاد پارہ پارہ ہوچکا تھا ۔ ایسے میں ٹیپو نے محسوس کرلیا تھا کہ اسے دوبارہ متحد کرنے کے لئے نیشنل ازم کی ضرورت ہے۔ اسی مقصد سے اس نے فرانس سے قریبی تعلقات بڑھائے۔ ٹیپو کے عہد میںیوروپ قوم پرستی کے راستے پل چل پڑا تھا اور اس کے بہت سے مثبت اثرات سامنے آچکے تھے لہٰذا ٹیپو نے بھی اس کا سہارا لیا مگر اس کے اپنوں نے ہی اس کے ساتھ دھوکہ کیا۔گیان پیٹھ ایوارڈ یافتہ معروف قلمکار اور اداکار گریش کرناڈ نے ٹیپو کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں ٹیپو سلطان کو دیش بھکت سمجھتا ہوں، بلکہ میں ان کے لئے ’’دیش بھکت‘‘ لفظ بھی استعمال نہیں کروں گا۔ میرے مطابق وہ ایک عظیم حکمران تھے۔ عظیم مفکر تھے۔ عظیم حکمت عملی ساز تھے اور انہوں نے کرناٹک کے لئے بہت کچھ کیا۔ میں ان کی تعریف کرتا ہوں۔ میرے مطابق وہ وجے نگر کے شکست کے بعد گزشتہ 500 سالوں کے سب سے عظیم حکمراں ہیں ۔جو کچھ انہوں نے کرناٹک کے لئے کیا وہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ 
سلطان ٹیپو ایک اچھا مسلمان تھا مگر وہ تنگ نظر نہیں تھا لہٰذا اس کے لئے نیشنل ازم ،اسلام پسندی کے خلاف نہیں تھا۔سلطان نے دنیا کو باور کرایا کہ ایک مسلمان پکا مسلمان ہو کر ہی بہترین محب وطن ہو سکتا ہے۔ اس نے زمانے کو احساس کرایا کہ اسلام اور حب الوطنی ایک ہی سینے میں سمائیں تو بہتر نتائج نکلتے ہیں۔وہ اپنی ریاست کو صحیح معنوں میں ایک نیشن اسٹیٹ بنانا چاہتا تھا اور اس کے لئے اس نے جدوجہد بھی کی ۔ اگر اسے حالات نے اجازت دیا ہوتا تو وہ میسور کو یوروپ کے ہم پلہ کرکے دکھاتا۔ وہ اس خطے کا اولین مجاہد آزادی اور قوم پرست تھا ، جس نے آزادی کی پہلی شمع جلائی اورملک کو انگریزوں کے ہاتھوں میں جانے سے روکنے کی جی توڑ کوشش کی۔
ہم خون کی قسطیں تو کئی دے چکے لیکن
اے خاک وطن قرض ادا کیوں نہیں ہوتا
ہندوستان، صنعت کی راہ پر
ٹیپو ایک ایسا حکمراں تھا جو اپنے وقت سے آگے کی سوچتا تھا اور جو باتیں ،بعض ممالک کی طرف سے آج سوچی جاتی ہیں، انھیں ٹیپو نے آج سے سو،دوسو سال قبل سوچ لیا تھا اور اسے پورا کرنے کی طرف قدم بھی بڑھا دیا تھا۔ اگر ٹیپو کے ساتھ زندگی نے وفا کیا ہوتا اور اسے جنگ وجدال کے بجائے صنعت وحرفت کی طرف توجہ دینے کا موقع ملتا تو آج بھارت صنعتی سپر پاور ہوتا اور جو دنیا پر چین چھایا ہوا ہے،وہ مقام بھارت کو حاصل ہوتا۔ چین نے بھی صنعتی سپرپاور بننے کا خواب حالیہ دور میں دیکھا ہے مگر ٹیپو نے تب دیکھ لیا تھا جب یوروپ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ اس میدان میں قابل ذکر کام کر رہا تھا۔ Make In Indiaکا نعرہ اگرچہ حالیہ دور میں دیا گیا ہے مگر اسے خواب کے طور پر ٹیپو نے دیکھا تھا اور اس جانب قدم بھی بڑھایا تھا۔ ٹیپو کی سلطنت خداداد ان معنوں میں ہندوستان کی منفرد ریاست تھی کہ یہاں صنعت کو آگے بڑھانے اور عوام کو روزگار سے جوڑنے کے لئے الگ قسم کی کامیاب کوششیں ہوئی تھیں۔اس کے لئے جو چیز سب سے پہلے ضروری ہوتی تھی، وہ تھی تعلیم، اور ٹیپو نے تعلیم میں اپنی ریاست کو آگے بڑھانے کے لئے باقاعدہ یونیور سٹی قائم کی تھا۔ اسے معلوم تھا کہ تعلیم کے بغیر صنعتی ترقی نہیں ہوسکتی۔ ہندوستان کے لوگ پشتہاپشت سے دستکاری وغیرہ سے واقف تھے مگر بدلتے دور میں اس کے لئے جدید ٹیکنالوجی سے واقفیت کی ضروررت تھی۔ برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت باقی یورورپ میں صنعتی ترقی کے لئے مشینوں کا چلن شروع ہوچکا تھا مگر ہندوستان میں خواندگی کی شرح کم ہونے کے سبب نئی ٹیکنالوجی کو کم رواج مل رہا تھا لہٰذا ٹیپو نے سرنگاپٹنم میں جامع الامور نام سے ایک ایسی یونیورسٹی قائم کی جو دینی علوم کے ساتھ ساتھ جدید علوم سے بھی طلبہ کو روشناس کراتی تھی۔ یہ برصغیر کی اولین یونیورسٹی تھی۔ ٹیپو کی انھیں کوششوں کا نتیجہ ہے کہ جنوبی ہند تعلیم کے معاملے میں شمالی ہند سے آگے ہے اور آج بنگلور کو سائنس وٹیکنالوجی میں آگے آنے کا موقع ملا ہے۔ ٹیپو سلطان کو مطالعے کا شوق تھا۔ وہ خود سات زبانیں جانتا تھا اور مطالعے کا بہت شوقین تھا۔اس کے ذاتی کتب خانے میں ہزاروں کتابیں تھیں۔ اسے سائنسی علوم میں بھی خاصی دلچسپی تھی۔
Make In Indiaکا سپنا 
آج یہ بات بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ ٹیپو سلطان نے میزائل سازی کے میدان میں مجددانہ کام کئے تھے مگر اسی کے ساتھ دیگر صنعتوں میں بھی اس کا کارنامہ کم اہم نہیں تھا۔ کئی قسم کے ہتھیار ریاست میسور میں بنائے جاتے تھے۔ اس نے خود ہی بحری بیڑے کا نقشہ تیار کیا تھا اور ریاست کے ماہرین نے اسے تکمیل تک پہنچایا تھا۔’’سودیسی ‘‘اور Make In Inidaکی بات آج کے دور میں فیشن کے طور پر کی جاتی ہے مگر ٹیپو نے اسے حقیقت میں اپنایا تھا۔ اس نے اعلان کر رکھا تھا کہ ملک میں کوئی بھی چیز باہر سے نہ آئے بلکہ سبھی اشیاء یہیں تیار کی جائیں۔ اس کا یہ اثر تھا کہ نمک سے لے کر میزائل تک یہیں تیار کئے جانے لگے۔ لوہا، پیتل، تانبا اور دیگر دھاتوں کے سامان سے لیکر کپڑے، برتن، لکڑی کے سامان، ریشمی مصنوعات ، ہاتھی دانت وغیرہ کی اشیاء یہیں تیار کی جاتی تھیں۔ ان صنعتوں کے سبب میسور کی ریاست نہ صرف خود کفیل ہوگئی بلکہ اتنا سامان ہر سال تیار کرنے لگی کہ ریاست سے باہر بھیجا جانے لگا اور اس سے ریاست کی معاشی حالت بہتر ہونے لگی۔ یہ گویا معاشی انقلاب کی طرف انقلابی قدم تھا۔ بقول محمود بنگلوری :
’’مٹی کے مصنوعات ، لکڑی کاکام ،چرم سازی، تیل اور تیل کی دیگر مصنوعات، صندل ، رسّی،قالین ،ہاتھی دانت کاکام، نمک بنانا ، کاغذ پر سونے کارنگ چڑھانا اور لطیف ریشم، روئی کی مصنوعات ، لوہے کی مصنوعات ، سلطان ٹیپو کے کمالات کی فہرست کے طورپر پیش کئے جاسکتے ہیں۔‘‘
سلطنت میسور خود کفیل تھی
ٹیپو سلطان نے اس بات کو محسوس کرلیاتھا کہ یوروپ کے علمی اور صنعتی انقلاب کی بدولت ہی انگریز دنیا پر چھاتے جارہے ہیں۔ان کے پاس جدیدترین اسلحے اورجنگی ساز وسامان موجود ہیں۔ جن کا مقابلہ کرنا دنیا کے لئے مشکل ہورہا ہے۔ فرسودہ آلات اور صرف زرعی پیداوار کے ذریعے ان کا مقابلہ نہ تو جنگی میدان میں کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی صنعتی میدان میں۔ ظاہر ہے کہ اس کے لئے سائنس اور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔یہی سبب ہے کہ ٹیپو نے جہاں ایک طرف اپنی ریاست کو تعلیم کے میدان میں آگے بڑھانے کی کوشش کی ، سائنس اور ٹیکنالوجی میں آگے کیا وہیں صنعت وحرفت میں بھی خودکفیل بنانے کی طرف اقدام کئے۔یہ جانکاری بہتوں کے لئے حیرت انگیز ہوسکتی ہے کہ آج بھی بھارت دنیا کے دوسرے ملکوں سے جنگی سازوسامان خریدتا ہے مگر سلطان نے 1799میں ایک سو جنگی جہازوں کی تیاری کا حکم دیاتھا اور یہ تمام جہاز اپنے تمام کل پروزوں کے ساتھ ریاست کے اندر ہی تیار کئے جاتے تھے۔ 
ٹیپو کی سلک انڈسٹری
بنارس کے ریشمی کپڑوں کے بغیر ہندوستان میں کوئی شادی تکمیل کو نہیں پہنچتی مگر ان کپڑوں کے لئے ریشم کہاں سے آتا ہے؟ کیا آپ کو معلوم ہے؟ اگر نہیں جانتے تو سن لیجئے کہ یہ ریشم کرناٹک سے آتا ہے۔ بہار کا بھاگلپور بھی ریشم کی صنعت کے لئے جانا جاتا ہے مگر یہاں بھی را میٹریل کرناٹک سے ہی آتا ہے۔ بھارت میں ریشم کی جتنی پیداوار ہوتی ہے اس کاستر فیصد حصہ کرناٹک سے آتا ہے اور بہتوں کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ کرناٹک میں ریشمی صنعت کی بنیاد ٹیپو سلطان کے عہد میں پڑی تھی۔یہاں ریشم کی کھیتی اور صنعت کو شروع کرانے اور ترقی دینے کا سہرا ٹیپو سلطان کے سر جاتا ہے۔حالانکہ ٹیپو نے صرف ریشم نہیں بلکہ سوتی، چندن، ہاتھی دانت اور لکڑی وغیرہ کی صنعت کو بھی بڑھاوادیا تھا اور میسور ایک اہم تجارتی مرکزبن گیا تھا۔ ٹیپو سلطان نے کئی قسم کی زرعی اصلاحات کیں اور سلک انڈسٹری کو نئے رنگ وروپ دینے کا کام کیا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ بھارت میں سب سے زیادہ سلک کی پیداوار آج بھی کرناٹک میں ہوتی ہے۔جنوبی ہند کی ریشمی ساڑیوں کو خاصی شہرت حاصل ہے اور پچھلی بار جب امریکہ کے سابق صدر ابامہ اور ان کی بیوی مشیل بھارت آئے تو انھوں نے کرناٹک کے ریشمی کپڑے لے جانے میں دلچسپی دکھائی۔ظاہر ہے کہ کرناٹک کی سلک انڈسٹری نے ہندوستان کی ریشمی صنعت کو بہت سہارا دیا ہے اور اس کی بدولت بھارت کو کثیرزرمبادلہ حاصل ہوتا ہے اور یہ سب ٹیپوسلطان کی کوششوں کانتیجہ ہے جو اس نے سوادوسو سال قبل اپنی ریاست میں کی تھی۔یہاں تک کہ مدھیہ پردیش کے ہوشنگ آباد اور برہان پور علاقے میں ریشم کی کھیتی ٹیپو کے دور میں ہی آگے بڑھی اور یہاں کے کسانوں کو روزگار ملا۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

(مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ) 
14؍ نومبر 2017
ادارہ فکروخبر 

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES