dushwari

صرف اسلام

مولانا علاءالدین ندوی

اللہ کے نزدیک معتبر اور قابل قبول دین صرف اسلام ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان اللہ ہی کو اپنا مقصود ، معبود محبوب ، مطاع ربّ ، حاکم ،مالک ، خالق ، اور رازق تسلیم کرے ۔ اس کی بندگی کے لئے خود کو پوری طرح حوالے کر دے اسکی عطا کی ہوئی ہدایت کی جگہ ، دوسرا طریقہ ایجاد نہ کرے ۔ اسلام کے علاوہ دنیا میں جدید و قدیم جاہلیت ، دہریت اور شریعت و بت پرستی کی جتنی شکلیں پائی جاتی ہیں وہ کھلی ہوئی بغاوت ہیں ، امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ دین دو بنیادوں پر قائم ہے ۔ ایک یہ کہ اللہ وحدہ کی عبادت کی جائے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے ،دوم یہ کہ ہم اللہ کی عبادت ،اس شریعت کے مطابق کریں جو اس نے حضور اکرم ﷺ پر نازل کی ہے ۔ اللہ کی اس شریعت کے حدود سے باہر نکلنے کاحق کسی کو نہیں ہے ۔

ظاہر وباطن دونوں صورتوں میں اس شریعت کی پیروی کئے بغیر اللہ تک رسائی نا ممکن ہے ، اسلام کے معنی خود سپردگی کے ہیں اس میں اللہ کے لئے خالص و مخلص ہونے کا مفہوم بھی شامل ہے اس لئے مسلمان وہ ہے جو اپنے کو خدا کے حوالے کردے ۔ (حقیقت الایمان ص ۱۶۹)۔
اسلام کا مقتضیٰ ایک ہی ہے ، اللہ کی اطاعت و تابعداری کرنا ۔ انبیاء کی دعوت کا لب ولباب ہمیشہ سے ایک رہا ہے ۔ بلا کسی چوں چرا اور کسی کمی بیشی کے اللہ کی اطاعت و بندگی انجام دینا ، زندگی کو اس کے بتائے ہوئے نظام کے مطابق گزارنا اور اس ہدایت کے لانے والے رسول ونبی کی مکمل فرمانبرداری کرنا ۔ اب جوخدا کی مکمل شریعت کے سامنے خود کو جھکا دے ۔ وہ خدا کا مطیع کہلائے گا ، ہم نے تم کو دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ پر قائم کیا ہے ۔ لہذا تم اسی پر چلو اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو، جو علم نہیں رکھتے ۔( جاثیہ آیت ۔۱۸)۔ دین کے مفہوم میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اللہ کی حاکمیت تسلیم کر کے اس کی اطاعت کی جائے اور کسی دوسرے کی اطاعت کا قلادہ اپنی گردن میں نہ ڈالا جائے ، یہ دین ، مالک حقیقی کا واجب الاطاعت قانون ہے جس کی پیروی زندگی میں کرنی ہے تاکہ دنیاسے شر و فساد اور سیات و منکرات کا خاتمہ ہو سکے ۔ ائے نبی ! ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تم پر نازل کی ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیا ن فیصلہ کرو ، اس روشنی میں جو اللہ نے تمہیں دکھائی ہے ۔ ( نساء آیت ۱۰۵)۔
امام ابن قیم فرماتے ہیں کہ بہت سے لوگ اللہ ہی کو رب مانتے ہیں ، اس کے علاوہ کسی کو اپنا رب تسلیم نہیں کرتے ، لیکن صرف اللہ کو کارساز و ناصر تسلیم نہیں کرتے بلکہ اس کے علاوہ بھی دوسرے اولیاء کوبھی مددگار سمجھتے ہیں ، یہ عین شرک ہے ، اسی طرح بہت سے لوگ اللہ کے علاوہ دوسروں کو حکم مانتے ہیں ان کے فیصلوں کو قبول کرتے ہیں جبکہ توحید کے ارکان تین ہیں ۔ ایک یہ کہ اللہ کے علاوہ کسی کو رب نہ مانا جائے ، دوم یہ کہ اللہ ہی کو معبود تسلیم کیا جائے ۔ سوم یہ کہ اللہ ہی کو حکم مانا جائے ۔ (حکم الاسلام صفحہ ۱۷۳) ۔ 
دوسرے لفظوں میں کمال توحید یہ ہے کہ دل میں غیر اللہ کے لئے کوئی جگہ نہ ہو بندہ صرف اپنے پرور دگار کے ساتھ ولایت و فطرت کا تعلق رکھے ۔ اللہ کو جو بات پسند ہو اسے بندہ پسند کرے ، اللہ جسے دوست رکھے اسے یہ بھی دوست سمجھے ،اللہ جسے مبغوض رکھے ، اسے یہ بھی مبغوض رکھے ۔ حق کی بنیاد ، اللہ کی الوہیت ، عبودیت ، ربوبیت اور حاکمیت کا لا زوال عقیدہ ہے ، حق کے علمبردار صرف خدا کی بندگی کرتے اور کراتے ہیں جبکہ جاہلیت کے علمبردار ، بندوں کی بندگی کرتے اور کراتے ہیں ، یہ دو متضاد حقیقتیں یکجا نہیں ہو سکتیں ، ان دونوں کو یکجا کرنا ، دو نا ممکنات کو جمع کرنا ہے ۔ جو لوگ ایمان لاتے ہیں ان کا حامی و مدد گار اللہ ہے اور وہ ان کو تاریکیوں سے نکال کرروشنی میں لاتا ہے اور جو لوگ کفر کی راہ ا ختیا رکرتے ہیں ،انکے حامی ومددگار طاغوت ہیں اور وہ انہیں روشنی سے تاریکیو ں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں ۔ ( بقرہ آیت ۲۵۷)۔
کیاکوئی سمجھدار یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ اللہ سے بڑھ کر علم رکھنے والا ہے ، اس سے بڑھ کر حکیم ودانا ہے ، اس سے زیادہ شفیق و مہربان ہے ، اس سے زیادہ فطرت انسانی سے واقف ہے ؟۔ اگر نہیں .....تو پھروہ کیوں اللہ کی حاکمیت کو چیلنج کرتا ہے ، وہ کیوں خود ساختہ قوانین پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے ؟۔ کیا ایسا کر کے وہ اس دین کی تکمیل پر اور رسالت محمدیہ پر حرف گیری نہیں کرتا ؟۔ گویا اللہ کی شان میں وہ یہ الزام عائد کرنا چاہتا ہے کہ نعوذ باللہ ،اللہ نے دائمی اور مکمل شریعت اتاری ہے مگر اسے یہ پتا نہ تھا کہ حالات میں نشیب وفراز آئیں گے ، ضرورتیں بدلتی رہیں گی اور زندگی نت نئے تقاضوں کے روبرو کھڑی رہیگی ،انسان مادی ترقی کے بام عروج کو پہنچے گا اور اسی تناسب سے مسائل و مشکلات کے انبار لگ جائیں گے اور بے شمار مسلمان اقلیت کی حیثیت سے مغلوبانہ زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو نگے ۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے پورا حکم نامہ اور نظام زندگی دے ڈالا ،جو عصر حاضر کی متمدن دنیا اور الجھی ہو ئی زندگی میں قطعی نا قابل عمل ہے ۔ اگر یہ بات نہیں ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ اللہ بحیثیت حاکم اعلیٰ اور اس کی کتاب بحیثیت دستور العمل ، زندگی سے علحدہ کر دی گئی ہے ؟۔ خدا کی دائمی لازوال شریعت کے مقابلہ میں جو لوگ انسانوں کے لئے کوئی دستور العمل مرتب کرتے ہیں ، وہ خدا کی حاکمیت میں ،ڈاکہ ڈالتے ہیں اور جو لوگ اس کی حمایت و پشت پناہی کرتے ہیں وہ خدا کی صفت حاکمیت کا انکار کرتے ہیں جو کھلا ہوا شرک ہے ۔ 

( ماہنامہ بانگ حرا ، لکھنو، جلد ۔۳، شمارہ۔ ۵)

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES