dushwari

سیکولرازم کی زندگی اور موت کا فیصلہ ۱۱؍ مارچ کو

حفیظ نعمانی

ہم نے وزیر اعظم نریندر بھائی مودی کی وہ تقریر ٹی وی پر خود سنی تھی جس میں انھوں نے الیکشن کے پانچ راؤنڈ مکمل ہوجانے کے بعد کہا تھا کہ بی جے پی جیت چکی ہے۔ اور اب جو دو راؤنڈ باقی ہیں ان میں جو ووٹ ملیں گے ان کی حیثیت وہ ہوگی جو دس روپے کی سبزی لینے کے بعد سبزی والے سے کہتے ہیں کہ ایک ہری مرچ اور دھنئے کی ایک ٹہنی ڈال دو۔ یا آدھا لیٹر دودھ لینے کے بعد دودھ والا ۵ گرام دودھ اوپر سے ڈال دیتا ہے۔ مودی جی صرف وزیر اعظم نہیں ہیں وہ اترپردیش اور ہر صوبہ کا الیکشن اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں اور صرف یہ چاہتے ہیں کہ اب کوئی ہندو لیڈر ان کی برابری کی یا ان کی جگہ لینے کی کوشش نہ کرے اور اسی لیے وہ برابر کہتے رہتے ہیں کہ میں دن میں ۱۸ گھنٹے کام کرتا ہوں کبھی کہتے ہیں کہ میں ا یک گدھے کی برابر کام کرتا ہوں یا گدھوں سے کام کا سبق لیتا ہوں۔

یہ سب وہ اس لیے کہتے ہیں کہ کوئی وزیر اعظم بننے کی ہمت نہ کرے جبکہ سب یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ وہ صرف اور صرف تقریر کے شوقین ہیں اور جہاں بھی موقع ملتا ہے تقریر کرنے پہنچ جاتے ہیں۔ بہرحال بات صرف یہ تھی کہ جب پانچ راؤنڈ میں پیٹ بھرنے کے قابل ووٹ مل گئے اور اب جو ملیں گے وہ رونک ہے تو الیکشن کمیشن کو یہ لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آگئی کہ برقع پوش خواتین یعنی مسلمان با پردہ مستورات شناختی کارڈ کی شناخت اور تصدیق کے لیے خواتین پولیس اور نیم فوجی دستوں کی خواتین یونٹ کو تعینات کیا جائے تاکہ کوئی جعلی ووٹ نہ ڈال سکے۔ دور سے نظر آنے والا مسلمان جس کی ڈاڑھی شرعی ہومودی مارکہ نہ ہوا ور برقع پوش عورت کو مودی کی فوج یعنی بی جے پی یہ سمجھتی ہے کہ وہ ان کی دشمن ہیں اور ا کے خلاف ووٹ دینے جارہے ہیں۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ جس پاکپاز خاتون نے برقع پہنا ہے وہ اس لیے پہنا ہے کہ وہ اس کے خلاف ووٹ دے جسے وہ اپنے پردہ کا دشمن سمجھتی ہے اور اس کی حکومت بنوائے جسے وہ اپنے پردہ کا محافظ سمجھتی ہے اور وہ اپنے پردہ کی حفاظت کرنا جانتی ہے۔
مودی جی کی طرف سے جس نے بھی یہ خط بھیجا ہے اور جسے بھیجا ہے اس کا فیصلہ تو وہ کریں گے لیکن مقصد ہمیں معلوم ہے کہ مسلمان برقع پوش خواتین اس ڈر کی وجہ سے ووٹ دینے نہ آئیں کہ وہاں سب کے سامنے ان کا چہرہ کھولا جائے گا۔لیکن مودی جی کی فوج یہ نہ سمجھے کہ جن عورتوں نے برقع پہنا ہے وہ ڈر سے پہنا ہے ۔یہ برقع وہ ہے جو ان کی ہمت بڑھاتا ہے اور وہ جانتی ہیں کہ اپنے پردہ کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے؟اس خط سے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ بی جے پی یہ سمجھ رہی ہے کہ وہ اسے اگر چھٹے اور آخری راؤنڈ پر وانچل میں اس کی مرضی کے مطابق ووٹ نہ ملے تو ا سے پھر وہی غم برداشت کرنا پڑے گا جو وہ دہلی سے اب تک ہر جگہ کررہی ہے۔
ایک طرف مودی جی یعنی ملک کے وزیر ا عظم اور اپنی پارٹی کے سب کچھ چین کی بانسری بجا رہے ہیں کہ ہم جیت چکے اور اب اترپردیش میں ہم حکومت بنائیں گے۔اس لیے کہ اس بار اترپردیش والوں نے ووٹ نہیں دئے ہیں بلکہ ۱۵ برس کے مظالم جو ان پر باری باری ملائم سنگھ، مایاوتی اور اکھلیش سنگھ نے کئے ہیں ان کا بدلہ لیا ہے اور سبکا صفایا کردیا ہے اور دوسری طرف پروانچل جہاں مسلمانوں کی تعداد اور خاص طور پر برقع پوش خواتین کی تعداد کئی وجوہ سے کم ہے وہاں کی مٹھی بھر برقع پوش خواتین کے چہرہ سے نقاب اتارنے کے لیے الیکشن کمیشن سے فریاد کی جارہی ہے کہ وہ جو دوچار لاکھ برقع میں دشمن فوج آرہی ہے اس میں ہی کچھ کمی ہوجائے۔ 
۲۰۱۴ء کے لوک سبھا کے الیکشن میں ہم نہیں مان سکتے کہ مسلمانوں نے مودی کو ووٹ نہیں دیئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندو کی طرح مسلمان بھی من موہن حکومت سے عاجز آچکے تھے۔خود ہمارا یہ حال تھا کہ ہم مودی کی مسلم دشمنی کو تو نہیں بھول سکتے تھے لیکن یہ یقین تھا کہ جو نہرو جی سے لے کر سونیا گاندھی تک کسی نے نہیں کیا اور اٹل جی اس لیے نہ کرسکے کہ وہ مکمل اکثریت میں نہیں تھے وہ سب نریندر مودی تو ضرور کردیں گے۔ سب سے اہم بات انگریزوں کے وہ قانون اور وہ مینول جو پولیس، جیل اور عدالتوں کے بارے میں ۱۸۶۰ء میں انگریزوں نے بنائے تھے ان سب سے کانگریس کے ہر مخالف کو تکلیف اٹھانا پڑی ہے۔ وہ تو تبدیل کردئے جائیں گے۔ لیکن شرم آتی ہے یہ کہتے ہوئے کہ ملک کو نہ 1947میں آزادی ملی اور نہ 2014میں جیسے پہلے انگریزوں کے غلام تھے ایسے ہی کانگریس کے رہے اور اب مودی کے غلام ہیں۔پولیس کو وہ چھوٹ آج بھی ہے کہ وہ کچھ بھی کرے اس کو سزا نہیں دی جائے گی۔ تو پھر آزادی کہاں ملی؟
بی جے پی میں یہ بحث چھڑی کہ ہم نے مسلمان کو ٹکٹ نہ دے کر ٹھیک کیا یا غلط؟ زیادہ وزیر اس حق میں تھے کہ ٹکٹ دینا چاہیے تھے۔ ونے کٹیار نے کہا کہ جب مسلمان ہمیں ووٹ دیتے ہی نہیں تو ہم ٹکٹ کیوں دیں؟ وزیر اعظم بننے کے بعد اور پہلے نریندر مودی کا نعرہ تھا اور اب بھی ہے۔سب کا ساتھ سب کا وکاس لیکن ان کے مجرم ضمیر نے ان پر دباؤ ڈالا کہ مسلمان گجرات میں کئے گئے مظالم کے بعد تمہیں معاف نہیں کریں گے۔ اس لیے انہیں ہندو سے الگ کردو اور انھوں نے ضمیر کا کہا مان لیا۔ جبکہ مسلمان نے گجرات کے مقابلہ میں دس گنا مسلمانوں کو موت کی نیند سلانے والے نہروو اندرا اور راجیو سے وقتی طور پر ناراض ہوئے اور پھر انہیں ووٹ دینے گئے۔رہی معافی کی بات تو کیا نہرو اندرا اور راجیو نے کبھی معافی مانگی؟ اور مانگ لیتے تو مسلمانوں کو کیا مل جاتا؟ ناسمجھ مودی کوسوچنا چاہیے تھا کہ کیا وہ جو ۷۰ برس حکومت کرتے رہے مسلمانوں کے رشتہ دار تھے؟اورجب وہ قتل کرنے کے بعد بھی ووٹ پاتے رہے تو تمہیں کیوں نہیں دیں گے؟
لیکن نریندر مودی نے صرف ہندوؤں کو یہ سمجھانے کے لیے اب حکومت نہرو خاندان کی طرح سیکولر نہیں ہے بلکہ اب ہندوؤں کی ایسی حکومت ہے جیسی آٹھ سو برس ہندوستان میں مسلمانوں نے کی تھی جو سیکولر نہیں تھی۔ اس میں بادشاہوں نے ہندوؤں کو بھی عہدے دئے تھے لیکن انکے حق کے لیے نہیں بلکہ ان سے کام لینے کے لیے۔ایسے ہی اب مودی سرکار ایسے مسلمانوں کو عہدے دے گی اور دے رہی ہے جو وقت آنے پر مودی کے حکم پر تلوار لے کر مسلمانوں کے مقابلہ پرآئیں اور نمک کا حق ادا کریں۔ ایسی حکومت میں ٹکٹ کیسے دیا جاسکتا ہے؟اترپردیش کے الیکشن میں جیسی فرقہ وارانہ اور نفرت پھیلانے والی تقریریں مودی نے کی ہیں ایسی کبھی نہیں کی تھیں اور یہ آخری حربہ اور حملہ ہے۔ اور ایک بھی ٹکٹ مسلمان کو نہ دے کر مودی نے سو کروڑ ہندوؤں کو یقین دلایا ہے کہ یہ ہندوؤں کی حکومت ہے جو ہندوؤں کے ذریعہ ہندوؤں کے لیے ہے۔ سیکولرازم سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔اب اس کے بعد بھی اگر اتر پردیش میں مودی کامیاب نہ ہوں تو ثابت ہوجائے گا کہ ملک سیکولر حکومت چاہتا ہے۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES