dushwari

ٹیچرس ڈے ہمارے غور وفکر کا متقاضی

عارف عزیز (بھوپال)

انسانی زندگی میں یوں تو ہر دن کی ایک اہمیت ہے، لیکن معاشرہ میں سال کے جن ایام کو خصوصی درجہ دیا گیا ہے، ان میں ایک ’’یوم اساتذہ‘‘ ہے، جو ۵ ستمبر کو ہر سال ملک میں منایا جاتا ہے اور اس موقع پر جلسے ومباحثے منعقد کرکے ایک قابل احترام اور شخصیت ساز پیشہ میں مصروف اساتذہ کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ اساتذہ کو یاد کرنے کا یہ دن ہندوستان کے پہلے نائب صدر اور دوسرے صدر جمہوریہ ڈاکٹر سراواپلی رادھا کرشنن کے یوم پیدائش پر منایا جاتا ہے جو کہ بنیادی طور پر ایک استاد تھے اور اساتذہ کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لئے کوشاں رہے۔

اساتذہ کے بارے میں ان کا جو نقطہ نظرتھااس پر ہمارے ملک میں کبھی خاطر خواہ عمل تو نہ ہوا لیکن ان کے یوم پیدائش پر ’’یوم اساتذہ‘‘ منانے کی روایت ضرور پڑگئی ہے۔ ڈاکٹر رادھا کرشنن جو ایک استاذ کی حیثیت سے ترقی کرکے صدر جمہوریہ کے اعلیٰ عہدے پر فائز ہوئے تھے۔ خود کو استاد کہلانا پسند کرتے تھے، وہ نہایت منکسرالمزاج تھے، ان کا لباس سفید کوٹ، پگڑی اور دھوتی ہوا کرتا تھا، طلباء میں اتنے مقبول تھے کہ یونیورسٹی سے رخصت ہونے پر طلباء ایک گھوڑا گاڑی پھولوں سے سجاکر لائے، اس میں انہیں سوار گھوڑوں کے بجائے اپنے کاندھوں پر کھینچ کر اسٹیشن لے گئے اور نم آنکھوں کے ساتھ رخصت کیا۔ 

جمہوری ہندوستان میں صدارت کا عہدہ سب سے معزز شمار ہوتا ہے حسن اتفاق سے ڈاکٹر رادھا کرشنن کے بعد صدارت کے لئے دوسرے ماہر تعلیم اور معلم ڈاکٹر ذاکر حسین خاں کا انتخاب عمل میں آیا اور اس کے بعد ایک اور صدر ڈاکٹر شنکر دیال شرما بھی بنیادی طور پر ایک استاد تھے لیکن یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے جو بلاشبہ کافی روشن ہے جبکہ دوسرا پہلو اتنا ہی دھندلا اور قابل غو رہے جو ہمیں بتایا ہے کہ ہندوستان میں اساتذہ کی مادی حالت ضرور بہتر ہوئی ہے ان کے مشاہرات میں بھی اضافہ ہوا اور دوسری سہولتیں بڑھ گئیں ہیں مگر استاد وشاگرد کا جو مستحکم رشتہ تھا، وہ پہلے سے کافی کمزور پڑگیا ہے۔ ایک زمانہ وہ تھا جب استاد کو معمار قوم تصور کیا جاتا تھا اور حاکم وقت بھی اپنے استاد کے احترام میں سرجھکا دیتے تھے، سکندر اعظم کا مشہور واقعہ ہے کہ وہ اپنے استاد ارسطو کے ساتھ سفر کررہا تھا، راہ میں ایک دریا آیا تو دونون میں یہ مشورہ ہوا کہ پہلے پانی میں اتر کر کون اس کی گہرائی کا اندازہ لگائے، سکندر اعظم کی ضد تھی کہ دریا کی گہرائی اسے ناپنے کا موقع دیا جائے، ارسطو نے سکندر کو اس سے باز رکھتے ہوئے کہا کہ میں تمہارا استاد ہوں، تمہیں میری بات ماننا ہوگی، پانی میں پہلے میں اترونگا، سکندر کا برجستہ جو اب تھا کہ استاد محترم اس عمل میں آپ کی جان بھی جاسکتی ہے لہذا میں ہرگز نہیں گوارہ کروں گا کہ دنیا آپ جیسے لائق استاد سے محروم ہوجائے کیونکہ سینکڑوں سکندر مل کر بھی ایک ارسطو پیدا نہیں کرسکتے جبکہ ایک ارسطو سینکڑوں کیا ہزاروں سکندر پیدا کرسکتا ہے۔
تمام مذاہب نے بھی استاد کی تعظیم وتکریم پر زور دیا ہے، خاص طور پر اسلامی معاشرہ میں تعلیم دینے والے یا سکھانے والے کی جو قدر دانی کی جاتی ہے ، کسی اور مذہب میں نہیں ملتی، اسلام نے اللہ کے حقوق کے ساتھ والدین اور استاد کے حقوق واحترام ادا کرنے کی تلقین کی ہے ایک موقع پر رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ’’مجھے معلم بناکر بھیجا گیا ہے‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ معلم یعنی استاد کا مرتبہ کتنا اہم ہے، عام طو رپر کسی قانونی بندش کے بغیر اسے تسلیم بھی کیا جاتا ہے لیکن وقت کے ساتھ استاد اپنے فرائض ادا کرنے میں جہاں کوتاہی کے مرتکب ہورہے ہیں شاگردوں میں بھی ان کا پہلے جیسا احترام باقی نہیں رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں، پانچ چھ سال پہلے مدھیہ پردیش کے اجین شہر میں طلباء کے ہاتھ کالج کے ایک پروفیسر کا قتل ہوگیا تھا، ایک اسکول کا لڑکا بھی اپنی ٹیچر پر کلاس روم میں حملہ کرکے اس کی جان لے چکا ہے، دوسری طرف ٹیچر پہلے جیسے ذمہ دار اور محنتی نہیں رہے بلکہ بعض استاد وشاگرد کے مقدس رشتے کو پامال کررہے ہیں،ایسے ہی ایک ٹیچر کو ۲۰۰۸ء میں عین ’’یوم اساتذہ‘‘ پر سپریم کورٹ نے ۹ برس کی ایک بچی کی آبروریزی کے بعد اسے قتل کرنے پر پھانسی کی سزا سنائی تھی۔
اسی طرح معیارِ تعلیم میں بھی کافی گراوٹ آئی ہے اور رفتہ رفتہ تعلیم تجارت بنتی جارہی ہے آج کے دن ہونا یہ چاہئے کہ اساتذہ کی حالت بہتر بنانے یا سماج میں انہیں ایک باوقار مقام دلانے کے ساتھ ساتھ معاشرہ میں ان کے کردار پر غور وخوض ہوتا کیونکہ سماج کی تربیت میں جو حصہ ماں ادا کرتی ہے وہی ایک استاد نبھاتا ہے۔ جو بچہ کل کا شہری بنے گا اسے پہلا سبق اپنے استادوں سے ہی لینا پڑتا ہے اور ان کی نگرانی میں بچہ جوانی کی سیڑھی پر قدم رکھتا ہے، اسے اپنے اساتذہ سے صرف کتابی علم حاصل نہیں ہوتا۔ اخلاق، تہذیب اور ثقافت کا درس بھی ملتا ہے۔
جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ماضی قریب تک استاد اور شاگردوں کا یہ تعلق ایک مقدس رشتہ تصور کیا جاتا تھا لیکن مشینی زندگی نے جہاں دوسرے سماجی تعلقات کو کمزور کیا، وہیں گرو اور چیلے کا رشتہ بھی پہلے جیسا نہیں رہا، رہی سہی کسر ہمارے جمہوری نظام کی ہر سطح میں سیاست کے عمل دخل نے پوری کردی۔ کیونکہ کئی اساتذہ اپنا کارِ منصبی فراموش کرکے پارٹ ٹائم ٹیچر اور فل ٹائم سیاست داں بن گئے ہیں۔ پرائمری یا سیکنڈری اسکولوں میں تو پھر استاد پڑھنے پڑھانے پر توجہ دیتے ہیں لیکن کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تو ان کی ساری توجہ عہدوں اور سیاسی مواقع کے حصول میں صرف ہوجاتی ہے۔
سوال صرف پرائمری، سیکنڈری یا کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم کا نہیں، زوال ہر سطح پر ہوا ہے بلکہ یونیورسٹی اور کالج کی سطح پر تو بعض ریاستوں بشمول مدھیہ پردیش میں صورت حال پہلے سے کچھ سدھری ہے، وقت پر امتحانات ہورہے ہیں اور نتائج نکل رہے ہیں ایک طے شدہ تعلیمی کلینڈر کے مطابق پڑھائی بھی ہورہی ہے لیکن اصلاح کا یہ عمل نچلی سطح تک اسی وقت پھیلے گا جب حکومت کے ساتھ ساتھ اساتذہ بھی اپنی ذمہ داری محسوس کریں گے۔
ایک اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ آج ہمارے نام نہاد سیاسی رہنماؤں اور نو دولتیوں کو جو فضیلت دی جارہی ہے اس کا عشر عشیر بھی ایک استاد کے حصہ میں نہیں آتا لہذا ’’یوم اساتذہ‘‘ پر جہاں سماج میں استاد کی ضرورت واہمیت کا تعین ہونا چاہئے وہیں اساتذہ کے فرائض وذمہ داری کی نشاندہی بھی ضروری ہے اور اسی طرح ہم معاشرہ کے ایک اہم شعبہ سے لاپرواہی برتنے کے الزام سے بچ سکتے ہیں۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES