dushwari

حیدرآباد تا بہ قیامت رہے قائم

ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

عظیم تر بلدیہ حیدرآباد کے انتخابات 2فروری کو ہونے والے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتیں کارپوریشن پر قبضہ یا اقتدار کے لئے کوشاں ہیں۔ گذشتہ انتخابات جب ہوئے تھے تب حیدرآباد متحدہ آندھراپردیش کا دارالحکومت تھا اب یہ تلنگانہ اور آندھراپردیش کا مشترکہ طور پر دارالحکومت ہے۔ گذشتہ انتخابات میں کانگریس اور مجلس اتحادالمسلمین میں انتخابی مفاہمت تھی۔ ٹی آر ایس کی کچھ زیادہ طاقت نہیں تھی‘ اب کانگریس اور مجلس ایک دوسرے کے حریف ہیں۔ یوں تو ٹی آر ایس نے بھی اپنے امیدوار میدان میں اُتارے ہیں تاہم یہ مجلس کی حلیف ہے۔ بی جے پی، ٹی ڈی پی اتحاد اصل حریف ہے جس کے نتائج چونکا دینے والے ہوسکتے ہیں۔

یوں تو بعض ٹی وی چیانلس کے اگزٹ پول کے مطابق ٹی آر ایس کو 50اور 60 کے درمیان‘ مجلس 40 اور 45 کے درمیان ٹی ڈی پی بی جے پی اتحاد کو بھی 40 کے لگ بھگ نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ ٹی آر ایس نے 100 نشستوں پر کامیابی کی امید ظاہر کی ہے۔ مےئر اور ڈپٹی مےئر کا عہدہ بھی حاصل کرنے کے عزائم کا اظہار کیا ہے۔
حیدرآباد میونسپل کارپوریشن جس کی تاریخ 147 سال قدیم ہے۔ 1869ء میں حیدرآباد اور پانچ مضافات پر مشتمل مجلس بلدیہ حیدرآباد یا میونسپل کارپوریشن آف حیدرآباد تشکیل دیا گیا تھا جس کے نگران کوتوال بلدیہ (کمشنر) سالار جنگ اول تھے۔ اس وقت حیدرآباد کا رقبہ 55 مربع کیلو میٹر اور آبادی ساڑھے تین لاکھ تھی۔ 1921ء میں حیدرآباد کا رقبہ 84مربع کیلو میٹر تک وسیع ہوگیا۔ 1933ء میں پہلا کارپوریشن تشکیل دیا گیا۔ 1937ء میں جوبلی ہلز اور بنجارا ہلز پر مشتمل علیحدہ جوبلی ہلز میونسپلٹی تشکیل دی گئی تھی۔ 1950ء میں میونسپل کارپوریشن آف حیدرآباد اور سکندرآباد کاپوریشن تشکیل دےئے گئے۔ 1956ء میں آندھراپردیش کی تاسیس کے ساتھ دونوں کارپوریشنس MCH میں ضم کردےئے گئے۔ اپریل 2007ء میں گریٹر حیدرآباد میونسپک کارپوریشن تشکیل دیا گیا جس میں 12میونسپالٹیز، ایل بی نگر، گڈی انارم، اپل کلاں، ملکاجگیری، کاپرا، الوال، قطب اللہ پور، کوکٹ پلی، راجندر نگر، رام چندرا پورم اور پٹنچیرو، اور 8پنچایتوں شمس آباد، ساتم رائی، جل پلی، مامڑپلی، منکھل، الماس گوڑہ، شاردا نگر اور روی رالا شامل کئے گئے۔ اس طرح رنگاریڈی ڈسٹرکٹس کے 10، گولکنڈہ سے ایک (بھونگیر) میونسپالٹیز اور میدک سے دو میونسپالٹیز GHMC میں شامل ہیں۔ اب گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے رقبہ 650مربع کیلو میٹر ہے اور آبادی 67لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ اسے پانچ زونس ساؤتھ، ایسٹ، ویسٹ، نارتھ اور سنٹرل زون‘ 17سرکلس اور 150 وارڈس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر وارڈ کی آبادی اوسطاً 37ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ گریٹر حیدرآباد، ہائی ٹیک سٹی، ملٹی نیشنل کمپنیز کی وجہ سے اہمیت کا حامل ہوگیا ہے۔ یہ بین الاقوامی اہمیت کا حامل شہر ہے جہاں کا اےئرپورٹ دنیا کے چند بڑے ایرپورٹس میں سے ایک ہے۔ موسیٰ ندی کے پار والا علاقہ جسے پرانا شہر کہتے ہیں‘ اپنے پانچ سو سالہ تاریخ، تہذیب، اور ثقافت پر آئینہ دار ہے۔ چوں کہ یہ شہر 420 برس پہلے اس وقت کی آبادی کے لحاظ سے تعمیر کیا گیا تھا۔ وقتاً فوقتاً تعمیر، توسیع اور تزئین ضرور ہوئی مگر گنجان آبادی اور مزید توسیع و کشادگی کی گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے مسائل حل طلب ہے۔ نیا شہر یا حسین ساگر جھیل کے اس پار کا علاقہ جو آصف جاہی دور میں آباد ہوا انگریزوں نے اسے اپنے معیار اور مقاصد کے ساتھ تعمیر کیا اور حالیہ عرصہ کے دوران حیدرآباد کے قرب و جوار کے مضافات میں جو علاقہ آباد ہوئے اسے بین الاقوامی معیار کے مطابق تعمیر کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حیدرآباد و سکندرآباد اور ہائی ٹیک سٹی یا مضافاتی علاقوں کا فرق واضح نظر آتا ہے۔ ان تمام حقائق کے باوجود حیدرآباد کے بارے میں بیرون حیدرآباد یہ تاثر عام ہے کہ یہ اب بھی ایک ایسا شہر ہے جہاں کے مسلمان خوشحال، تعلیم یافتہ، سیاسی شعور کے حامل ہیں۔ اور یہ سچ بھی ہے۔ حیدرآباد ایک اسلامی مملکت رہا۔ 1948ء میں انڈین یونین میں انضمام، پولیس ایکشن کے کرب ناک دور سے گذرنے کے بعد یہاں کے مسلمانوں کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے لئے 25برس لگ گئے۔ اب بھی نہیں کہا جاسکتا کہ حیدرآبادی مسلمانوں کی اکثریت مرفع حال ہے۔یہ ضرور کہا جاسکتاہے کہ مرفع حال نہ ہونے کے باوجود یہ اپنی ذات میں مگن اور حالات سے مطمئن ہے۔ اس لئے کہ یہ ابھی ماضی میں جیتے ہیں۔ حال سے بے پرواہ اور مستقبل سے نظریں چرائے ہوئے ہیں۔آرام پسندی، کاہلی، وقت کی ناقدری، جھوٹی شان و شوکت کی عادی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب کچھ چھین کر دوبارہ نوازا ہے۔ تب بھی وہ اس سے پوری طرح فیض یاب ہونے کے اہل نہیں۔
چند خامیوں، کوتاہیوں اور کمزوریوں کے باوجود حیدرآبادی مسلمانوں نے تعلیمی میدان میں ترقی کی، سیاسی طور پر مستحکم ہوئے اور آج ہندوستان بھر میں حیدرآبادی مسلمانوں کو قدرکی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اور یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ حیدرآبادی مسلمانوں کے سیاسی استحکام کیلئے مجلس اتحادالمسلمین نے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ آج سیاسی اختلافات ضرور ہیں مگر کوئی بھی مجلس کی خدمات سے انکار نہیں کرسکتا۔ مجلس اور کانگریس کو حیدرآباد کارپوریشن میں اقتدار ملا۔ اگر حیدرآباد خاطر خواہ ترقی نہیں کرسکا تو اس کے لئے دونوں ہی جماعتیں ذمہ دار ہوسکتی ہیں جبکہ تلگودیشم نے بھی کارپوریشن پر حکمرانی کی۔ اس کا مےئر رہا۔ اب کس نے کیا کیا ، اس پر بحث کرنے سے کچھ حاصل نہیں کون کیا کرسکتا ہے ؟ یہ دیکھنا ہے۔ ٹی آر ایس حکمراں جماعت ہے‘ مجلس سے مفاہمت ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر اپنی ہر تقریر میں نظام کے دور حکومت کا ذکر فخر سے کرتے ہیں۔ انہوں نے جناب محمود علی کو ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز کیا اور جناب محمود علی علی الاعلان کہتے ہیں کہ ٹی آر ایس کا دور نظام کے دور حکومت کا احیاء ہے۔ قول اور فعل میں کس قدر یکسانیت ہوگی آنے والے کل اس کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ کارپوریشن میں کس جماعت کا اقتدار ہوگا اس کی اہمیت حیدرآبادی مسلمانوں کو اس لئے ہے کہ حیدرآباد کی تہذیب ثقافت، کا تحفظ سب سے اہم سوال ہے۔ ماضی میں بعض جماعتوں نے حیدرآباد کے ثقافتی تہذیبی اور تاریخی ورثے کو مسخ کرنے کی کوشش کی‘ اب بھی بعض جماعتوں کی یہی کوشش ہے کہ حیدرکرارؓ کے نام سے موسوم اس شہر یہاں کی جھیلوں، تالابوں اور اہم سڑکوں کے نام بدل دےئے جائیں اگر مسلم نمائندوں کی قابل لحاظ تعداد کارپوریشن میں ہو تو ان کوششوں کو ناکام بنایا جاسکتا ہے۔ اگرچہ کہ مجلس اور کانگریس طویل عرصہ سے کارپوریشن میں اقتدار میں رہے ہیں‘ اگر نہ بھی رہے تو ان کے ارکان کی قابل لحاظ تعداد ہمیشہ منتخب ہوتی رہی اس کے باوجود گذشتہ 40سال کے دوران حیدرآباد کو غیر محسوس طور پر آہستہ آہستہ ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں کا شہر بنایا جارہا ہے۔ وکٹری پلے گراؤنڈ چادر گھاٹ کا علاقہ تیس چالیس برس پہلے کیا تھا آج کیا ہوگیا۔ شہر کے اہم مقامات‘ چوراہوں کو کس طرح سے مذہبی مقامات میں تبدیل کردیا گیا۔ کس طرح سے سرکاری پارکس، فلائی اوورس میں بھی مخصوص مذہب کی عبادت گاہیں تعمیر کردی گئیں۔
گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابی نتائج چاہے کچھ ہوں‘ کوئی بھی جماعت اقتدار پر آئے، دوسری جماعتوں کو تو حیدرآباد کی اصل تاریخ سے زیادہ دلچسپی نہیں ہوگی مسلم اور سیکولر جماعتوں کے نمائندوں سے کم از کم یہ ا مید کی جاسکتی ہے کہ وہ حیدرآباد کے اُس کردار کو برقرار رکھنے کیلئے جدوجہد کرتے رہیں گے جس کے لئے حیدرآباد ساری دنیا میں مشہور ہے۔ کبھی داغ نے کہا تھا:
حیدرآباد تا بہ قیامت رہے قائم
یہی اے داغؔ مسلمانوں کی اک بستی ہے
حیدرآباد کی تاریخ، تہذیب اور ثقافت کے ساتھ ساتھ یہاں کی عوامی بلدی مسائل کی یکسوئی بہت زیادہ ضروری ہے۔ اچھی پکی سڑکیں‘ اگر تعمیر کی بھی جاتی ہیں تو کبھی کیبلس کیلئے تو کبھی کسی اور مقصد کے لئے ان کی کھدائی کرکے ویسا ہی چھوڑ دیا جاتا ہے۔ تعمیراتی ساز و سامان کا ذخیرہ سڑکوں، فٹ پاتھس اور کبھی کسی کے بھی گھر کے سامنے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ صفائی ستھرائی کے انتظامات ناقص ہیں‘ بیشتر مسلم علاقوں میں شہر بھر کا کچرا ڈال دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے مسلم محلوں میں مچھروں کی کثرت اور وبائی امراض کی شکایت عام ہے۔ پرانے شہر کے بیشتر علاقوں کے فٹ پاتھس پر ناجائز قبضے ہیں‘ پیدل راہرو کو سڑکوں کے درمیان سے چلنا پڑتا ہے کیوں کہ سڑکوں پر بھی قبضے عام ہیں۔ اہم علاقوں میں ڈرینج کی مین ہولس غائب نظر آتے ہیں ان سے گندا پانی اُبلتا رہتا ہے۔ ہر محلہ میں آوارہ کتوں کا راج ہے‘ کتنے پکڑنے کے لئے گاڑیاں دن میں لائی جاتی ہیں جب کتے نظر نہیں آتے۔ اسی طرح بعض علاقوں میں بندروں کی کثرت ہے جن سے عوام کو خطرات لاحق ہیں۔ سرکاری ہاسپٹلس میں صفائی، ستھرائی نہ ہونے کے برابر‘ انفراسٹرکچر، ادویات کا فقدان، اس کے علاوہ غیر مجاز ادھوری تعمیرات ریگولرائیزیشن کے وعدے اور اس میں رکاوٹیں اور بھی کئی مسائل ہیں ان کی یکسوئی جنگی خطوط پر کی جانی چاہئے۔ اس مرتبہ انتخابات میں اکثر و بیشتر نئے چہرے نظر آرہے ہیں اس لئے یہ کہا نہیں جاسکتا کہ کون کیا کرے گا مگر جو بھی امیدوار سامنے ہے اس کے پس منظر سے لوگ واقف رہتے ہیں‘ اس کے اخلاق و کردار اور تعلیمی قابلیت کی بنیاد پر اسے اپنے ووٹ کا حقدار بنانا چاہئے۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES