Print this page

آج کی خواتین کیلئے خود اعتمادی کیوں ضروری؟

عارف عزیز(بھوپال)

ہم تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ہر دور میں مردوں کے شانہ بشانہ خواتین نے عزم و حوصلے اور طاقت و بہادری کے ناقابلِ فراموش کام انجام دئے ہیں۔ رضیہ سلطان، چاند بی بی، مہارانی لکشمی بائی، بیگم حضرت محل، اہلیہ بائی، رانی درگاوتی، نواب شاہ جہاں بیگم اور سلطان جہاں بیگم وغیرہ تو اِسکی بڑی مثالیں ہیں لیکن اِن کے علاوہ بھی ایسی کتنی ہی خواتین ہیں جنہوں نے ناموافق حالات کے باوجود تاریخ پر اپنے نقوش ثبت کئے ہیں۔

آزادی کے بعد کی جمہوری آب و ہوا میں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ خواتین کا ہندوستانی معاشرہ میں کردار اور مستحکم ہوتا، اُنہیں سیاسی و سماجی میدانوں میں آگے بڑھنے کے مواقع ملتے لیکن جمہوری نظام کے قیام سے آج تک عملی سیاست اور سماجی خدمت کے شعبوں میں خواتین کی شرکت کافی محدود رہی ہے۔ سروجنی نائیڈو اور ہیرابائی ایسی اول خواتین ہیں جن کو کافی کوشش کے بعد الیکشن لڑنے کے لئے راضی کیا گیا چنانچہ سروجنی نائیڈو ملک کی پہلی خاتون گورنر بنیں اور جواہر لال نہرو کی بہن وجے لکشمی پنڈت ہندوستان کی پہلی خاتون سفیر کے عہدہ پر فائز ہوئیں۔ بعد کے عرصہ میں جو الیکشن ہوتے رہے اُن میں خواتین امیدواروں کی تعداد الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مرتب اعداد و شمار کے مطابق درج ذیل رہی۔
ہندوستان کی پہلی پارلیمنٹ کے الیکشن میں ۵۱ خاتون امیدواروں نے حصہ لیا، ۱۹۵۷ء میں ۷۰ خاتون امیدواروں میں ۲۷ الیکشن میں کامیاب ہوئیں، ۱۸۶۲ء میں ۶۵ اور ۱۹۴۷ء میں ۴۴ خواتین الیکشن میں کھڑی ہوئیں جن میں سے علی الترتیب ۳۳ اور ۳۸ کامیاب ہوئیں، ۱۹۷۱ء کی پارلیمنٹ کیلئے خاتون امیدواروں کی تعداد تو ۸۶ تھی لیکن کامیاب صرف ۲۱ ہوئیں، ۱۹۷۷ء میں ۷۰ خواتین الیکشن لڑا جن میں کامیابی ۱۹ کو ملی، ۱۹۸۲ء میں جنرل الیکشن میں ۱۴۲ خواتین میدان میں تھیں جن میں سے ۲۸ منتخب ہوئیں، ۱۹۸۴ء میں ۱۶۱ میں ۴۲ منتخب ہوکر لوک سبھا میں پہنچیں جبکہ ۱۹۸۹ء میں ۱۹۸ خواتین نے قسمت آزمائی اور صرف ۲۵ کو سرخروئی نصیب ہوئی۔ ۱۹۹۱ء میں ۳۲۵ خاتون امیدواروں میں ۳۵ ہی منتخب ہوسکیں بعد کے تین پارلیمانی الیکشن میں بھی کم و بیش یہی صورت حال رہی تاہم آزادی کے ۶۶ برس کے دوران اندرا گاندھی، سچیتاکرپلانی، جے للتا،ممتا بنرجی مایاوتی، اومابھارتی اور پرتبھا پاٹل جیسی خواتین نے سیاست کو زینہ بنا کر عروج کی منزلیں طے کیں۔
مذکورہ خواتین کے نام یہ ظاہر کرنے کے لئے کافی ہیں کہ عملی سیاست میں بحیثیت مجموعی خواتین کی شرکت میں بتدریج اضافہ ہوا تاہم یہ خاطر خواہ نہ رہا، اِس کی وجہ پُرانے نظریات پر مشتمل ہمارا معاشرتی نظام ہے جس میں سیاست کو اچھا نہیں سمجھا جاتا اور اُس میں شریف گھرانے کی عورتوں کا داخلہ تو ناپسندیدہ عمل ہی شمار ہوتا ہے۔ حالانکہ آج کے روز افزوں ترقی کے دور سے یہ نظریہ میل نہیں کھاتا، خاص طور پر اِس لئے بھی کہ جس طرح کوئی پرندہ ایک پر سے پرواز نہیں کرسکتا، اُسی طرح کوئی بھی معاشرہ عورت کو نظر انداز کرکے ترقی کی راہ پر آگے نہیں بڑھ سکتا، کیونکہ عورت معاشرہ کے پرندے کا دوسرا پر ہے، جب تک عورت کو ترقی کے ہمہ جہتی مواقع میسر نہیں آئیں گے یا اُسے سماجی سرگرمیوں میں مساوی حصہ نہیں ملے گا، ہمارا معاشرہ مثالی نہیں بن سکتا۔ اگر ملک کو واقعی ترقی کرنا ہے تو خواتین کی ملک میں ۴۸ فیصد آبادی کو اُس کا جائز حصہ دینا ہوگا، اُس میں خود اعتمادی، خود کفالتی اور خود انحصاری کا احساس جگانا ہوگا، خود اعتمادی کی یہ ضرورت وقت کے ساتھ اِس لئے بھی بڑھ رہی ہے کہ آج خواتین زندگی کے مختلف شعبوں میں کام کرتی نظر آتی ہیں، اگر اُن میں خود اعتمادی نہیں ہوگی تو نہ وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرسکیں گی، نہ حوصلہ و ہمت سے پیش رفت ہی کرپائیں گی، یہ خود اعتمادی اپنے آپ پر اور اپنی صلاحیتوں پر یقین کرکے کوشش و محنت کرنے سے حاصل کی جاسکتی ہے۔
آج کی خواتین کا دائرہ عمل اُن کے گھر کی چہار دیواری ہو یا کھُلی پڑی دنیا کی بسیط فضا، دونوں ہی میں کام کرنے اور آگے بڑھنے کے لئے خود اعتمادی کی ضرورت بڑھتی جارہی ہے اور اُسے محنت، لگن، قابلیت سے جلا ملتی ہے۔ آج کی ہنگامی زندگی کا ہر دن غیر متوقع سانحوں سے دو چار ہوتا ہے، گھر ہو یا باہر حادثات ہونے میں دیر نہیں لگتی، نہ کوئی واقعہ پہلے سے آگاہ کرکے آتا ہے، بارہا خواتین کو تنِ تنہا اُن کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ جس میں سب سے زیادہ اُن کی خود اعتمادی معاون و مددگار ثابت ہوتی ہے۔ عام طور پر شہر میں رہنے والی عورتیں پڑھی لکھی ہوتی ہیں، کام کرتے کرتے اُنہیں تجربہ بھی حاصل ہوجاتا ہے، ایسی عورتوں کے دل میں یہ جذبہ پیدا ہونا فطری ہے کہ وہ اپنی صلاحیت کا نہ صرف اپنے لئے بلکہ دوسروں کے لئے بھی استعمال کریں، ایسی خواتین کی تعداد بھی اب معاشرہ میں بڑھتی جارہی ہے جو گھریلو زندگی کے ساتھ ملازمت بھی کر رہی ہیں، اِس طرح اُن کی ذمہ داری دوہری اور تہری ہوجاتی ہے، ملازمت کے پیشہ میں اجنبی و نامانوس ماحول میں اپنے افسروں، ساتھیوں یا ماتحتوں کے ساتھ کام کرنا، دوسرے اپنے گھر، شوہر، بچوں اور عزیزوں سے متعلق ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے انجام دینا پڑتا ہے، ایسی خواتین کی تعداد دن بدن بڑھتی جارہی ہے لیکن خوشگوار زندگی اُن ہی خواتین کو میسر آتی ہے جو خود اعتمادی کی دولت سے مالا مال ہوتی ہیں۔
خواتین میں خود اعتمادی کے حصول کا انحصار بہت کچھ اُن کے خاندانی پس منظر اور گھریلو تربیت پر بھی ہوتا ہے۔ جہانتک تعلیم کا سوال ہے تو وہ اُنہیں پیش آئند مسائل کو حل کرنے کا سلیقہ عطا کرتی ہے اور حالات سے مقابلہ کرنے کی برداشت بھی بڑھا دیتی ہے لیکن خود اعتمادی پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر کا حوصلہ خود بڑھائیں، ایسی خواتین اپنے ساتھ اپنے شوہروں اور بچوں کو بھی خود اعتماد بنانے میں مددگار بن جاتی ہیں اور گھر و باہر کی ذمہ داریاں بخوبی نبھاکر دوسروں کے لئے مثال ثابت ہوتی ہیں اور ایسے نشان چھوڑ جاتی ہیں جو آنے والوں کے لئے مشعلِ راہ ثابت ہوتے ہیں۔