Print this page

ہڑتال کے بہانےکوڑے کی سیاست کررہی ہے بی جے پی

ڈاکٹراسلم جاوید

دہلی میونسپل کارپوریشن کے ملازمین کی ہڑتال کا آج پانچواں دن ہے۔ ہڑتال کی وجہ سے دہلی کے کئی علاقوں میں گندگی کے ڈھیر لگ گئے ہیں۔ ان سب کے درمیان وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے ٹویٹ کر کے بی جے پی پر نشانہ سادھا ہے۔ وزیر اعلی کجریوال نے کہا کہ بی جے پی دہلی میں ہر جگہ کوڑے پھیلا رہی ہے، جبکہ ’’آپ‘‘ حکومت اس کو صاف کرا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی اپنی سیاست ہے۔میری عوام سے اپیل ہے کہ کوڑا صاف کرنے میں ہماری مدد کریں۔اروند کجریوال نے اپنے ایک دوسرے میں ٹویٹ میں کہا کہ میری بی جے پی اور کانگریس کے ساتھیوں سے بھی درخواست ہے حکومت کے ساتھ کوڑا صاف کرنے میں مدد کریں۔

عوام کو تکلیف نہ ہونے دیں۔ وزیر اعلی نے اپنے ایک اورٹوئٹ میں کہا کہ میونسپل ملازمین کو ان کی تنخواہ جلد ملنی چاہئے۔ انہوں نے کام کیا ہے اور اپنا حق مانگ رہے ہیں۔بھیک نہیں مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کہہ رہے ہیں کی پورے سال کا سارا پیسہ ایم سی ڈی کو دے دیاگیا ہے۔ساتھ ہی اروند کجریوال نے کہا کہ منگل کو عدالت میں سماعت ہے اور وہاں فیصلہ ہو جائے گا، دو دن کی بات ہے۔ عوام کو پریشانی نہیں ہونی چاہئے۔ اس سے پہلے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے ایک بار پھر دعوی کیا اور کہا کہ دہلی حکومت نے ایم سی ڈی کے لیے پیسہ دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی حکومت نے بارہ ماہ کی تنخواہ دے دی ہے وہ کہاں گئی۔دہلی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے موجودہ مالی سال میں تینوں کارپوریشنوں کو غیر منصوبہ بند شعبہ کے کاموں کی تکمیل کیلئے جس میں ہڑتال کرنے والے صفائی ملازمین کی تنخواہ بھی شامل ہے ، 2187 کروڑ روپے سے زیادہ کی خطیررقممہیا کرائی ہے۔ کل جس وقت بھاجپائی لبادہ میں لپٹے مظاہرین حکومت دہلی کیخلاف نعرے بازی کررہے تھے اورریاستی وزراء کے دفاتر اور گھروں کے باہرکوڑے پھینک رہے تھے ،اس وقت نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیانے الزام لگایا کہ ’’ تنخواہ میں ہونے والے گھوٹالوں ‘‘ کی وجہ سے دہلی میں بحران کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔اگراعدادشمار کی بنیاد پرحقائق جاننے کی کوشش کی جائے تومعاملہ انتہائی سنگین ہوجاتاہے اوربی جے پی کٹہرے میں کھڑی نظرآتی ہے۔غور کیجئے! ایک ایسی سیاسی جماعت جو خود دارالحکومت کے تینوں کارپوریشنوں پرقابض ہے اورمرکزمیں بھی اسی کی حکومت ہے ،یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ دہلی بلدیہ راست طورپر مرکزی وزارت داخلہ کے ماتحت ہے،یعنی ریاستی حکومت پر اس کا کلی اختیار نہیں ہے،ایل جی جو دہلی کے انتظامی امور میں سبھی سیاہ و سفید کے مالک ہیں وہ خود بی جے پی کے قریبی مانے جاتے ہیں۔ایسے میں جب موجودہ ہڑتال کے خدوخال پر نگاہ ڈالی جائے تو کئی قسم تشویش کھل کرسامنے آتی ہے اورجمہوریت پسنداہالیان دہلی کوپس منظر میں اروناچل پردیش جیسی سازش کی بوآنے لگتی ہے۔ علاج کے لئے بنگلور میں موجود وزیر اعلی اروند کجریوال نے کہا کہ انہوں نے شہر کے کوڑے صاف کرنے کیلئے ضروری ٹرکوں کی تعیناتی کی ہدایت دے دی ہے اور بی جے پی پر اس معاملے پر سیاست کرنے کا الزام لگایاہے۔وزیراعلیٰ اروند کجریوال نے ٹویٹ کیاہے کہ میں نے حکومت کو کوڑا ٹھانے کیلئے ضرورت کے مطابق ٹرکوں کی تعیناتی کے ہدایات دی ہیں۔ عوام کو تکلیف نہیں ہونی چاہئے۔ صفائی اہلکاروں کی ہڑتال کے چوتھے دن سینکڑوں بی جے پی کارکن ان کے ساتھ یکجہتی دکھانے کے لئے مظاہرے میں آگے آگے نظرآئے۔البتہ ان صفائی ملازمین میں سے کسی نے بھی بی جے پی کے وڈیروں سے یہ پوچھنے کی جرأت نہیں کی کہ ہمارے ساتھ ناانصافی کرنے والوں میں آپ بھی برا بر کے شریک ہیں پھرآپ کس منہ سے ہمارے مفادات کی بات کررہے ہیں۔
دہلی بی جے پی صدرستیش اپادھیائے کا الزام ہے کہ دہلی حکومت موجودہ بحران کیلئے راست طورپرذمہ دار ہے۔ اس نے تینوں کارپوریشنز کو مطلوبہ فنڈ مختص نہیں کئے۔ انہیں عوام کے مسئلہ کی کوئی فکر نہیں ہے۔مگرواقعہ یہ ہے کہ اس وقت عوام کومہنگائی بے روزگاری سمیت اقتصادی بحران کے جومسائل درپیش ہیں، وہ بی جے پی خصوصاًمرکزی حکومت کی دین ہے۔شاید ہی ایسا کوئی شعبہ بچاہوجس کاتعلق راست طورپر عوام کی روزمرہ کی زندگی سے ہو اور اسے کٹھن بنانے کا کوئی موقع مرکزکی مودی حکومت نے چھوڑ رکھاہو۔عوام کو مہنگائی ،بے روزگاری اورمالی مشکلات میں ڈال کر بی جے پی خود اپنے حلیفوں کوبھی ناراض کرتی جارہی ہے ۔مہنگائی اور’اچھے دن ‘کے وعدے پر شیو سینا کی بے تابی آج میڈیامیں گردش کررہی ہے۔یشونت سنہانے توکھل کرکہہ دیاہے کہ مرکزی حکومت عوام کی گنہہ گار بنتی جارہی ہے اورآئندہ انتخابات میں عوام اسے سزاضرور دیں گے۔اگر مذکورہ مسائل کے تناظر میں دہلی میں صفائی ملازمین اورکارپوریشن اہلکاروں کو ہڑتال کیلئے بی جے پی کے ذریعہ سڑک پراتار نے کا جائزہ لیاجائے توبے ساختہ یہ کہنا پڑتاہے کہ یہ ایک سیاسی منصوبہ بندی ہے اوراس کا مقصد عوام کی توجہات تقسیم کرناہے تاکہ اروناچل پردیش میں بی جے پی کے ناپاک کارناموں پر پردہ ڈالا جاسکے۔حالاں کہ دہلی میں بی جے پی کے سینئر لیڈران کی رہائش گاہوں کے ارگرد 5روز سے جاری مجرمانہ سرگر میاں اسی جانب اشارہ کررہی ہیں کہ دہلی میں بھی اروناچل پردیش جیسی آمریت کے تانے بانے بننے کی درپردہ سازش انجام دی جارہی ہے۔کل ملاکر صفائی ملازمین کی ہڑتال کے پیچھے جم کر سیاست شروع ہو گئی ہے۔ دہلی حکومت نے گزشتہ دنوں پریس ریلیز جاری کر دعوی کیا تھا کہ اس نے شمالی ایم سی ڈی کو 893 کروڑ، مشرقی ایم سی ڈی کو 465 کروڑ، جنوبی ایم سی ڈی کو 830 کروڑ روپے پہلے ہی جاری کر دیاتھا،پھریہ ساری رقم کس کی تجوری میں گئی اس کا حساب تینوں کارپوریشنوں کو دینا چاہئے ۔اگر کوئی اس کا حساب مانگتاہے تو اس میں برائی کہاں سے آ گئی ۔مگربدقسمتی سے تینوں کارپوریشنوں پر بی جے پی کاقبضہ ہے اورحساب کتاب کے معاملے میں اس کی شفافیت کا اندازہ ڈی ڈی سی اے اورویاپم جیسے گھوٹالوں سے لگایا جاسکتاہے۔سابقہ رقم کا حساب دینے کی بجائے الٹے بی جے پی کجریوال حکومت پر ایم سی ڈی ملازمین کی تنخواہ روکنے کا الزام لگا رہی ہے۔ تینوں ایم سی ڈی کے ملازمین کا الزام ہے کہ انہیں چار ماہ سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔ ملازمین کا الزام ہے کہ مرکز اور کیجریوال کے درمیان جاری رسہ کشی میں وہ فٹ بال بن گئے ہیں۔حالاں کہ صفائی ملازمین یہ ماننے کو قطعی تیار نہیں ہیں کہ وہ خود بی جے پی کا آلہ کار بنے ہوئے ہیں اورآل انڈیا مزدورمہاسنگھ خود بی جے پی کی سب بڑی معاون تنظیم ہے۔قابل ذکر ہے کہ سابق وزیر اعلی شیلا دکشت نے 2012 میں میونسپل کارپوریشن کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ جنوبی میونسپل، شمالی اور مشرقی میونسپل۔ تقسیم کے بعد ہی شمالی اور مشرقی میونسپل کارپوریشن میں پیسوں کا بحران شروع ہو گیاتھا۔اگر بی جے پی کارپوریشن ملازمین کی سچی ہمدرد ہوتی تو اسے دیگرمدات کو نظرانداز کرکے ملی ہوئی رقم سے پہلے ملازمین کی تنخواہ اداکرنی چاہئے ،اس لئے کہ اس سے لاکھوں کارپوریشن ملازمین کے چولہے جڑے ہوئے ہیں۔مگراپنے عیش وعشرت اوراقتدار کے غرور میں چور بی جے پی میئروں کواس جانب توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔یہ تلخ سچائی ہڑتال کرنے والے ملازمین کو سمجھنی چاہئے تب ہی ان کے مسائل ہونے کی توقع کی جائے گی،ورنہ بی جے پی والے ان کے ہاتھوں سے اسی طرح کوڑے پھینکواتے رہیں گے اوردلی آلودہ ہوتی رہے گی،اس قسم کی حرکتوں سے ہڑتالیوں کو عوام کی حمایت قطعی نہیں ملے گی۔