dushwari

حق ( اسلام )

محمد اسد

اسلام میرے سامنے مذہب کے ایک رواجی اور اصطلاحی مفہوم سے زیادہ ، زندگی کا ایک نظام بن کر آیا ، وہ مجھے لاہوتی نظام سے زیادہ شخصی اور اجتماعی ، سلوک کا ایک پروگرام اور لائحہ عمل ، معلوم ہوا ، جس کی بنیاد خدا کی یاد پر تھی ۔ میں نے قرآن میں کسی جگہ چھٹکارے کا تصور نہیں دیکھا ، وہاں کوئی پہلا مؤرثی گناہ بھی نہیں تھا جو انسان اور اس کی تقدیر کے درمیان حائل ہوگیا ہو ، وہاں تو تھا لیس للانسان الاماسعی یعنی انسان جیسی کوشش کرے گا ویسا ہی پھل پائے گا۔ وہ کسی رہبانیت اور فطرت کشی کا بھی طالب نہ تھا جس کے ذریعہ طہارت اور تقدس کا کوئی خفیہ دروازہ کھل جاتا ہے ،اس لئے کہ قرآن کے نزدیک طہارت اور پاکیزگی ہر انسان کا پیدائشی حق ہے اور گناہ صرف انسان کی ایجابی فطرت کی ایک لغزش ہے ،

وہاں فطرت انسانی کی کوئی تقسیم نہیں ملتی اس لئے کہ اس کے نزدیک روح اورجسم مل کر ایک صحیح اور مکمل یونٹ بناتے ہیں۔ ابتداء میں ، میں یہ دیکھ کر بہت پریشان ہوا کہ قرآن زندگی کے بعض بظاہرحقیر شعبوں کا ذکر بھی اہتمام کے ساتھ کرتا ہے لیکن بعد میں یہ بات میری سمجھ میں آگئی ، ظاہر ہے کہ اگر انسان روح اور جسم کا مجموعہ ہے تو پھر اس کی زندگی کے کسی شعبے اور پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور نہ اس کو دین کے دائرہ عمل سے خارج کیا جاسکتا ہے ۔ میں نے یہ بھی دیکھا کہ قرآن ایک لمحے کے لئے بھی یہ فراموش کرنے کے لئے تیار نہیں ہے کہ دنیا بہرحال انسان کی ترقی کے سفر کا اک مرحلہ ہے ، اس سفر کی آخری منزل روحانی ترقی ہے ، مادی خوشحالی قرآن کے نزدیک مستحسن اور مستحب ہے ، مگر بذات خود مقصود نہیں اس لئے انسان کی نفسانی خواہشات کو ان کی اہمیت و ضرورت کے باوجود اخلاقی حس کے مقابلے میں دبا جاتا ہے ۔ اسلام کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ یہ اخلاقی حس ، صرف خدا اور بندے کے مابین ہی محدود نہیں رہنی چاہئیے بلکہ اس کا دائرہ انسانوں کے باہمی تعلقات تک وسیع ہونا چاہئیے ۔ 
میں ملک شام سے یورپ روانہ ہوا، یورپ کے مناظر اب مجھے اجنبی لگ رہے تھے ، اب مجھے یہاں کے لوگ بہت مکروہ اور حقیر دکھائی دیتے تھے ۔ ان کی حرکات بہت بھدی اور پھوہڑ نظر آتی تھیں ، جن میں ارادہ اور شعور کا کوئی دخل نہ تھا ، اگرچہ وہ اس امر کی نمائش کرتے تھے کہ وہ ہر کام پورے شعور کے ساتھ کرتے ہیں، مگر درحقیقت وہ کسی قسم کے مقصد اور نصب العین کے بغیر برابر اندھے راستوں پر چلے جارہے تھے ۔ اس مرتبہ میں نے پہلی بار عیسائیت کا مطالعہ کیا اور اسے سمجھنے کی کوشش کی مگر اس اعتبار سے بہت جلد مایوسی کا سامنا کرنا پڑا کہ عیسائیت جسم و روح اور عقیدہ و عمل کے درمیان افسوس ناک تفریق کی حامل ہے ۔ اور گوناگوں مسائل سے لبریز ، اس زمانے کے انسانوں کی رہنمائی کرنے سے یکسر قاصر ہے ۔ میں فرانکفرٹ سے دوبارہ مصر گیا ، یہاں پہنچا ہی تھا کہ رمضان کا چاند طلوع ہوا اور مسلسل ایک ماہ تک سارا ماحول خاص قسم کی پاکیزگی اور تقدس میں ڈوبا رہا ، نماز کے بعد روزوں کی حکمت پر جتنا غور کرتا ، اتنا ہی خاص قسم کی عظمت کا قائل ہوتا گیا ۔ اس ضمن میں الازھر کے نوجوان اور متبحر عالم دین شیخ مصطفی المراغی سے بھی تفصیلی گفتگو ہوئی ، انہوں نے بڑی صاف بیانی سے بتایا کہ موجودہ مسلمانوں نے اعلیٰ اسلامی تعلیمات اور اصولوں سے رو گردانی کرلی ہے اور اس سے بڑی غلطی کوئی نہ ہوگی کہ محمد ﷺ کے پیغام کی قوتوں اور وسیع امکانات کو موجودہ مسلمانوں کی زندگی اور طرز فکر کے پیمانے سے جانچا جائے ، بالکل اسی طرح جس طرح یہ غلطی ہوگی کہ ہم عیسائیوں کے کاموں کو دیکھ کر حضرت مسیح علیہ السلام کے پیغام محبت کو قصور وار قرار دینے لگیں ۔ قرآن کا جتنا کچھ میں نے مطالعہ کیا تھا ، عربوں کی معاشرتی زندگی کا جو مجھے مشاہدہ ہوا تھا ، اب شیخ المراغی سے جوکھل کر گفتگو ہوئی تھی ، اس نے مجھے اس نتیجہ پر پہونچایا کہ اہل یورپ کے دماغ میں اسلام کی جو تصویر ہے وہ بالکل مسخ شدہ اور بگڑی ہوئی ہے ۔ میں اس امر پر بالکل مطمئن ہوچکا تھا کہ اسلام میں بحیثیت دین اور ضابطہ حیات کوئی نقص نہیں اور مسلمانوں کا زوال اسلام کی خامی کی بنا ء پر نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات پر ان کے عمل پیرانہ ہونے کی وجہ سے ہوا ہے ۔
اسی زمانے میں، میں نے شادی کرلی ، میری اہلیہ نے میرے خیالات سے اتفاق کیا ، ہم میاں بیوی پہروں قرآن کا ترجمہ پڑھتے اور اس کی تعلیمات پر بحث کرتے تھے ، اسی بحث وتمحیص میں میرے سامنے اسلام کی ایک ایسی مکمل تصویر آگئی جو مجھے حیرت زدہ اور مدہوش کئے رکھتی تھی ۔ روح اور مادہ کی یکساں اہمیت ، عقل کی کارفرمائی ، پیغمبر اسلام ؐ کی بھرپور روحانی و معاشرتی اور سیاسی زندگی اور اسلام کا بین الاقوامی مزاج ، اسلام کے لئے میرا استغراق بڑھتا گیا ۔ ایک دن گھر سے واپس آیا اور نگاہ میز پر گئی تو اس پر قرآن کا وہ نسخہ رکھا تھا جو اکثر میرے مطالعہ میں رہتا تھا ، میں اس کو الماری میں رکھنا ہی چاہتا تھا کہ میری نگاہ کھلے ہوئے صفحہ پر پڑگئی ، اس پر یہ آیات تھیں الھٰکم التکاثر تم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اور ایک دوسرے سے بڑھ کر دنیا حاصل کرنے کی دھن نے غفلت میں ڈال رکھاہے ، یہاں تک کہ (اسی فکر میں) تم لب گور پہنچ جاتے ہو ، ہرگز نہیں ، عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا ، پھر سن لو کہ ہرگز نہیں ، اگر تم یقینی علم کی حیثیت سے (اس روش کے انجام کو) جانتے ہو (تو تمہارا یہ طرز عمل نہ ہوتا) تم دوزخ دیکھ کر رہو گے پھر (سن لو کہ) تم بالکل یقین کے ساتھ اسے دیکھ لو گے پھر ضرور اس روز تم سے ان نعمتوں کے بارے میں جواب طلبی کی جائے گی (سورۂ تکاثر) ہمیں ہمارے سوال کا جواب ہی نہیں مل گیا تھا بلکہ متعلقہ شکوک و شبہات بھی ختم ہوگئے تھے ۔ ہم نے سوچا یہ کتاب خدا ہی کی نازل کردہ ہے ، یہ تیرہ سو سال پہلے محمد ﷺ پر اتری تھی ۔ اب مجھے یقین ہوگیا کہ قرآن کسی انسان کی حکمت و دانائی کا نتیجہ نہیں ، انسان لاکھ سمجھدار حکیم و دانا سہی مگر وہ اس عذاب کی پیشن گوئی نہیں کرسکتا تھا جو بیسویں صدی کے لئے خاص ہے ۔ دوسرے ہی روز میں برلن میں مسلمانوں کی انجمن کے صدر کے پاس گیا اور قبول اسلام کی خواہش ظاہر کی ، انہوں نے مجھے کلمہ شہادت پڑھایا اور میرا نام محمد اسد رکھا چند ہفتے بعد میری اہلیہ نے بھی اسلام قبول کرلیا۔ 
( اے روڈ ٹومکہ 
بحوالہ ماہنامہ دارالسلام 
مالیر کوٹلہ جلد۔ ۱۱ شمارہ۔ ۸)

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES