dushwari

کیسی نازبرداری اور کیسی منھ بھرائی؟

حفیظ نعمانی

پارٹیوں کے کام الگ ہوتے ہیں اور حکومتوں کے الگ۔ حیرت ہورہی ہے کہ حکومت جو نہ صرف مرکز میں ہے بلکہ ملک کے متعدد صوبوں میں بھی ہے وہ ہر اس صوبہ میں جہاں اس کی حکومت نہیں ہے۔ ایسی فضا بنا رہی ہے جسے کوئی بھی اچھے الفاظ میں یاد نہیں کرے گا۔ اُترپردیش میں رام مندر کی تعمیر اگر کوئی کرے تو اسے کون روک سکتا ہے؟ یا اس پر کون اعتراض کرسکتا ہے؟ لیکن اس زمین پر رام مندر بنانے کی بات کرنا جہاں 900 برس بابری مسجد رہی اور جس کا مقدمہ اب سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے تو قدرتی بات ہے کہ فضا میں تناؤ ہوگا جو پارٹیوں کے لئے تو عام بات ہے لیکن حکومت کے لئے اس لئے شرمناک ہے کہ ملک کی فضا کو پرامن رکھنا اور سب کا ساتھ سب کا وکاس کرنا اس کا پہلا فرض ہے۔

اب سے کچھ دنوں کے بعد بنگال میں الیکشن ہونے والے ہیں۔ اس وقت وہاں ممتا بنرجی وزیر اعلیٰ ہیں اور انہوں نے اس بائیں محاذ کو برسوں کی محنت سے اکھاڑکر اپنی ترنمول کانگریس کی حکومت بنائی ہے جس سے کانگریس بھی سر ٹکرا ٹکراکر لہولہان ہوچکی تھی۔ ممتا بنرجی انتہائی کھلے دماغ کی خاتون ہیں وہ جب کامیاب ہوئی تھیں تو انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ ان کی کامیابی میں خواتین اور مسلمانوں کا بہت بڑا حصہ ہے۔ بی جے پی پارٹی کی حیثیت سے مسلمانوں کو برداشت نہیں کرپاتی اور یہ کوئی بنگال کی ہی بات نہیں ہے بلکہ وہ مسلمانوں کا قصیدہ کہیں بھی نہیں سننا چاہتی۔ اس لئے اس نے صرف اور صرف مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لئے کام شروع کردیا ہے۔
ہندو مہاسبھا کے ایک بدباطن نے جو حضرت محمدؐ کی شان میں بکواس کی اس پر پورے ملک کے مسلمانوں کے دلوں میں آگ لگ گئی اور ہر جگہ اس کے خلاف مظاہرے ہوئے اور اسے سزائے موت دینے کا مطالبہ ہوا۔ اسی طرح 30 دسمبر کو بنگال کے مالدہ میں بھی احتجاجی مظاہرہ ہوا اور اس میں غلامانِ مصطفےٰؐبہت بڑی تعداد میں جمع ہوئے اور جیسے ٹکراؤ ہونا عام بات ہے ایسا ہی ٹکراؤ مالدہ میں بھی ہوا لیکن مسلمان اور ہندو کے درمیان نہیں بلکہ پولیس سے ٹکراؤ ہوگیا۔ جنوری کا پورا مہینہ ہوگیا لیکن حکومت کے حکم کی بناء پر یا مرکزی حکومت کو خوش کرنے کے لئے ایک چینل نے ایک خاتون کی ڈیوٹی مالدہ میں لگادی ہے۔ وہ ہر کسی سے معلوم کرتی ہیں کہ 30 تاریخ کو کیا ہوا تھا؟ اور وہ ہر کسی کی زبان سے یہ سن کر کہ کسی مسلمان نے کسی ہندو کو نہ مارا اور نہ ان سے جھگڑا کیا۔ وہ اپناسا منھ لے کر رہ جاتی ہیں۔ ایک دن وہ ایک مندر کے پھاٹک پر گئیں اور پجاری جی سے معلوم کیا کہ 30 تاریخ کو مسلمان مندر کی طرف آئے تھے؟ اور جب انہیں جواب ملا کہ کوئی مندر کی طرف نہیں آیا تو خود ہی کہہ دیا کہ یہ کالی ماں کا مندر ہے اس لئے کوئی نہ آیا ہوگا۔
وہ ان ویران کھیتوں میں بھی گئیں جہاں سرکاری ٹریکٹر افیم کی کھیتی کو برباد کررہے تھے۔ وہاں ایک داروغہ کے منھ سے نکلا ہوا یہ جملہ بہت اچھا لگا کہ ایسی کھیتی ہوتی ہے جیسی افغانستان میں ہوتی ہے اور لے دے کر انہیں صرف ایک پولیس اسٹیشن ملا جسے ہجوم نے جلا دیا تھا۔ وہاں کھڑی ہوکر وہ گھنٹہ بھر یہ کہتی رہیں کہ یہ دیکھئے اور یہ دیکھئے یہ سب اس لئے جلا دیا کہ یہاں مسلمانوں کی بداعمالیوں کے ریکارڈ رکھے تھے اور یہ سب انہیں جلانے کے لئے کیا گیا۔ جس ملک میں عوام کا غصہ میں تھانے جلانا اور پولیس سے ٹکراؤ عام بات ہے وہ مالدہ میں اتنا سنگین اس لئے ہوگیا کہ یہ مسلمانوں نے کیا تھا۔
یہ سب تو ٹی وی کی ایک رپورٹر کررہی تھی لیکن کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ ملک کے فروغ انسانی وسائل کی وزیر اسمرتی ایرانی صاحبہ وہاں جاکر بھول گئیں کہ وہ ایک بہت اہم محکمہ کی وزیر ہیں جن کی مٹھی میں ہندوؤں مسلمانوں سکھوں اور عیسائیوں کے سارے تعلیمی ادارے ہیں۔ انہوں نے بنگال حکومت کے ایک فیصلہ کو مسلمانوں کی ناز برداری قرار دے دیا۔ ممتا بنرجی نے ماحولیات کے تحفظ کے پیش نظر دُرگا ماں کی مورتیوں کے وسرجن پر پابندی لگادی تھی۔ وہ ندیوں کی آلودگی روکنا چاہتی ہیں۔ یہ ایسا ہی فیصلہ ہے جیسا مہاراشٹر کی حکومت گنیش کی مورتیوں کو سیرانے کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ اس لئے کہ مورتیوں کو خوبصورت بنانے کے لئے زہریلے کیمیکل اور رنگ استعمال کئے جاتے ہیں جو پانی کو آلودہ کردیتے ہیں۔ حیرت اس پر ہے کہ بنگال حکومت کے اس فیصلہ کو اسمرتی ایرانی صاحبہ نے مسلمانوں کی ناز برداری سے جوڑدیں۔ وہ تو سیاست میں بہت بعد میں آئی ہیں وہ ذرا اپنے بزرگ ساتھیوں سے ہی معلوم کرلیں کہ لیکن مسلمانوں نے کہیں بھی کہا ہے کہ ہندو دُرگا ماں کی مورتیاں ندی میں نہ سیرائیں؟ انہیں شاید معلوم نہ ہوگا کہ ٹی وی کے عام ہونے سے پہلے ملک میں صرف بنگال میں دُرگا پوجا کا تہوار ہوتا تھا اور پورے شمالی ہند میں دسہرہ ہوتا تھا لیکن اب دسہرہ کے ساتھ ہی دُرگا پوجا بھی ہونے لگی اور گنیش وسرجن بھی شروع ہوگیا لیکن کہیں کے بھی مسلمانوں نے کسی بھی موقع پر اعتراض نہیں کیا۔ ندیاں آلودہ ہوجائیں گی اور ان کا پانی زہریلا ہوجائے گا تو اس پانی سے ہندو بھی مریں گے اور مسلمان بھی اور ہندو زیادہ ہیں اس لئے وہ زیادہ مریں گے تو مسلمان کیوں اعتراض کریں؟
کانگریس کوئی فیصلہ کرے تو مسلمانوں کی منھ بھرائی، ممتا بنگالی خاتون ہیں دُرگا ان کی بھی ماں ہے لیکن ندیوں کے پانی کو اگر صاف رکھنا چاہیں تو مسلمانوں کی ناز برداری کیسے ہوگئی؟ اگر اسمرتی ایرانی کو بہت تکلیف ہے تو وہ ملک کی ہر ندی کو دُرگا ماں کی مورتیوں اور گنیش جی کی مورتیوں سے پاٹ دیں۔ پھر جو انجام ہندوؤں کا ہوگا وہی مسلمانوں کا ہوگا۔
ملک کو چلانا حکومت کا کام ہے اور پارٹی کو چلانا پارٹی کے صدر اور کارکنوں کا کام ہے۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ وہ ممبروں کی تعداد کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی پارٹی ہے اس اعتبار سے اس کے صدر امت شاہ دنیا کے سب سے بڑے صدر ہوئے اور ان کا بلامقابلہ صدر چنا جانا ان کی مقبولیت اور طاقت کی علامت ہے اور اُترپردیش میں 80 میں 73 سیٹیں لوک سبھا کا جتانا ان کا کارنامہ بتایا جاتا ہے تو پھر کیوں وزیر وں کو بلاکر ان سے ایسی باتیں کہلائی جارہی ہیں جن سے مسلمان انہیں اپنا نہ سمجھیں۔ پارٹی کس کی ہے اور کون کون اسے پسند کرتا ہے یہ الگ بات ہے لیکن حکومت تو نہ ہندو ہوتی ہے نہ مسلمان اس کی زبان سے مسلمانوں کی ناز برداری یا منھ بھرائی ہرگز مناسب نہیں ہے اور وہ بھی ایک ایسی بات پر جس کا مسلمانوں سے دور کا بھی تعلق نہ ہو۔ ایسی باتوں پر جب ہم جیسے لوگ قلم چلاتے یا زبان چلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ سب اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے ہے اور ملک کو ہندو اور مسلمانوں میں تقسیم کرنے کے لئے ہے تو بہت تکلیف ہوتی ہے۔ اسمرتی ایرانی کا موضوع مسلمان نہیں ہیں بلکہ حیدر آباد یونیورسٹی میں آیا ہوا طوفان ہے۔ کیا ایک وزیر ہوتے ہوئے انہیں بنگال کے ہندوؤں سے یہ کہنا چاہئے تھا کہ اگر تم ماں دُرگا کے بھگت ہو تو انہیں چھٹی کا دودھ یاد دلادو۔ ماں دُرگا کو انتخاب کا موضوع بنانا اتنا ہی غلط ہے جتنا امت شاہ نے بہار میں گائے کو بناکر کیا تھا کیونکہ اس کا انجام بھی وہی ہوتا ہے جو بہار میں ہوا تھا۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES