dushwari

لفظ اظہار کے سانچے میں ڈھلے گا کتنا

حفیظ نعمانی

 ۱۹؍ مارچ کے روزنامہ انقلاب کے پہلے پورے صفحہ پر ایک اشتہار چھپا ہے جسے چھپوانے والی ایک تنظیم مسلم ایسوسی ایشن کانپور ہے۔ اور اس کے جنرل سکریٹری حاجی عبدالحسیب صاحب کی خوبصورت تصویر کے ساتھ جو کچھ لکھا ہے وہ کچھ اس طرح ہے:
۱۰۰ مسلم اکثریتی سیٹوں میں سے 70سیٹوں پر جیت کے لیے نریندر مودی صاحب کو صمیم قلب سے مبارک باد۔ 
ہندو مسلم کی سیاست کرنے والی پارٹیوں کے منہ پر طمانچہ
ذات پات کی سیاست کا خاتمہ
ترقی کے نئے دور کی شروعات
سب کا ساتھ سب کا وکاس


دل سے نہیں دماغ سے کام لینے پر مسلم سماج کو مبارک باد
سپا بسپا اور کانگریس کے مسلم ٹھیکہ داروں کے منہ پر طمانچہ
حاجی عبدالحسیب
جنرل سکریٹری مسلم ایسوسی ایشن کانپور

اخبار کی دنیا سے تو ہمارا تعلق اس وقت سے ہی ہوگیا تھا جب ہم صرف ڈ ھائی برس کے تھے۔ والد ماجد نے بریلی سے ایک رسالہ الفرقان نکالنا شروع کیا تھا جو ماشاء اللہ آج بھی نکل رہا ہے۔ اور وہ زمانہ روز نامہ اخباروں کے بجائے سہ روزہ یا ہفتہ وار کا تھا جو الفرقان کے تبادلے میں آتے تھے۔ اور اخبار پڑھنا اس کا تیار کرنا اور اس پر ڈاک کے پرانے ٹکٹ چپکاکر باہر بھیجنا بچپن کے کھیلوں میں سے ایک کھیل تھا۔
80برس کے اس عرصہ میں جتنی تبدیلیاں صحافت میں آئیں وہ ایسی ہی ہیں جیسی معاشرہ کی ہر چیز میں آئیں۔ اور یہ اشتہار بھی اس کا ایک نمونہ ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ مسلمانوں نے واقعی اجتماعی طور پر بی جے پی کو کب ووٹ دینے کا فیصلہ کیا؟ اور مسلم اکثریتی حلقوں میں مسلمانوں نے کانپور کے حاجی عبدالحسیب صاحب کی سرپرستی میں بی جے پی کو اتنے ووٹ دئے کہ سو میں 70بی جے پی کو سیٹیں مل گئیں۔ ہم تو اب تک اس نتیجہ کو ’’میں اور میری پارٹی‘‘ کے مکھیا ڈاکٹر ایوب جو قائد اعظم بن گئے تھے اور تلنگانہ کے ا یک قیادت کے شوقین اسدالدین اویسی کی دلالی کا نتیجہ سمجھ رہے تھے۔ 
حقیقت حقیقت ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بی جے پی کو ہر کسی کی توقع سے زیادہ سیٹیں ملیں اور سماج وادی پارٹی یا بہوجن سماج پارٹی اتنی نیچے آگئیں کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ حاجی عبدالحسیب صاحب نے بی جے پی کے لیے کام کیا ہوگا اسی لیے انہیں ایک بڑے اخبار کے پورے اور پہلے صفحہ پر اشتہار کی ضرورت پیش آئی جس کی اجرت لاکھوں روپے ہے۔ یہ اشتہار ایسا نہیں تھا جیسا دو مہینے تک ڈاکٹر ایوب اپنی پیس پارٹی کا چھپواتے رہے اور شہرت یہ ہے کہ اس کا مالی بوجھ ان کے اوپر نہیں تھا۔ یہ اشتہار وہ ہے جو ایک لاکھ روپے کے عوض یا اگر پورے صوبہ میں پڑھوانا پیش نظر ہو تو کئی لاکھ روپے دے کر چھپوایا ہوگا اور ان کے پیش نظر کوئی بڑامنصوبہ ہوگا جسے وہ جانیں۔
لفظ صرف لفظ نہیں ہوتا اس کے معنی بھی ہوتے ہیں۔ شری مودی کا تکیۂ کلام ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس ہے‘‘۔ اگر سو آدمیوں سے معلوم کیا جائے کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ تو ان میں سے ۹۰ یہ بتائیں گے کہ ملک کے ہر آدمی کی ترقی اور اسے اپنے جیسا سمجھنا۔ لیکن مودی جی نے ۲۰۱۷ء کے ا لیکشن میں اس کے معنی بدل دئے۔ انھوں نے قبرستان اور شمشان کو ایک جیسا کردیا جبکہ قبرستان میں ۷ فٹ جگہ ایک آدمی کے لیے چاہیے اور اگر مرنے والے سو ہیں تو ۷سو فٹ۔ بھلے ہی وہ ۱۰ برس کے لیے ہو۔ لیکن شمشان کے لیے جتنی زمین کی ضرورت ایک آدمی کے لیے ہے اتنی ہی ایک سو کے لیے کافی ہے۔ مسلمان کا یقین ہے کہ قیامت چاہے دس لا کھ یا دس کروڑ برس کے بعد بھی آئے وہ اپنی قبر سے اٹھے گا اور اپنے ہر اچھے اور برے کام کا حساب دے گا۔ ہندو بھائیوں کا یقین ہے کہ مر کر جلنے کے بعد پھر اسی دنیا میں آئیں گے اور اگر بہت اچھے وزیر اعلیٰ بن کر اور سب کا وکاس کرکے مرے ہیں تو وزیر اعظم بن کر آئیں گے اور اگر ظلم کرکے جلائے گئے تو معمولی آدمی یا جانور بن کر پیدا ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ اتنے واضح فرق کے ساتھ سب کا وکاس کا یہ مطلب کہ اگر قبرستان کی حد بندی ہورہی ہے تو شمشان کی بھی کراؤ۔ جبکہ کون ہے جو شمشان کی زمین پر ناجائز قبضہ کررہا ہے۔اور اب حکومت بنی ہے تو وقف بورڈ سنی ہو یا شیعہ سب سامنے آجائے گا کہ اکھلیش نے زمین دی یا قبرستان کی زمینوں کو زمین مافیا سے بچانے کے لیے مسلمانوں کے مطالبہ پر پرانے قبرستانوں کی حد بندی کرائی ہے؟
اسی طرح رمضان کی بجلی کو مودی جی نے دیوالی کی بجلی سے ملادیا۔ رمضان کا مطلب ایک مہینہ اور دیوالی کا مطلب ایک دن۔ رمضان میں ہر اچھے کام کا ثواب 70گنا لیکن روشنی کی شرط نہیں ہے۔ اگر ضرورت سے زیادہ بجلی رمضان میں جلائی جائے یا کسی اور مہینہ میں، یہ فضول خرچی ہے اورفضول خرچی گناہ کبیرہ ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مسلمان دیوالی کی طرح ایک دن بھی بجلی خرچ کریں گے تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ ہندو بھائیوں کا عقیدہ ہے جہاں جتنی زیادہ روشنی ہوگی وہاں لکشمی جی پہلے آئیں گی۔ یعنی خوش حالی اور دولت۔ مسلمان کا ایمان ہے کہ ضرورت سے زیادہ روشنی کرے گا تو ہوسکتا ہے کہ سزا میں اس کی قبر میں ہمیشہ اندھیرا ہی رہے، اور گھر میں جلانے کو دیا بھی نہ ہو۔ ملک کے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کو یہ باتیں اگر معلوم نہیں تو ان کا فرض ہے کہ مسلمان عالموں کو بلا کر معلوم کریں۔ 
احمدآباد میں جہاں سیکڑوں مسجدیں ہیں اور مودی جی کی حکومت میں ۱۲؍ رمضان آئے ہیں انھوں نے احمد آباد میں جتنی بجلی دی ہوگی وہ انہیں معلوم ہے اس کے بعد بھی رمضان کو دیوالی سے ملانا اور قبرستان کو شمشان سے ملانا، جانا بوجھامنصوبہ تھا کہ ہندو کو مسلمان سے الگ کرلیا جائے۔ وزیر اعظم بننے کے بعد مودی جی نے نفرت کی دیوار کے لیے صرف اترپردیش کو منتخب کیا۔ یہ انھوں نے اچھا نہیں کیا۔ اترپردیش میں مسلمان 1947میں پاکستان بنانے کا ایک گناہ کرچکے ہیں اور اس کی سزا بھگت چکے ہیں۔ اور آج بھی بھگت رہے ہیں اور ان میں ہمارے جیسے بھی ہیں جو کروڑوں ہیں۔وہ پاکستان کے مخالف ہونے کے باوجود صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے بھگت رہے ہیں۔
وزیر اعظم کے ا مید وار نریندر مودی 2014میں جب الیکشن لڑنے آئے تھے تب مسلمان بھی کانگریس کی بداعمالیوں کی وجہ سے اس سے اتنے ہی ناراض تھے جتنے ہندو تھے۔ لیکن مودی جی نے کہا ضرور کہ سب کا ساتھ سب کا وکاس لیکن مسلمان کو اس وقت بھی ٹکٹ نہیں دئے تھے اور جیتنے کے بعد نمونہ کے لیے ایک نجمہ ہبۃ اللہ کو وزیر بنادیا تھا۔یہی انھوں نے اترپردیش میں کیا کہ ٹکٹ تو کسی کو نہیں دیا لیکن ایک مسلمان محسن رضا کو ۴۵ رکنی وزار ت میں شامل کرلیا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ پنجاب کے کیپٹن امریندر سنگھ کا جواب ہو جنھوں نے رضیہ سلطان نام کی ایک مسلم خاتون کو ٹکٹ بھی دیا تھا اور کامیاب ہونے کے بعد وزیر بھی بنادیا۔ جبکہ پنجاب میں مسلمان پاکستان بننے کے بعد نام کو بھی نہیں رہ گئے تھے۔ بعد میں مالیرکوٹلہ میں رفتہ رفتہ آئے اور اب نام کے لیے ہر جگہ ہیں۔اگر اس کا جواب ہی دینا تھا اور مسلمانوں کو واقعی اپنے ساتھ ملانا تھا تو آبادی کے اعتبار سے کم از کم دو کابینہ اور تین اسٹیٹ منسٹر بناتے۔ ڈھائی کروڑ مسلمان اور ایک محسن رضا؟ اگر وہ ۲۴ گھنٹے بھی کام کریں تو مسائل ختم نہ ہوں۔
جہاں تک وزیر اعلیٰ کا تعلق ہے تو ان کا ظاہر تو یہ ہے کہ گورکھپور کا وہ اردو بازار جس کا نام ہم اس وقت سے جانتے ہیں جب اردو پڑھنا آئی تھی۔ بریلی کی ہر مسجد میں خوبصورت ہدایات ٹنگی ہوئی تھیں کہ مسجد میں داہنا پاؤں پہلے رکھو اور ’’اللٰہم افتح لی ابواب رحمتک‘‘ دعا پڑھو جیسی کئی ہدایتیں۔ اور نیچے آزاد بوٹ ہاؤس ، اردو بازار گورکھپور۔اب 80برس کے بعد وہ بوٹ ہاؤس ہے یا نہیں یہ تو معلوم نہیں، سنا ہے یوگی جی نے بازار کا نام بدل کر ہندی بازار کردیا ہے۔ جبکہ اردو کے لغوی معنی لشکر کے ہیں۔ اب انھوں نے دستور کے حلف کے بعد عہدہ سنبھالا ہے۔ اور اترپردیش اردو اکادمی ہندوستان کی ہر اردو اکادمی کی ماں ہے ا ور اترپردیش میں اردو دوسری سرکاری زبان بنائی گئی ہے۔ لیکن اس اترپردیش کے پہلے وزیر تعلیم اور پھر وزیر اعلیٰ سمپورنانند نے کہا تھا کہ اردوکوئی زبان ہی نہیں ہے وہ ہندی کی شیلی ہے۔ اب وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے سامنے دونوں راستے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سب کا ساتھ سب کا وکاس انہیں کون سا راستہ اپنانے کا مشورہ دیتا ہے؟ اس کے فیصلہ کے بعد ہی مسلمانوں کو طے کرنا ہوگا کہ وہ اب کیا کریں؟

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES