dushwari

مدارس پر يلغار

جناب سیدعلی

دینی مدارس کی اہمیت مسلمانوں کی نگاہ میں جتنی ہے اس سے زیادہ معاندین اسلام کی نگاہ میں بڑھ گئی ہے ۔مسلمان دینی مدارس کو اپنے ملی وجود کی بقاء کے لئے قلعہ سمجھتے ہیں تو دشمنان اسلام اسے اپنی حرص و ہوس کی حکمرانی کے لئے سدراہ مانتے ہیں ۔اس وقت دینی مدارس کے خلاف جس شدت کے ساتھ اور طاقتور میڈیا سے پروپگنڈہ کے ذریعہ مخالفت کا طوفان کھڑا کردیا گیا ہے اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔مدارس اور جامعات کی کھل کر کردار کشی کی جارہی ہے اور الزام عائد کیا جارہا ہے کہ ان مدارس میں شدت پسندی کی تعلیم دیجاتی ہے اور دہشت گردی کی تربیت ہوتی ہے جس سے ساری دنیا کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔

معاندین اسلام چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کا رشتہ قرآن و حدیث سے کاٹ دیا جائے اس لئے ضروری ہے کہ دینی مدارس کے تعلیمی نصاب اور نظام میں بنیادی تبدیلی لائی جائے، کبھی وہ قرآن سے بعض آتیوں کو حذف کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور کبھی جدید تعلیم کی پیوند کاری کے ذریعہ اسلامی تعلیمات کی روح کو کچلنے اور مدرسوں کے بنیادی مزاج و کردار کو بدلنے کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔اس ارتداری تحریک کا اصل لیڈربش اور شیرون ہے اور ہندوستان میں بی جے پی ۔امریکہ نے سارے مسلم ممالک سے سر براہوں کو حکم جاری کیا ہے کہ وہ اپنے ملک کے مدارس اور مساجد کے نصاب اور نظام میں ، ان کی ہدایت کے مطابق تبدیلی کریں، چنانچہ امریکی حکم کی تعمیل میں مصر، سعودیہ، پاکستان، تیونس اور دیگر مسلم ملکوں نے مدرسوں او رجامعات میں ایسی تبدیلی کر ڈالے ہیں جس سے مدرسوں کی تعلیم کا مقصد فوت ہوگیا ہے ۔تیونس نے دو قدم آگے بڑھ کر یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے مدارس اور جامعات کو توریت اور انجیل کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھائے جانے کا پابند بنانے جارہا ہے اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا کہ وہ اسلامی پردے پر بھی پابندی عائد کرنے جارہا ہے کیونکہ پردہ فرقہ واریت کاذہن بناتا ہے ، اس سلسلہ میں وہ جامعات، ثانوی اسکولوں اور انتظامی اداروں اور اسپتالوں میں باپردہ خواتین کے داخلہ پر پابندی عائد کررہا ہے ۔یہ بھی خبر ہے کہ مصر کے صوبوں کی متحدہ کونسل نے یہ قرار داد پاس کیا ہے کہ اب جامعہ ازھر کو اس کی اجازت نہ ہوگی کہ وہ نئے دینی مکاتب اور اسکول قائم کرے اور پہلے سے قائم کردہ مکاتب اور اسکول میں سے بھی اکثر کو ختم کردئے جانے اور وزارت تعلیم کے ماتحت کردئے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، نیز کئی مساجد کی تعمیر پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے ۔
یہ ہے صورتحال اور مخالفتوں کی تیز آندھی جس کا دینی مدارس کو سامنا ہے اور تشویشناک بات یہ ہے کہ دینی مدارس کے کردار او رمنہاج کو تبدیل کرنے میں مسلم ممالک سبقت کررہے ہیں ۔چوں کفرازکعبہ برخیزد کجا ماند مسلما نی(جب کعبہ سے ہی کفر برپا ہوتو کہا،مسلمانی پنپ سکتی ہے) دراصل یہ تعلیم کے ذریعہ ارتداد کی تحریک ہے جسے بہت کم مسلمان سمجھ پارہے ہیں اور ناسمجھی میں وہ بھی تیز لہجہ میں کہہ رہے ہیں کہ چلو تم ادھر کو جدھر کی ہوا ہو۔ جلد دینی مدرسوں میں کمپوٹر لگاؤ اور سائنس پڑھاؤ۔افسوس کہ نہ وہ اسلام دشمن طاقتوں کی خطرناک سازش سمجھ پارہے ہیں نہ دینی مدارس کی اہمیت و عظمت او رحقیقت سے واقف ہیں۔بہت تھوڑا وقت رہ گیا ہے ، ایسے لوگ اپنا نظریہ اور موقف جلد بدل لیں اور دینی مدارس کے استحکام میں مدد گار بن جائیں، ورنہ اگر دینی مدارس کا اصل کردار ختم ہوگیا تو عقیدہ و اخلاق اور تہذیب و ثقافت کا اسلامی تصور بھی باقی رہنا مشکل ہوجائے گا۔دانشوری کا تقاضہ ہے کہ وہ ان دینی مدارس اور جامعات کو حقارت کی نظر سے دیکھنا چھوڑدیں۔یہ تعلیمی ادارے وہ ہیں جہاں نہ صر ف قاری و حافظ قرآن تیار ہوتے ہیں بلکہ یہاں سے مفسر ، محدث، فقہیہ ، اور مجاہد بھی تیار ہوتے ہیں اور یہیں سے قائدین مہیاہوتے ہیں جو حکمرانی اور جہانباتی میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔آج ضرورت ہے کہ ہر گاؤں ، ہر قریہ میں مدرسوں کا جال پھیلا جائے اور نئی نسل کو اسلامی تعلیمات سے آراستہ کیا جائے اور جاہل تعلیم و تہذیب کی آندھیوں سے بچایا جائے۔
( مجلہ مینار عظمت کلکتہ ۲۰۰۴ء صفحہ۵۱۔۵۲)

(مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ) 
12؍ نومبر 2017
ادارہ فکروخبر 

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES