dushwari

یومِ اطفال اور ہم

سیدہ تبسم منظور ناڈکر 

14 نومبر ہندوستان بھر میں یوم اطفال کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کا یوم پیدائش ہے۔پنڈت جواہر لال نہرو کو بچوں سے بے پناہ پیار تھا۔ اس لیے ان کے یومِ پیدایش کو بچوں کے دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا۔ 1964ء میں جب جواہر لال نہرو انتقال کرگئے، اسی سال سے یہ تقریب شروع ہوئی۔ بچے انہیں پیار سے چاچا نہرو کہتے تھے۔یوم اطفال عالمی سطح پر دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف تاریخوں کو منایا جاتا ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد بچوں کی عزت افزائی اور ان کے حقوق کی پاسداری ہے۔ 1954ء میں عالمی سطح پر اس دن کو منانے کے لیے ایک تاریخ مقرر کی گئی۔

بچے من کے سچے ہوتے ہیں اور یہ بات بالکل سچ ہے۔ بچوں کے من بہت ہی کومل ہوتے ہیں۔ ان کے دل شبنم کی ان بوندوں کی طرح ہوتے ہیں جو بالکل صاف و شفاف ہوتی ہیں۔ ان میں ذات پات، رنگ و نسل کا کوئی بھید بھاو? نہیں ہوتا۔یہ بچے ہی ہیں جو پل میں لڑ پڑتے ہیں اور پل میں ہی مل جاتے ہیں۔ کسی بھی بچے کے دل میں کینہ کپٹ نہیں ہوتا۔یہ بہت ہی معصوم ہوتے ہیں۔
یومِ اطفال منانے کا مقصد بچوں میں تعلیم، صحت، تفریح اور ذہنی تربیت کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے تاکہ دنیا بھر کے بچے مستقبل میں معاشرے کے بہترین شہری بن سکیں۔ بہت سے اسکولوں میں بچوں کو ان کے حقوق سے آگاہ کرانے کے لیے خصوصی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ اساتذہ اپنے طلبا میں تحریک پیدا کرتے ہیں کہ وہ سوچیں کس طرح وہ بچے خود کو تعلیمی و سماجی لحاظ سے بہتر بنا سکتے ہیں۔ اس دن تقریریں کی جاتی ہے، مختلف قسم کے مقابلوں کا اہتمام کیا جاتا ہے اور بچوں میں انعامات تقسیم کیے جاتے ہیں۔ ثقافتی پروگرام کیے جاتے ہیں۔بچوں کی بہتری اور فلاح و بہبود کے عنوانات پر غوروفکر کیا جاتا ہے۔ بچوں کی تعلیم و تربیت اور ایسے ہی عنوانات پر تقریریں ہوتی ہیں۔سچ ہے کہ بچے ہماری قوم کا سرمایہ ہیں، بچے ہمارے دیش کا مستقبل ہیں اس لیے ان کی فلاح کے کام کرنا چاہئے۔ 
ہر بچے میں قدرتی طور پر کوئی نہ کوئی صلاحیت، قابلیت ضرور ہوتی ہے۔کوئی بچہ قدرتی طور پر بہت ہی ذہین اور سمجھدار ہوتا ہے، کوئی بچہ دماغی طور پر کمزور ہو تا ہے تو کوئی بچہ بہت ضدی ہوتا ہے۔ضدی اور دماغی کمزور بچوں کو پیار سے سمجھایا جائے تو آہستہ آہستہ ان بچوں میں موجود خامیوں اور کمیوں پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اس طرح ان کے رویوں پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ دورِ حاضر کے بچے بڑی ہی سوجھ بوجھ کے مالک ہیں۔بعض اوقات ہم بڑے بھی ان کی عقل مندانہ سوچ پر حیران ہوتے ہیں۔
بچے پھولوں جیسے نازک ہوتے ہیں۔ ان پھولوں کے ساتھ محبت سے ہی پیش آنا چاہیے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم بچوں کے حقوق کی طرف توجہ دے رہے ہیں؟ بچوں کی فلاح و بہبودی کے لیے کس حد تک کام ہو رہا ہے؟ کیا گاؤں اور شہر کے اسکولوں میں بچوں کو ان کے حقوق مل رہے ہیں ؟ کیا دیہاتوں میں بچوں کی صحت کے لیے مرکز قائم ہیں ؟ راستوں پر گاڑی صاف کرنے والے بچوں کی ، کوڑا کرکٹ اٹھانے والے بچوں کی ، بھیک مانگنے والے بچوں کی پڑھائی کی ذمہ داری کوئی لیتا ہے ؟ ایسے بہت سارے بھوکے ننگے بدحال سسکتے بچے بھی ہمارے اطراف ہیں جن کو کبھی ہم دیکھتے بھی نہیں اور شاید دیکھتے بھی ہو تو نظریں گھما لیتے ہیں کہ یہ تو بھیک مانگنے والے ہیں اور یہ ان کا پیشہ ہے اس لیے ہم نظر انداز کر کے آگے نکل جاتے ہیں۔ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ کیا ہم ان کے لیے کچھ نہیں کرسکتے ؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب شاید ہی کوئی دے پائے۔
بچوں کے حوالے سے ایک اور اہم اور دردناک مسئلہ ہے جس سے متعلق ہر دن کوئی نہ کوئی بات ہمارے نظر وں کے سامنے آتی رہتی ہے۔کبھی اخبارات میں پڑھتے ہیں اورکبھی سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں اور وہ ہے کچرے دان میں نومولود بچوں کا ملنا۔ ہوس کے پجاری اپنی ہوس پوری کرنے کے بعد ایسے بچوں کو جنم دیتے ہیں اور انہیں کچرا سمجھ کر کچرے کے ڈبے میں پھینک دیا جاتا ہے۔ان میں سے بہت ہی کم بچے زندہ رہ پاتے ہیں کیونکہ کچرے دان میں جانوروں اور پرندوں کا حملہ بہت زیادہ ہوتا ہے جو اِن نومولود بچوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ کبھی کبھار کچھ بچے بچ جاتے ہیں جنہیں انسانیت کے خدمت گار لے تو جاتے ہیں اور کسی اناتھ آشرم میں رکھ دیتے ہیں۔ مگر افسوس اس پر کوئی تحقیقات نہیں ہوتی۔ کسی بھی بچہ پھینکنے والے کو ڈھونڈ کر اسے سزا نہیں دی جاتی۔
کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ بس ہم بچوں کے حقوق کی باتیں کرتے رہتے ہیں ،تقریریں کرتے رہتے ہیں پر اس کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش نہیں کرتے۔ بچوں کی فلاح و بہبود ایک ایسا عنوان ہے جس پر سخت گیر ہو کر اور ایک جٹ ہو کر کام کرنے کی بہت ضرورت ہے۔
(مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہوناضروری نہیں۔ )
13؍نومبر 2017
ادارہ فکروخبر 

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES