dushwari

تصوف اور ائمه و علماء

الشیخ سید یوسف سید ہاشم رفاعی

ترجمہ : شاہ قادری سید مصطفی رفاعی جیلانی

تصوف کے بارے میں ائمہ اربعہ اور صرف چند اکابر علماء (اور یہ سب صوفیا ء ہی تھے) کی شہادتیں نہایت اختصار کے ساتھ برکۃً یہاں پیش ہیں۔

امام نعمان بن ثابت ابو حنیفہؒ (متوفی ۱۵۰ھ)۔علامہ حصکفی صاحب درمختار نقل فرماتے ہیں کہ ابو علی دقاق ؒ نے فرمایا کہ میں نےتصوف حضرت شبلیؒ سے لیا او رانہو ں نے حضرت سری سقطیؒ سے اور انہوں نے حضرت معروف کرخیؒ سے او رانہوں نے حضرت داؤد طائی ؒ سے اور انہوں نے حضرت امام ابو حنیفہؒ سے اخذ کیا ۔ علامہ ابن عابدین درمختار کے حاشیہ رد مختارمیں حضرت امام ابوحنیفہؓ کے متعلق لکھتے ہیں کہ وہ اس میدان (تصوف) کے شہ سوار ہیں ۔انہو ں نے علم حقیقت کی بنیاد، علم ، عمل او رتزکیہ نفس پر رکھی اور عام سلف نے انہیں اس صفت کے ساتھ متصف کیا ہے۔علامہ عبدالقادر عیسی فرماتے ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہؒ اکابر اولیاء اللہ اور صالحین صوفیاء کو طریقت کا علم دیتے تھے۔

اما م مالک بن انس (متوفی۔۱۷۹ھ) حضرت امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص فقیہ بنے اور صوفی نہ بنے وہ فاسق ہوجائے گااور جو صوفی بنے اور فقیہ نہ بنے تو وہ بد دین ہوجائے گا اور جوان دونوں (تصوف وفقہ) کو جمع کرے وہ محقق ہوجائے گا(شرح عین العلم۔ ملاعلی قاریؒ اور مقدمہ ابن رشد) ۔علامہ شیخ زروق ؒ فرماتے ہیں کہ یہ بات یقینی طور پر ثابت ہے کہ امام مالک ؒ نہ صرف صوفیاء سے محبت کرتے تھے بلکہ وہ خود صوفی تھے۔
امام محمد بن ادریس شافعیؒ (متوفی۔۲۰۴ھ) حافظ عبدالرحمن بن ابوبکر سیوطی نے تائید الحقیقتہ العلیتہ میں لکھا ہے کہ حضرت امام شافعیؒ نے فرمایا کہ میں صوفیاء کی صحبت میں رہاتو ان سے مجھے دوباتوں کا فائدہ پہنچا ۔یہ بھی نقل ہے کہ ان سے میں نے تین فائدے حاصل کئے۔ایک تو صوفیاء کا یہ قول کہ وقت ، تلوار کی طرح ہے اگر تم اسے نہیں کاٹو گے تو وہ تمہیں کاٹ دے گا او ردوسرے ان کا قول کہ اگر تم اپنے نفس کو حق کے ساتھ مشغول نہیں رکھو گے تو وہ تمہیں باطل کے ساتھ مشغول کردیگا اور ان کا تیسرا قول کہ فقر، انسان کے لئے اس خوشحالی سے حفاظت ہے جو فضول خرچی او رگمراہی کا سبب بنے علامہ عجلونی نے کشف الخفاء میں ذکر کیا ہے کہ امام شافعیؒ نے فرمایا مجھے تمہاری دنیا کی تین چیزیں پسند ہیں۔ترک تکلف، مخلوق کے ساتھ لطف سے زندگی گذارنا اور اہل تصوف کے طریقہ کی پیروی کرنا۔
امام احمد بن حنبل ؒ (متوفی۲۴۱ھ) شیخ امین کردی حضرت امام احمد ؒ کے بارے میں اپنی کتاب تنویر القلوب میں لکھتے ہیں کہ وہ صوفیاء کی صحبت میں رہنے سے قبل اپنے لڑکے حضرت عبداللہ سے فرماتے تھے کہ اے بیٹے! تم حدیث کو اختیار کرو اور صوفیاء کی صحبت میں بیٹھنے سے پرہیز کرو ،اس لئے کہ ان میں سے بعض، اپنے دین کے احکام سے ناواقف ہوتے ہیں۔ پھر جب انہوں نے ابو حمزہ بغدادیؒ کی صحبت اختیار کی اور صوفیاء کے حالات سے واقفیت ہوئی تو اپنے لڑکے سے کہنے لگےکہ میرے بیٹے! تم ان کی مجالس میں بیٹھا کرو، اس لئے کہ یہ لوگ مراقبہ ، خشیت الہٰی ، زہد و استغناء اور بلند ہمتی میں ہم سے فوقیت رکھتے ہیں ۔ 
امام غزالیؒ (متوفی۵۰۵ھ) حضرت ابو حامد محمد بن محمد الغزالی ؒ اپنی کتاب المنقذمن الضلالمیں تحریر کرتے ہیں کہ صوفیائے کرام ہی خاص طور پر اللہ تعالی کے طریقہ پر چلنے والے ہیں او رانکی سیرت، بہترین سیرت ہے اور ان کا طریقہ سب سے زیادہ صحیح اور درست طریقہ ہے اور ان کے اخلاق سب سے پاکیزہ ہیں۔
امام فخر الدین رازیؒ (متوفی ۔۶۰۶ھ) امام فخر الدین رازیؒ اپنی کتاب اعتقادات فرق المسلمین میں تحریر کرتے ہیں کہ صوفیا وہ لوگ ہیں جو فکر کے ساتھ مشغول رہتے ہیں اور نفس کو جسمانی علائق سے پاک رکھتے ہیں او رکوشش کرتے ہیں کہ ان کا باطن اور دل اللہ تعالی کے ذکر سے خالی نہ ہو اور اپنے تمام معمولات میں اللہ تعالی کے ساتھ کمال آداب کو ملحوظ رکھتے ہیں اوریہ لوگ تمام فرقوں میں سب سے بہتر ہیں۔
امام محی الدین یحییٰ بن شرف نوویؒ (متوفی۔۶۷۶ھ) امام نوویؒ اپنے رسالہ المقاصدمیں تحریر فرماتے ہیں کہ تصوف کے اصول، پانچ ہیں۔
۱۔خلوت و جلوت میں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا۔
۲۔اقوال و افعال میں سنت کی پیروی کرنا۔
۳۔اقبال اور ادبار (ترقی و عدم ترقی) میں مخلوق سے اعراض کرنا۔
۴۔قلیل و کثیر رزق پر ، اللہ سے راضی ہونا۔
۵۔خوشی اور غم میں اللہ کی طرف رجوع کرنا۔
امام تاج الدین عبدالوہاب سبکیؒ (متوفی۔۷۷۱ھ) امام سبکیؒ اپنی کتابمفیض النعم میں تحریر کرتے ہیں کہ صوفیاء اللہ والے اور اس کے خواص بندے ہیں، اللہ تعالی ان سے راضی ہو۔
امام جلال الدین عبدالرحمن سیو طیؒ (متوفی۔۹۹۱ھ) امام سیوطی اپنی کتاب ۔تائید الحقیقتہ العلیتہ میں تحریر کرتے ہیں کہ تصوف اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک شریف علم ہے ۔اس کا مدار، سنت کی پیروی ہے اور ترک بدعت ہے ۔اللہ کے فیصلوں پر راضی ہونا، اس کی محبت طلب کرنا اور اس کے ماسوا کو حقیر سمجھنا ہے ۔ 
( صوفیاء او رتصوف ۸۲۔۸۷۔)

13؍نومبر 2017
ادارہ فکروخبر

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES