dushwari

کسانوں کے قرض معاف کرنے کا کیا ہوا؟

حفیظ نعمانی

سلاٹر ہاؤس مذبح پر پورے صوبہ میں تالے لگانے اور اس کی خبر سے مسلمانوں کو اس لیے تکلیف ہوئی ہوگی کہ ہزاروں ہزار مسلمان بے روزگار ہوجائیں گے۔ ہم بہت زیادہ تو نہیں لیکن ضرورت کی حد تک جانتے ہیں کہ قانون کے سا تھ غیر قانونی کا مزاج عام ہے۔ دو دن سے جو خبریں آئیں تو معلوم کیا کہ اتنے غیر قانونی سلاٹر ہاؤس کیسے بن گئے کہ دو سو میں تو تالے لگ گئے اور ابھی مزید پر کاروائی کی تیاری ہے۔ تب معلوم ہوا کہ ہمارے قریشی بھائی کچھ زیادہ ہی غیر قانونی کام کرتے ہیں جیسے گوشت کی دوکان کے جتنے لائسنس ہیں اس سے دس گنی دوکانیں ہیں۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ برسوں پہلے 2014میں سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ کوئی سلاٹر ہاؤس شہر کے اندر نہ رہے اور ہر شہر کے میونسپل بورڈ نے اپنے شہر کی حد سے باہر سلاٹر ہاؤس بنوادئے ہیں اور کہہ دیا ہے کہ ہر مذبح شہر سے باہر چلا جائے۔ اس لیے جو شہر کے اندر چل رہے تھے ان کے لائسنس کا رینیول بھی نہیں ہورہا تھا۔

کل غازی آباد میں جن لوگوں نے اپنے اپنے لائسنس دکھائے وہ تین چار سال پرانے تھے اور شکایت یہ تھی کہ میونسپل بورڈ اس کو رینیو نہیں کررہا ہے۔ بات اس کی نہیں ہے کہ گائے یا بیل ذبح ہورہے ہیں بلکہ یہ ہے کہ جانور کے گوشت کے علاوہ جو اوجھ اور آنتیں ہوتی ہیں وہ شہر میں وبائی بیماری کی سبب بنتی ہیں اور صفائی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔
گزشتہ برسوں میں بی جے پی کی بھی حکومت رہی ہے مایاوتی اور ملائم سنگھ کی بھی۔ اور مسئلہ گا ئے یا بیل کا نہیں بلکہ بھینس اور اونٹ کا ہے جس کی قربانی پر کسی کو اعتراض نہیں۔ صرف جگہ کی بات ہے تو حیرت ہے کہ سابقہ حکومتوں نے کیوں سختی نہیں کی؟ غلط کام کا یہ طریقہ ہے کہ وہ وبا کی طرح پھیلتا ہے اور یہ عام بات ہے کہ قانون بنانا انتہائی آسان ہے لیکن عمل کرانا انتہائی مشکل۔ نہ جانے کتنی بار پان مسالہ پر پابندی لگی۔ مرکزی حکومت نے لگائی، عدالت عالیہ نے لگائی لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ ہر بار اس کی فروخت اور اس کا استعمال اور زیادہ بڑھ گیا۔
اور اب تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ جیسے اس سے زیادہ فائدہ کا کوئی کاروبار ہی نہیں ہے؟۲۵ پیسے اور ۵۰ پیسے کا بکنے والا پیکٹ اب خوبصورت ڈبوں میں بھی آنے لگا ہے اور اخبارات کے پورے پورے صفحہ پر رنگین اشتہار کے علاوہ ٹی وی پر صرف اشتہار نہیں اسٹوری کے ذریعہ اسے مقبول کرنے کا مقابلہ ہے جس کی اجرت کئی کئی لاکھ روپے ہے۔
وزیر اعلیٰ یوگی نے صرف سکریٹریٹ کو دیکھا ہے وہ زحمت کرکے ہر سرکاری عمارت کی ان دیواروں کے فوٹو منگوالیں جو دوسری منزل پر سیڑھیوں کے ساتھ جاتی ہیں۔ میڈیکل کالج کی ان سیڑھیوں کا بیان وہی کرسکتا ہے جس نے وہ دیکھی ہیں۔ وزیر اعلیٰ یوگی نے آفس میں یا سرکاری اداروں میں پان مسالہ کھا کر آنے پر پابندی لگادی ہے لیکن اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اسپتالوں اور سرکاری دفتروں کے اردگرد اگر پان مسالہ بکتا ہوا نظر آئے تو اسے ضبط کرلیا جائے۔ ورنہ لوگ تو شراب پی کر بھی دفتروں اور بینکوں میں آتے ہیں اور جو کرسی خالی ہو اور معلوم کیا جائے کہ بابوجی کہاں گئے؟ تو ایک ہی جواب ملتا ہے کہ پان کھانے گئے ہیں اور یہ پان کھانا اتنی دیر کا ہوجائے گا کہ جب تک پان مسالہ منہ میں گھل نہ جائے اور اس کا رنگ اتر نہ جائے۔
لڑکیوں کے سا تھ چھیڑ چھاڑ کے نام پر جو پولیس کو چھوٹ دی ہے وہ بہت خطرناک ہے۔ ہمارے ملک کی پولیس بہت بے لگام ہے۔ اور ہر غنڈہ کو یا لوفر کو وہ جانتے ہیں۔ انہیں صرف کارگذاری دکھانے کے لیے شریف لڑکوں کو ذلیل کرنے کی چھوٹ مل گئی ہے۔ اگر ایک لڑکا اور لڑکی پارک میں یا سڑک کے کنارے کھڑے بات کررہے ہیں تو کون سا جرم ہے؟ جن لڑکیوں کو ان کے والدین نے مخلوط تعلیمی اداروں میں داخل کرایا ہے وہ جانتے ہیں کہ ان کی لڑکی اپنے ساتھ پڑھنے والی لڑکیوں سے بھی دوستی کرے گی اور لڑکوں سے بھی۔ اور فارغ وقت میں آپس میں باتیں بھی کریں گے وہ تعلیم سے متعلق بھی ہوسکتی ہیں، سماج سے اور سیاست سے متعلق بھی اور محبت سے بھی۔ برسوں سے کالج میں ساتھ پڑھنے والے لڑکے لڑکیاں اپنے والدین کی اجازت سے یا اپنی مرضی سے شادی بھی کرلیتے ہیں جن میں کامیاب بھی ہوتی ہیں اور ناکام بھی۔ اس لیے بہتر یہ ہوگا کہ اس کی دیکھ بھال کے لیے صرف زنانہ پولیس کی ڈیوٹی لگائی جائے۔اور وہ اس وقت اپنا فرض ادا کریں جب لڑکی شکایت کرے یا اشارہ کرے کہ یہ لڑکا پریشان کرتا ہے۔ ورنہ مرد وزیر اور خاتون وزیر بھی ایک دوسرے سے تبادلۂ خیال کرتے ہوئے ڈریں گے کہ ۔۔۔
ہر حکومت آتے ہی یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ وہ اپنے صوبہ کو مثالی صوبہ بنادے گی لیکن سیکڑوں ملکوں سے بڑے صوبہ کو جب سنبھالنا شروع کرتی ہے تب اسے اندازہ ہوتا ہے کہ مغربی حصہ کو دیکھو تو مشرقی گرا جاتا ہے اورشمالی کو دیکھو تو جنوبی پھسلا جارہا ہے۔ زمین کو دیکھو تو آسمان گراجارہا ہے۔ غرض کہ قابو سے باہر ہیں۔ وزیر اعلیٰ کو الیکشن مینی فیسٹو کی یہ لائن تو یاد رہی کہ حکومت بنتے ہی غیر قانونی سلاٹر ہاؤس بند کردئے جائیں گے لیکن وزیر اعظم نریندر مودی نے جو اپنی تقریروں میں گلا پھاڑ پھاڑ کر اور اپنے قول کے مطابق دہاڑ کر کہا تھا کہ ۱۱؍ مارچ کونتیجے آئیں گے اور ۱۳؍ کو (fot;h gksyh)فتح کی ہولی منائیں گے۔ ۱۵؍ تاریخ کو حکومت بنائیں گے اور اس کی پہلی میٹنگ میں کسانوں کا قرض معاف کرنے کا اعلان کریں گے۔ وہ قرض جس کی بنا پر ہزاروں کسانوں نے خود کشی کرلی ہے اور نہ جانے کتنے خود کشی کرنے پر آمادہ تھے مگر وزیر اعظم کا یہ اعلان سن کر رک گئے۔ لیکن وزیر اعلیٰ کو صرف سلاٹر ہاؤس کا سبق یاد ہے اور یہ یاد نہیں کہ کسان کے قرض کو معاف کرنے کا بھی وعدہ کیا تھا۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ سچ ہے یا جھوٹ؟ جاننے والے کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم نے تو کسان کے قرض کی بات کرکے اپنے جھوٹ بولنے کا شوق پورا کیا ہے۔ ورنہ صوبہ کے کسان کا قرض سے کیا تعلق؟ سارا قرض بینکوں کا ہے اور بینک مرکزی حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔ وہ ا گر قرض معاف کرنا چاہتے تو ووٹ لینے سے پہلے بھی کرسکتے تھے لیکن جیسے ۲۰۱۴ء کے ۱۵۔۱۵ لاکھ روپے کاکالے دھن کا جھنجھنا تھا ایسا ہی کسانوں کا قرض معاف کرنے کا اعلان تھا۔ اب مودی جانیں اور وہ کسان جنھوں نے بی جے پی کو 325سیٹیں دے دیں۔ اب تو اس کو دیکھنا ہے جو یوگی جی کہہ رہے ہیں کہ اترپردیش کو دیکھنے لوگ آیا کریں گے۔ 
ہر عمارت اپنے ہاتھوں اس لیے ویران کی
نیو ہمیں کو ڈالنا تھا اک نئے ایوان کی

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES