dushwari

کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا!!!"

محمد اکرم ظفیر

ہمارے ملک کی صدیوں سے یہ شناخت رہی ہے کہ یہاں مختلف رنگ و نسل،ذات، مذہب،ادیان،تہذیب و ثقافت، زبان کی آپس میں الفت و رواداری رہی ہے. آپسی میل و محبت کی قدر کرتے ہوئے ایک دوسرے کی ضرورتوں میں تعاون پیش کرکے برابر کا شریک ہوتے ہیں. ہم سب متحدہ قومیت کے حامل لوگ ہیں جہاں دوسرے کی خوشی و غم میں شریک ہوکر دْکھ و درد کو بانٹتے ہیں.ہمارے اسلاف کرام نے ملک کی آزادی میں انگریزوں سے لڑتے ہوئے جام شہید ہوگئے اور بلا کسی تفریق مذہب،انتشار کے ملک کو غلامی کی زنجیروں سے آزادی دلائی.

جس کے بعد اکابرین نے تشدد کی بنیاد پر ہی، ایک دوسرے کی قدر کرتے ہوئے، ایک دوسرے کی پاسداری و سلامتی کا لحاظ رکھتے ہوئے آئین کو بنایا.جہاں کسی بھی مذہب کے ماننے والے شخص کو آزادی ہے کہ بلا کسی خوف و دہشت کے زندگی گزاریں. کون کیا کھائے،کیا پئے یہ انسانی خواہش کے اوپر منحصر ہے.
مگر افسوس!! ہمارے اکابرین نے جو خواب دیکھا تھاجس کے لیے ہنستے ہوئے سولی پہ چڑھ گئے تھے. آج وہ خواب محض خواب بن کر رہ گیا ہے .آئین مرتب بابا بھیم راؤ امبیڈکر نے دلتوں و بچھڑوں کی ترقی کے لیے جو قانون بنائے تھے اس پہ آج تک صحیح معنوں میں عمل نہیں کیا گیا.جن کے آبا و اجداد نے جان و مال کی قربانی پیش ان سے محب وطن کی سند مانگی جارہی ہے.مدارس اسلامیہ جہاں سے فرنگیوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیاگیا اور اسی وجہ سے پورے ملک کے مسلمانون نے سر پہ کفن باندھ کر انگریزوں کو ملک بدر کیا تھا آج اسے شک کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے.یہاں پڑھنے والے طلبہ ہمیشہ برادران وطن کی نظر میں چبھتے ہیں. چلتے پھرتے مسلمانوں کو حراساں کرنا روز کا معمول بن گیا ہے.کبھی اخلاق کو بھیڑ کی شکل میں ایک مخصوص طبقہ پیٹ پیٹ کر موت کی گھاٹ اتار دیتا ہے تو کبھی منہاج، جنید جیسے سینکڑوں نوجوانوں کو گؤرکشا کی آڑ میں قتل کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کے ملک میں انسانوں کی جان سے زیادہ گائے کی اہمیت ہے. وندے ماترم،بھارت ماتا کی جئے کا ایسا سوشہ چھوڑا گیا کہ آئے دن زدوکوب کیے جانے کا معاملہ روشنی میں آتا ہے.مدارس جہاں سے ایسے طلبہ نکلتے ہیں جن کے دل میں ملک کے لیے قربانی کا جذبہ ہوتا ہے مگر اس پہ بھی شکنجہ کستے ہوئے فرمان جاری کردیا گیا کہ سرکار سے منظور شدہ مدارس کے لیے سرکار نصاب تعلیم مرتب کرے گی.جو دھیرے دھیرے بگھوا رنگ میں رنگا جائے گا،یہاں قرآن کی جگہ گیتا پڑھائی ہوگی.تاج محل اپنی محبت و خوبصورتی کے لیے پوری دنیا میں جاتا ہے اس کو لے کر آئین کا حلف لینے والے لوگ واولہ مچائے ہوا ہے،وندے ماترم کو لوگوں کے اوپر تھوپنے کی کوشش ہورہی ہیں.ہمارے ملک کی پہچان دنیا میں اس لیے نہیں ہے کہ کسی کے اوپر اپنی مرضی کے مطابق لوگوں پہ کچھ نافذ کردیا جائے.ایک ایسے ملک کا خواب ہمارے اکابرین نے دیکھا تھا جہاں سبھی مذہب سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی ملک کی تعمیر و ترقی میں بلا امتیاز کلیدی رول ادا کرتے ہوئے ملک کو کامیاب ملک کی فہرست میں لاکھڑا کریں گے.لیکن نہیں اب یہاں تو چھوٹی چھوٹی باتوں پہ سیاست کا ایسا رنگ چڑھایا جاتا ہے کہ سماج کئی حصوں میں بٹ جاتا ہے.ایک بڑی سازش کے تحت مسلم مجاہدین آزادی کا نام مٹایا جارہا ہے. جب ملک عزیز کو تقسیم کرکے دنیا کے نقشے پہ نیاملک پاکستان کا وجود ہورہا تھا اس وقت بھی ہمارے اکابرین نے جائے پیدائش کو ہی اپنا مسکن بنایا اس لیے کے یہاں انکتا میں ایکتا ہے.یہاں ہزاروں زبانیں بولی و سمجھی جاتی ہیں.اس ملک کو مہاتما بدھ نے اپنا مسکن بنایا..لیکن اب حالات بدل چْکے ہیں سماج میں مذہبی منافرت کا رنگ رنگا جارہا ہے.لیڈران امن و بھائی چارگی کو مسخ کر کے اقتدار کی کرسی تک پہنچ رہے ہیں.
الغرض! ملک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں حکومت کی کارکردگی پہ سوال کرتے ہوئے ڈر لگتاہے، ملک مخالف قرار دے کر مار دیا جارہا ہے. بابائے قوم مہاتما گاندھی کے قاتل کی پوجا کی جارہی ہے.جس تنظیم کا ملک کی آزادی میں دور دور تک رول نہیں،جن کے لوگ انگریزوں کی مخبری کیا کرتے تھے وہ آج لوگوں کے بیچ دیش بھکتی کی سند بانٹ رہا ہے اور ایسے ملک کا خواب دیکھ رہا ہے جہاں ہندتو کی چلے. دلتوں کو سرے عام پیٹا جائے. مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو توڑا جائے اور بیچ راستے پہ ننگا ناچ ناچا جائے.اگر موجودہ صورتحال ملک کی رہی تو ملک کو ترقی کی کون سی منزل نصیب ہوگی؟
"کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا!!!
(مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہوناضروری نہیں۔ )
13؍نومبر 2017
ادارہ فکروخبر 

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES